🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
221. باب اللبس للجمعة
باب: جمعہ کے لباس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1076
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ، يَعْنِي: تُبَاعُ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ"، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: كَسَوْتَنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدَ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا" فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک ریشمی جوڑا بکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اس کو خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جس دن آپ کے پاس باہر کے وفود آئیں، اسے پہنا کریں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو صرف وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کچھ جوڑے آئے تو آپ نے ان میں سے ایک جوڑا عمر رضی اللہ عنہ کو دیا تو عمر نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے یہ کپڑا مجھے پہننے کو دیا ہے؟ حالانکہ عطارد کے جوڑے کے سلسلہ میں آپ ایسا ایسا کہہ چکے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ جوڑا اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو، چنانچہ عمر نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو جو مکہ میں رہتا تھا پہننے کے لیے دے دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1076]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی لباس دیکھا جو مسجد کے دروازے کے پاس بیچا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن زیب تن فرمایا کریں یا جب آپ کے پاس وفود آئیں تو ان کے استقبال کے لیے پہنا کریں (تو اچھا ہو گا)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے مزید جوڑے آئے تو آپ نے اس میں سے ایک سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے یہ دے رہے ہیں حالانکہ عطارد کے جوڑے کے بارے میں اس سے پہلے آپ جو کچھ فرما چکے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ اس لیے نہیں دیا ہے کہ تم خود اسے پہنو۔ چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ جوڑا اپنے بھائی کو دے دیا جو کہ مشرک تھا اور مکے میں رہتا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1076]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجمعة 7 (886)، والعیدین 1 (948)، والھبة 27 (2612)، 29 (2619)، والجھاد 177 (3054)، واللباس 30 (5841)، والأدب 9 (5981)، 66 (6081)، صحیح مسلم/اللباس1 (2068)، سنن النسائی/الجمعة 11 (1383)، والعیدین 4 (1561)، والزینة 83 (5297)، 85 (5301)، (تحفة الأشراف: 8023، 83325)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/اللباس 16 (3589)، مسند احمد (2/20، 39، 49) ویأتی ہذا الحدیث فی اللباس (404) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (886) صحيح مسلم (2068)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1077
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ فَأَخَذَهَا، فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ابْتَعْ هَذِهِ تَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوُفُودِ، ثُمَّ سَاقَ الْحَدِيثَ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بازار میں ایک موٹے ریشم کا جوڑا بکتا ہوا پایا تو اسے لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: آپ اسے خرید لیجئیے اور عید میں یا وفود سے ملتے وقت آپ اسے پہنا کیجئے۔ پھر راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی اور پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1077]
جناب سالم رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی جوڑا دیکھا جو بازار میں بیچا جا رہا تھا، وہ انہوں نے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور کہا: آپ اسے خرید لیں تاکہ عید اور وفود کے استقبال کے موقع پر زینت کے لیے زیب تن فرمایا کریں۔ پھر حدیث بیان کی (تاہم) پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن النسائی/العیدین 4 (1561)، (تحفة الأشراف: 6895) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2068)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4040
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ تُبَاعُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا، فَكَسَاهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک دھاری دار ریشمی جوڑا بکتا ہوا دیکھا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور وفود سے ملاقات کے وقت اسے زیب تن فرماتے (تو اچھا ہوتا)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر انہیں میں سے کچھ جوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے اس میں سے ایک جوڑا عمر بن خطاب کو دیا، تو عمر کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ آپ مجھے پہنا رہے ہیں حالانکہ آپ عطارد کے جوڑوں کے سلسلہ میں ایسا ایسا فرما چکے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم (خود) پہنو تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی (عثمان بن حکیم) کو دے دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 4040]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے کے پاس ایک دھاری دار ریشمی حلہ فروخت کیا جا رہا تھا۔ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور وفود کے استقبال کے موقع پر جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں، زیب تن فرمایا کریں (تو بہت خوب رہے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے حلے آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بھی ان میں سے ایک حلہ عنایت فرمایا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے یہ عطا فرما رہے ہیں، حالانکہ آپ نے عطارد والے حلے کے بارے میں ایسے ایسے فرمایا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں تمہارے اپنے پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ چنانچہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو جو مکہ میں تھا، دے دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 4040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (1076)، (تحفة الأشراف: 8335) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2612) صحيح مسلم (2068)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4043
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أُهْدِيَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، فَلَبِسْتُهَا فَأَتَيْتُهُ فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، وَقَالَ: إِنِّي لَمْ أُرْسِلْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی دھاری دار جوڑا ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، تو میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی آپ نے فرمایا: میں نے اسے اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے (خود) پہنو آپ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 4043]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار حلہ ہدیہ دیا گیا، جو آپ نے مجھے بھجوا دیا۔ میں اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ تمہیں اس لیے نہیں بھیجا کہ تم خود اسے پہن لو۔ چنانچہ آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اسے اپنے خاندان کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 4043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/اللباس 2 (2071)، سنن النسائی/الزینة 30 (5300)، (تحفة الأشراف: 10329)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 30 (5840)، مسند احمد (1/90، 139، 153) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2071)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں