🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ، وَقَالَ فِيهِ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ هَكَذَا، وَقَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ دُونَ هَذَا كَفَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الصَّلَاةِ.
حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، پھر اس حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا تذکرہ نہیں کیا، حمران نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کا تین بار مسح کیا پھر دونوں پاؤں تین بار دھوئے، اس کے بعد آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس سے کم وضو کرے گا (یعنی ایک ایک یا دو دو بار اعضاء دھوئے گا) تو بھی کافی ہے، یہاں پر نماز کے معاملہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ جناب حمران کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا اور مذکورہ بالا روایت کی مانند ذکر کیا، اس میں کلی اور ناک میں پانی چڑھانے کا ذکر نہیں کیا، اور (ابوسلمہ نے) اپنی حدیث میں کہا کہ سر کا مسح تین بار کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے، پھر (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی وضو کیا اور فرمایا: جو شخص اپنے اعضائے وضو کو اس سے کم بار دھوئے تو (بھی) کافی ہے۔ اور (ابوسلمہ نے اپنی حدیث میں) نماز کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9799) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (سر کے تین بار مسح کی روایت شاذ ہے، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
دار قطني: 1/ 91 ح 299، وللحديث شواھد كثيرة

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 106
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَغَسَلَهُمَا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا تو پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالا ان کو دھویا، پھر کلی کی، اور ناک جھاڑی، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، اور اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، اور پھر اسی طرح بایاں ہاتھ، پھر سر پر مسح کیا، پھر اپنا داہنا پاؤں تین بار دھویا، پھر بایاں پاؤں اسی طرح، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھے اس میں دنیا کا خیال و وسوسہ اسے نہ آئے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے پچھلے گناہ کو معاف فرما دے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 106]
جناب حمران بن ابان، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے (پہلے) اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر جھاڑا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار، پھر بایاں اسی طرح، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا تین بار، پھر بایاں اسی طرح۔ اس کے بعد کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی مانند وضو کیا پھر فرمایا: جو کوئی میرے اس وضو کی مانند وضو کرے، پھر دو رکعت نماز پڑھے ایسے کہ ادھر ادھر کے خیالات میں مشغول نہ ہو تو اللہ اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوضوء 24 (159)، 28 (164)، الصوم 47 (1934)، صحیح مسلم/الطھارة 3 (226)، سنن النسائی/الطھارة 68 (84)، موطا امام مالک/الطھارة 6(29)، (تحفة الأشراف: 9794)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 6 (285)، مسند احمد (1/72)، سنن الدارمی/الطھارة 27 (720) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1934) صحيح مسلم (226)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں