صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب في تفسير آيات متفرقة
باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 3023 ترقیم شاملہ: -- 7541
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ " وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93، فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ: لَقَدْ أُنْزِلَتْ آخِرَ مَا أُنْزِلَ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ "،
معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے مغیرہ بن نعمان سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: کہ اہل کوفہ کا اس آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا "جس شخص نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے" چنانچہ میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس (آیت) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت آخر میں نازل ہوئی پھر کسی چیز (قرآن کی کسی دوسری آیت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان) نے اس کو منسوخ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7541]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اہل کوفہ کا اس آیت ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ [سورة النساء: 93] ”جس شخص نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے“ کے بارے میں اختلاف ہو گیا، چنانچہ میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا اور ان سے اس (آیت) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت آخر میں نازل ہوئی، پھر کسی چیز نے اس کو منسوخ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7541]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3023
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3023 ترقیم شاملہ: -- 7542
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَ، وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ إِنَّهَا لَمِنْ آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ.
محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے یہ آیت آخر میں اترنے والی آیات میں اتری۔ اور نضر کی روایت میں ہے یہ (آیت) یقیناً ان آیتوں میں سے ہے جو آخر میں اتریں۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7542]
امام صاحب یہ روایت تین اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، ابن جعفر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ آخر میں اترنے والی آیات میں اتری ہے، اور نضر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے: ”یہ آخر میں اترنے والی آیات میں سے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7542]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3023
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3023 ترقیم شاملہ: -- 7543
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: " أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى، أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ، وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68، قَالَ: نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ ".
منصور نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن ایزدی نے کہا: کہ میں (ان کے لیے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان دو آیتوں کے متعلق دریافت کروں: "اور جو شخص جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر دے، اس کی سزا جہنم ہے اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔" میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ اور اس آیت کے متعلق (پوچھا) "اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ حق کے بغیر کسی شخص کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کو اللہ نے حرام کیا ہے۔" تو انہوں نے کہا: مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7543]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں، مجھے عبد الرحمٰن بن ابزی رحمہ اللہ نے حکم دیا کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دو آیات کے بارے میں دریافت کروں: ﴿اور جو شخص جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر دے، اس کی سزا جہنم ہے اور اس میں ہمیشہ رہے گا﴾ [سورة النساء: 93] میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا، اور اس آیت کے متعلق (پوچھا): ﴿اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ حق کے بغیر کسی شخص کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کو اللہ نے حرام کیا ہے﴾ [سورة الفرقان: 68] تو انہوں نے کہا: یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7543]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3023
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3023 ترقیم شاملہ: -- 7544
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِمَكَّةَ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى قَوْله مُهَانًا سورة الفرقان آية 68 - 69، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: وَمَا يُغْنِي عَنَّا الْإِسْلَامُ، وَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ، وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ، وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا سورة الفرقان آية 70 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ وَعَقَلَهُ، ثُمَّ قَتَلَ فَلَا تَوْبَةَ لَهُ ".
ابومعاویہ، شیبان نے منصور بن معتمر سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: یہ آیت: "جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے" سے لے کر "ذلت کے عالم میں (ہمیشہ رہے گا)" تک مکہ میں نازل ہوئی۔ مشرکوں نے کہا: ہمیں اسلام کس بات کا فائدہ دے گا، جبکہ ہم اللہ کے ساتھ (دوسروں کو) شریک بھی ٹھہرا چکے ہیں اور اللہ کی حرام کردہ جانوں کو قتل بھی کر چکے ہیں اور فواحش کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی: "سوائے اس شخص کے جس نے توبہ کی ایمان لایا اور نیک عمل کیے" آیت کے آخری حصے تک۔ انہوں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہ) نے کہا: لیکن جو شخص اسلام میں داخل ہو گیا اور اس کو سمجھ لیا پھر اس نے (عمداً کسی مومن کو) قتل کیا تو اس کے لیے کوئی توبہ نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7544]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ﴾ [سورة الفرقان: 68] ، انہوں نے اس آیت کو لفظ «مُهَانًا» [سورة الفرقان: 69] تک پڑھا، اس پر مشرکوں نے کہا: ہمیں اسلام لانے کا کیا فائدہ (وہ عذاب سے ہمیں کیسے بچائے گا) ہم تو اللہ کے ساتھ شریک کر چکے ہیں اور اس نفس کو بھی ہم نے قتل کیا ہے جس کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اور بے حیائیوں کا بھی ہم نے ارتکاب کیا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حصہ نازل فرمایا: ﴿إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾ [سورة الفرقان: 70] کے آخر تک، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رہا وہ مسلمان جو مسلمان ہو گیا اور اسلام کو سمجھ لیا اور اچھے عمل کیے، پھر قتل کا ارتکاب کیا، تو اس کی توبہ کا اعتبار نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7544]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3023
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3023 ترقیم شاملہ: -- 7545
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ " أَلِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ، وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا سورة النساء آية 93. وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ هَاشِمٍ، فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ إِلا مَنْ تَابَ سورة الفرقان آية 70 ".
عبداللہ بن ہاشم اور عبدالرحمٰن بن بشر عبدی نے مجھے حدیث بیان کی دونوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے قاسم بن ابی بزہ نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا جس شخص نے کسی مومن کو عمداً قتل کر دیا اس کے لیے توبہ (کی گنجائش) ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں (سعید بن جبیر نے) کہا: پھر میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی: "وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے" آیت کے آخر تک انہوں نے کہا: یہ مکی آیت ہے اس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کر دیا: "اور جو کسی مومن کو عمداً قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔" [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7545]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا جس شخص نے کسی مومن کو عمداً قتل کر دیا اس کے لیے توبہ (کی گنجائش) ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ (سعید بن جبیر نے) کہا: پھر میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ﴾ [سورة الفرقان: 68] ”وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے“ آیت کے آخر تک، انہوں نے کہا: یہ مکی آیت ہے، اس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کر دیا ہے: ﴿وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا﴾ [سورة النساء: 93] ”اور جو کسی مومن کو عمداً قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا“۔ ابنِ ہاشم کی روایت میں ہے، سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سورہ فرقان کی یہ آیت سنائی: «إِلَّا مَنْ تَابَ» [سورة الفرقان: 70] ”مگر جس نے توبہ کی“۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7545]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3023
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة