سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
حدیث نمبر: 107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَضْمَضَةَ وَالِاسْتِنْشَاقَ، وَقَالَ فِيهِ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ هَكَذَا، وَقَالَ: مَنْ تَوَضَّأَ دُونَ هَذَا كَفَاهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الصَّلَاةِ.
حمران کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، پھر اس حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا تذکرہ نہیں کیا، حمران نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کا تین بار مسح کیا پھر دونوں پاؤں تین بار دھوئے، اس کے بعد آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس سے کم وضو کرے گا (یعنی ایک ایک یا دو دو بار اعضاء دھوئے گا) تو بھی کافی ہے“، یہاں پر نماز کے معاملہ کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ جناب حمران کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے وضو کیا اور مذکورہ بالا روایت کی مانند ذکر کیا، اس میں کلی اور ناک میں پانی چڑھانے کا ذکر نہیں کیا، اور (ابوسلمہ نے) اپنی حدیث میں کہا کہ سر کا مسح تین بار کیا، پھر اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے، پھر (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی وضو کیا اور فرمایا: ”جو شخص اپنے اعضائے وضو کو اس سے کم بار دھوئے تو (بھی) کافی ہے۔““ اور (ابوسلمہ نے اپنی حدیث میں) نماز کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9799) (حسن صحیح)» (سر کے تین بار مسح کی روایت شاذ ہے، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
دار قطني: 1/ 91 ح 299، وللحديث شواھد كثيرة
دار قطني: 1/ 91 ح 299، وللحديث شواھد كثيرة
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 107 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 107
سر کا مسح کتنی مرتبہ کریں؟
پھر (پورے) سر کا مسح کریں۔ [البخاري: 159 ومسلم: 226]
اپنے دونوں ہاتھوں سے مسح کریں۔ سر کے شروع سے ابتدا کر کے گردن کے پچھلے حصے تک لے جائیں اور وہاں سے واپس شروع والے حصے تک لے آئیں۔ [البخاري: 185 ومسلم:235]
سر کا مسح ایک بار کریں۔ [سنن ابي داود: 111 وسنده صحيح]
تنبیہ: بعض روایات میں تین دفعہ سر کے مسح کا بھی ذکر آیا ہے۔ دیکھئے: [سنن ابي داود: 107 وسنده حسن، 110 وسنده حسن]
لہٰذا دونوں طرح عمل جائز ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
تحقیقی و علمی مقالات للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 2 صفحہ 200 تا 204)
پھر (پورے) سر کا مسح کریں۔ [البخاري: 159 ومسلم: 226]
اپنے دونوں ہاتھوں سے مسح کریں۔ سر کے شروع سے ابتدا کر کے گردن کے پچھلے حصے تک لے جائیں اور وہاں سے واپس شروع والے حصے تک لے آئیں۔ [البخاري: 185 ومسلم:235]
سر کا مسح ایک بار کریں۔ [سنن ابي داود: 111 وسنده صحيح]
تنبیہ: بعض روایات میں تین دفعہ سر کے مسح کا بھی ذکر آیا ہے۔ دیکھئے: [سنن ابي داود: 107 وسنده حسن، 110 وسنده حسن]
لہٰذا دونوں طرح عمل جائز ہے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
تحقیقی و علمی مقالات للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 2 صفحہ 200 تا 204)
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 200]
Sunan Abi Dawud Hadith 107 in Urdu
حمران بن أبان النمري ← عثمان بن عفان