سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب التسبيح بالحصى
باب: کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1502
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَثَّامٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ"، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ:" بِيَمِينِهِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا (ابن قدامہ کی روایت میں ہے): ”اپنے دائیں ہاتھ پر“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1502]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ (کی انگلیوں) پر تسبیح شمار کرتے تھے۔“ (استاذ) ابن قدامہ نے وضاحت کی کہ ”اپنے دائیں ہاتھ سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 25 (3411)، 72 (3486)، سنن النسائی/السہو 97 (1356)، (تحفة الأشراف:8637) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن في ھذا اللفظ وصح الحديث بلفظ: ’’ رأيت النبي ﷺ يعقد التسبيح ‘‘ (ت 3411)
وصححه الذھبي في تلخيص المستدرك (1/ 547)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن في ھذا اللفظ وصح الحديث بلفظ: ’’ رأيت النبي ﷺ يعقد التسبيح ‘‘ (ت 3411)
وصححه الذھبي في تلخيص المستدرك (1/ 547)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
حدیث نمبر: 1501
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ يُسَيْرَةَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّقْدِيسِ وَالتَّهْلِيلِ، وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ".
یسیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے (قیامت کے روز) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1501]
سیدہ یسیرہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (صحابیات کو) حکم دیا تھا کہ: ”وہ اللہ کی تکبیر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ»، تقدیس «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ» اور تہلیل «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کی پابندی اختیار کریں اور یہ کہ اپنی انگلیوں پر شمار کیا کریں، کیونکہ ان سے سوال ہو گا اور یہ بلوائی جائیں گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 121 (3583)، (تحفة الأشراف:18301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/370، 371) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «يوم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم بما كانوا يعملون» (سورۃ النور 24) ” جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے “، تو جس طرح ہاتھ اور پاؤں وغیرہ اعضاء برے اعمال کی گواہی دیں گے اسی طرح اچھے اعمال کی بھی گواہی دیں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2316)
أخرجه الترمذي (3583 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2316)
أخرجه الترمذي (3583 وسنده حسن)