صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
28. باب التيمم:
باب: تیمم کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 367 ترقیم شاملہ: -- 816
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالُوا: أَلَا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِالنَّاسِ مَعَهُ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي، قَدْ نَامَ، فَقَالَ: حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسَ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، قَالَتْ: فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي، فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ، إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا سورة المائدة آية 6، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ: مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ، فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ ".
عبدالرحمان بن قاسم (بن محمد) نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ نکلے، جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ رک گئے، نہ وہ پانی (والی جگہ) پر تھے نہ ان کے پاس پانی (بچا ہوا) تھا۔ لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: کیا آپ کو پتہ نہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ (دوسرے) لوگوں کو روک رکھا ہے، نہ وہ پانی (والی جگہ) پر ہیں اور نہ لوگوں کے پاس پانی بچا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے (اس وقت) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے اور کہا: تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ وہ پانی والی جگہ پر ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، مجھے صرف اس بات نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے اور پانی کے بغیر ہی صبح ہو گئی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تیمم کیا۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے، جو نقباء میں سے تھے، کہا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خاندان! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 816]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں نکلے جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رک گئے، اس جگہ پانی نہ تھا، اور لوگوں کے پاس بھی (پہلے سے) موجود نہ تھا۔ لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہا، کیا آپ کو پتہ نہیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ لوگوں کو روک رکھا ہے، نہ اس جگہ پانی ہے اور نہ ہی لوگوں کے پاس پانی موجود ہے، ابو بکر رضی اللہ عنہ اس حالت میں تشریف لائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے، اور کہا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ یہاں پانی نہیں ہے اور لوگوں کے پاس بھی پانی نہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا، اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے، اور مجھے صرف اس چیز نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر رکھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے بغیر ہی صبح تک سوئے رہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تیمم کیا۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ جو نقباء میں سے ہیں، نے کہا اے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی اولاد! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 816]
ترقیم فوادعبدالباقی: 367
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 367 ترقیم شاملہ: -- 817
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ بِشْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَاءَ، قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ، إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً ".
ہشام کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے عاریتاً ہار لیا، وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا۔ ان کی نماز کا وقت آ گیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس بات کی شکایت کی، (اس پر) تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: اللہ آپ کو بہترین جزا دے، اللہ کی قسم! آپ کو کبھی کوئی مشکل معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی اور اسی میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھ دی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 817]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس نے اسماء رضی اللہ عنہا سے عاریتاً ہار لیا، اور وہ ضائع ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کی خاطر بھیجا، انہیں نماز کے وقت نے آ لیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس بات کی شکایت کی، اس پر تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا، (اے عائشہ!) اللہ آپ کو بہترین اجر دے، اللہ کی قسم! آپ کسی پریشانی میں مبتلا ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل (راہ) پیدا کر دیتا ہے، اور وہ چیز مسلمانوں کے لیے باعث برکت بنتی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 817]
ترقیم فوادعبدالباقی: 367
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة