صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب تقديم الجماعة من يصلي بهم إذا تاخر الإمام ولم يخافوا مفسدة بالتقديم:
باب: جب امام کے آنے میں دیر ہو اور کسی فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی اور کو امام بنانے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 421 ترقیم شاملہ: -- 949
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَانَتِ الصَّلَاةُ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي بِالنَّاسِ فَأُقِيمُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَخَلَّصَ حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ، فَصَفَّقَ النَّاسُ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ، لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ، الْتَفَتَ، فَرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ، حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمُ التَّصْفِيقَ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيُسَبِّحْ فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتُفِتَ إِلَيْهِ، وَإِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ "،
امام مالک نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے ہاں، ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ اس دوران میں نماز کا وقت ہو گیا تو مؤذن ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تاکہ میں تکبیر کہوں؟ اابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ انہوں (سہل بن سعد) نے کہا: اس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے جب کہ لوگ نماز میں تھے، آپ بچ کر گزرتے ہوئے (پہلی) صف میں پہنچ کر کھڑے ہو گئے۔ اس پر لوگوں نے ہاتھوں کو ہاتھوں پر مار کر آواز کرنی شروع کر دی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔ جب لوگوں نے مسلسل ہاتھوں سے آواز کی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہیں، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس بات کا حکم دیا، پھر اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ کر صف میں صحیح طرح کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ نے نماز پڑھائی۔ جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تو اپنی جگہ ٹکے رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے (کھڑے ہو کر) جماعت کرائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر) فرمایا: ”کیا ہوا؟ میں نے تم لوگوں کو دیکھا کہ تم بہت تالیاں بجا رہے تھے؟ جب نماز میں تمہیں کوئی ایسی بات پیش آ جائے (جس پر توجہ دلانا ضروری ہو) تو سبحان اللہ کہو، جب کوئی سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی، ہاتھ پر ہاتھ مارنا، صرف عورتوں کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 949]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے ہاں ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے تو نماز کا وقت ہو گیا، اس پر مؤذن حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ جماعت کروائیں گے تو میں تکبیر کہوں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور لوگ نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزر کر پہلی صف میں پہنچے، اس پر لوگوں نے ایک ہاتھ دوسرے پر مارنا شروع کیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں کسی طرف توجہ نہیں دیتے تھے۔ جب لوگوں نے مسلسل تالی بجائی تو وہ متوجہ ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ سے اپنی جگہ کھڑا رہنے کے لیے کہا، اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو امامت کا اعزاز بخشا، پھر پیچھے ہٹ کر صف میں سیدھے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! میرے حکم دینے کے بعد اپنی جگہ ٹکے رہنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا؟“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ابوقحافہ کے بیٹے کے لیے زیبا نہ تھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (موجودگی میں) جماعت کرائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”عجیب بات ہے! میں نے دیکھا کہ تم لوگ بکثرت تالیاں بجا رہے تھے، (یاد رکھو) جب نماز میں کوئی بات پیش آ جائے تو «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہے تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی، اور ہاتھ پر ہاتھ مارنا تو عورتوں کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 949]
ترقیم فوادعبدالباقی: 421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 421 ترقیم شاملہ: -- 950
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَفِي حَدِيثِهِمَا: فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ، حَتّى قَامَ فِي الصَّفِّ،
عبدالعزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبدالرحمن القاری دونوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے امام مالک کی روایت کی طرح روایت بیان کی۔ ان دونوں کی حدیث میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور الٹے پاؤں واپس ہوئے حتیٰ کہ صف میں آ کھڑے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 950]
عبدالعزیز رحمہ اللہ اور یعقوب رحمہ اللہ دونوں ابوحازم رحمہ اللہ کی، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں اور ان کی حدیث میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور واپس الٹے پاؤں لوٹ کر صف میں کھڑے ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 950]
ترقیم فوادعبدالباقی: 421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 421 ترقیم شاملہ: -- 951
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ: ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ، وَزَادَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ، وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ: رَجَعَ الْقَهْقَرَى.
عبید اللہ نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے تشریف لے گئے ... آگے مذکورہ بالا راویوں کے مانند (حدیث بیان کی) اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف کے قریب کھڑے ہو گئے۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 951]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے تشریف لے گئے جیسا کہ مذکورہ بالا راویوں نے بیان کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور صفوں کو چیر کر پہلی صف میں شریک ہو گئے، اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 951]
ترقیم فوادعبدالباقی: 421
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة