صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب وجوب قراءة الفاتحة في كل ركعة وإنه إذا لم يحسن الفاتحة ولا امكنه تعلمها قرا ما تيسر له من غيرها:
باب: ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا وجوب، اور جو شخص سورہ فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو، اس کے لیے قرآن میں اس کے علاوہ جو آسان ہو اس کوپڑھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 396 ترقیم شاملہ: -- 882
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَمَا أَعْلَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَنَّاهُ لَكُمْ، وَمَا أَخْفَاهُ أَخْفَيْنَاهُ لَكُمْ ".
حبیب بن شہید سے روایت ہے، کہا: میں نے عطاء سے سنا، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جو (نماز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے اونچی قراءت سے ادا کی ہم نے بھی تمہارے لیے وہ اونچی قراءت سے ادا کی اور جس (نماز) میں آپ نے (قراءت کو) مخفی رکھا، ہم نے بھی اسے تمہارے لیے مخفی رکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 882]
علاء رحمہ اللہ اور ابو سائب رحمہ اللہ جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہم نشین تھے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہے۔“ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند قراءت سے پڑھا، ہم نے بھی اس میں قراءت بلند پڑھی اور جو نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ قراءت سے پڑھی، ہم نے بھی تمہارے لیے اس کی قراءت آہستہ کی (قراءت کو مخفی رکھا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 882]
ترقیم فوادعبدالباقی: 396
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 396 ترقیم شاملہ: -- 883
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فِي كُلِّ الصَّلَاةِ يَقْرَأُ، فَمَا أَسْمَعنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَا مِنْكُمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنْ لَمْ أَزِدْ عَلَى أُمِّ الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: إِنْ زِدْتَ عَلَيْهَا، فَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنِ انْتَهَيْتَ إِلَيْهَا، أَجْزَأَتْ عَنْكَ ".
ابن جریج نے عطاء سے خبر دی، کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (نماز پڑھنے والا) پوری نماز میں (ہر رکعت میں) قراءت کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو (قراءت) ہمیں (بلند آواز سے) سنائی، ہم نے بھی تمہیں سنائی اور جو آپ نے ہم سے (آواز آہستہ کر کے) مخفی رکھی ہم نے اسے تم سے مخفی رکھا۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: اگر میں ام القرآن سے زیادہ نہ پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: اگر اس سے زیادہ پڑھو تو بہتر ہے اور اگر اس (فاتحہ) پر رک جاؤ تو وہ تمہیں کفایت کرے گی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 883]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہر نماز میں قرأت ہے، تو جو قرأت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنائی، ہم تمہیں سناتے ہیں اور جو ہم سے پوشیدہ رکھی، ہم اسے تم سے چھپاتے ہیں۔ ایک آدمی نے سوال کیا: اگر میں «أُمُّ الْكِتَابِ» ”ام الکتاب“ سے زائد نہ پڑھوں تو؟ انہوں نے جواب دیا (یعنی آہستہ پڑھتے ہیں) اور جس نے «أُمُّ الْكِتَابِ» ”ام الکتاب“ پڑھ لی تو وہ اس کے لیے کافی ہے، اور جس نے اس سے زائد پڑھا تو وہ بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 883]
ترقیم فوادعبدالباقی: 396
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 396 ترقیم شاملہ: -- 884
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ، فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى مِنَّا أَخْفَيْنَاهُ مِنْكُمْ، وَمَنْ قَرَأَ بِأُمِّ الْكِتَابِ، فَقَدْ أَجْزَأَتْ عَنْهُ، وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَلُ ".
حبیب معلم سے روایت ہے، انہوں نے عطاء سے روایت کی، کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر نماز میں قراءت ہے۔ تو جو (قراءت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سنائی ہم نے تمہیں سنائی اور جو انہوں نے ہم سے پوشیدہ رکھی، ہم نے وہ تم سے پوشیدہ رکھی اور جس نے ام الکتاب پڑھ لی تو اس کے لیے وہ کافی ہے اور جس نے (اس سے) زائد پڑھا تو وہ بہتر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 884]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”ہر نماز کے لیے قراءت ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو سنایا وہ ہم نے تم کو سنا دیا اور جو ہم سے پوشیدہ رکھا ہم نے اس کو تم سے چھپایا، اور جس نے «أُمُّ الْكِتَابِ» ”سورہ فاتحہ“ پڑھ لی تو وہ اس کے لیے کافی ہو گی اور جس نے اضافہ کیا تو وہ بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 884]
ترقیم فوادعبدالباقی: 396
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة