صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب تشميت العاطس وكراهة التثاؤب:
باب: چھیکنے والے کا جواب اور جمائی کی کراہت۔
ترقیم عبدالباقی: 2991 ترقیم شاملہ: -- 7486
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ: الَّذِي لَمْ يُشَمِّتْهُ عَطَسَ فُلَانٌ فَشَمَّتَّهُ وَعَطَسْتُ أَنَا فَلَمْ تُشَمِّتْنِي، قَالَ: " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَإِنَّكَ لَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ "،
حفص بن غیاث نے سلیمان تیمی سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی تو آپ نے ایک آدمی کو چھینک کی دعا دی اور جس کو چھینک کی دعا نہ دی تھی اس نے کہا: فلاں کو چھینک آئی تو آپ نے اسے دعا دی اور مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے دعا نہ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے الحمد اللہ کہا تھا اور تم نے الحمد اللہ نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7486]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو چھینک کی دعا نہ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کو چھینک کی دعا نہ دی تھی اس نے کہا: فلاں کو چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے دعا دی اور مجھے چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس پر دعا نہ دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہا تھا اور تم نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» نہیں کہا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2991
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2991 ترقیم شاملہ: -- 7487
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ابوخالد احمر نے سلیمان تیمی سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مطابق روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7487]
امام صاحب رحمہ اللہ کو ایک اور استاذ نے یہی حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7487]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2991
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة