🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 114
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ الْكِنَانِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسُئِلَ عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى لَمَّا يَقْطُرْ وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ وُضُوءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا جب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں پوچھا گیا تھا، پھر زر بن حبیش نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا: انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا حتیٰ کہ پانی سر سے ٹپکنے کو تھا، پھر اپنے دونوں پیر تین تین بار دھوئے، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو اسی طرح تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 114]
جناب زر بن حبیش سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سنا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ تو راوی نے حدیث بیان کی اور اس میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے سر کا مسح کیا مگر پانی کے قطرات نہ گرے اور اپنے دونوں پاؤں تین تین بار دھوئے، پھر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ایسے ہی تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10094) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 113
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ عُرْفُطَةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ خَيْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ مَعَ الِاسْتِنْشَاقِ بِمَاءٍ وَاحِدٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا (ان کے پاس) ایک کرسی لائی گئی، وہ اس پر بیٹھے پھر پانی کا ایک کوزہ (برتن) لایا گیا تو (اس سے) آپ نے تین بار اپنا ہاتھ دھویا پھر ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 113]
عبد خیر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ایک کرسی لائی گئی، آپ اس پر بیٹھے، پھر پانی کا ایک کوزہ (برتن) لایا گیا۔ آپ نے اپنا ہاتھ تین بار دھویا، پھر کلی کی اور ساتھ ہی ناک میں پانی بھی چڑھایا، دونوں ایک چلو کے ساتھ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10203) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
سنن النسائي: 93، 94 من حديث شعبه وقال: ’’ھذا خطأ والصواب: خالد بن علقمه، ليس مالك بن عرفطه‘‘

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدَةٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثًا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ انہوں نے ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین بار ایسا ہی کیا، پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 119]
جناب مسدد رحمہ اللہ کی سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے کہ کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، ایک ہی چلو سے، ایسا تین بار کیا، پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کے مطابق روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 119]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 5308) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (191) صحيح مسلم (235)
مشكوة المصابيح (412)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں