صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
27. باب طهارة جلود الميتة بالدباغ:
باب: مردار کی کھال رنگنے سے پاک ہو جانے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 363 ترقیم شاملہ: -- 806
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " تُصُدِّقَ عَلَى مَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ بِشَاةٍ، فَمَاتَتْ، فَمَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلَّا أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا، فَدَبَغْتُمُوهُ، فَانْتَفَعْتُمْ بِهِ؟ فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، فِي حَدِيثِهِمَا، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی، وہ مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتارا، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے!“ لوگوں نے بتایا: یہ مردار ہے۔ آپ نے فرمایا: ”بس اس کا کھانا حرام ہے۔“ ابوبکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس، عن میمونہ کہا (سند میں روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگے میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 806]
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ، ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ، عمرو ناقد رحمہ اللہ اور ابن ابی عمر رحمہ اللہ سب نے، ابن عینیہ رحمہ اللہ سے روایت سنائی، یحییٰ رحمہ اللہ نے کہا، ہمیں سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے، عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بکری مردہ پائی جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ، لونڈی کو صدقہ میں دی گئی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟“ انہوں نے کہا یہ مردہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس اس کا کھانا حرام ہے۔“ ابو بکر رحمہ اللہ اور ابن ابی عمر رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں «عن ابن عباس، عن میمونہ» کہا (روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بجائے میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 806]
ترقیم فوادعبدالباقی: 363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 363 ترقیم شاملہ: -- 807
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَدَ شَاةً مَيْتَةً، أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا؟ قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ: إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا "،
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور ابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی، وہ مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتارا، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے!“ لوگوں نے بتایا: یہ مردار ہے۔ آپ نے فرمایا: ”بس اس کا کھانا حرام ہے۔“ ابوبکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس، عن میمونہ کہا (سند میں روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگے میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 807]
مجھے ابو طاہر رحمہ اللہ اور حرملہ رحمہ اللہ نے ابن وہب رحمہ اللہ کے واسطہ سے یونس رحمہ اللہ کی ابن شہاب رحمہ اللہ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت سنائی کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی کو ایک بکری صدقہ میں ملی تھی، وہ مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اس کا چمڑا کیوں نہیں اتارا تو تم اسے رنگ لیتے اور اس سے تم فائدہ اٹھا لیتے؟“ انہوں نے کہا: وہ مردہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس اس کا کھانا حرام ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 807]
ترقیم فوادعبدالباقی: 363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 363 ترقیم شاملہ: -- 808
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ بِنَحْوِ رِوَايَةِ يُونُسَ.
ابن شہاب کے ایک اور شاگرد صالح نے بھی اسی سند سے یونس کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 808]
حسن حلوانی رحمہ اللہ اور عبد بن حمید رحمہ اللہ نے یعقوب بن ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ سے، اپنے باپ رحمہ اللہ کی صالح رحمہ اللہ سے، ابن شہاب رحمہ اللہ کی مذکورہ بالا سند سے، یونس رحمہ اللہ کی حدیث کے مفہوم والی روایت سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 808]
ترقیم فوادعبدالباقی: 363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 363 ترقیم شاملہ: -- 809
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَطْرُوحَةٍ، أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَّا أَخَذُوا إِهَابَهَا، فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ؟ ".
سفیان نے عمرو سے، انہوں نے عطاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ پڑی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کو بطور صدقہ دی گئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اس کے چمڑے کو کیوں نہ اتارا، وہ اس کو رنگ لیتے اور فائدہ اٹھا لیتے!“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 809]
ہمیں ابن ابی عمر رحمہ اللہ اور عبداللہ بن محمد زہری رحمہ اللہ نے (الفاظ ابن ابی عمر رحمہ اللہ کے ہیں) سفیان رحمہ اللہ کے واسطہ سے عمرو رحمہ اللہ کی عطاء رحمہ اللہ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ پڑی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے، جو میمونہ رضی اللہ عنہا کی باندی کو بطور صدقہ دی گئی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اس کے چمڑے کو کیوں نہیں اتارا؟ وہ اس کو رنگ لیتے اور فائدہ اٹھا لیتے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 809]
ترقیم فوادعبدالباقی: 363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة