سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. باب المسح على الجوربين
باب: جراب پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 158
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ، قَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقِبْلَتَيْنِ: أَنَّهُ قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ،أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: يَوْمًا؟، قَالَ: يَوْمًا، قَالَ: وَيَوْمَيْنِ؟ قَالَ: وَيَوْمَيْنِ، قَالَ: وَثَلَاثَةً؟ قَالَ: نَعَمْ، وَمَا شِئْتَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد:رَوَاهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ، قَالَ فِيهِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، وَمَا بَدَا لَكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ، وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ،وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيَّوبَ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ.
ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، یحییٰ بن ایوب کا بیان ہے کہ ابی بن عمارہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قبلوں (بیت المقدس اور بیت اللہ) کی طرف نماز پڑھی ہے - آپ نے کہا کہ اللہ کے رسول! کیا میں موزوں پر مسح کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، ابی نے کہا: ایک دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن تک“، ابی نے کہا: اور دو دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو دن تک“، ابی نے کہا: اور تین دن تک؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور اسے تم جتنا چاہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی مریم مصری نے اسے یحییٰ بن ایوب سے یحییٰ نے عبدالرحمٰن بن رزین سے، عبدالرحمٰن نے محمد بن یزید بن ابی زیاد سے، محمد نے عبادہ بن نسی سے، عبادہ نے ابی بن عمارہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے: یہاں تک کہ (پوچھتے پوچھتے) سات تک پہنچ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے گئے: ”ہاں، جتنا تم چاہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کی سند میں اختلاف ہے، یہ قوی نہیں ہے، اسے ابن ابی مریم اور یحییٰ بن اسحاق سیلحینی نے یحییٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے مگر اس کی سند میں بھی اختلاف ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 158]
سیدنا ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں یحییٰ بن ایوب کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں موزوں پر مسح کر لیا کروں؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: ”(کیا) ایک دن؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) ایک دن۔“ انہوں نے کہا: ”کیا دو دن (بھی؟)“ فرمایا: ”ہاں دو دن (بھی)۔“ کہا: ”کیا تین دن (بھی؟)“ فرمایا: ”ہاں! اور جو تو چاہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ابن ابی مریم مصری نے (بسند) «عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ عُمَارَةَ» سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ (دنوں کا اضافہ) سات دنوں تک پہنچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تیری سمجھ میں آئے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور یحییٰ بن ایوب قوی نہیں ہے، اس حدیث کو ابن ابی مریم اور یحییٰ بن اسحاق سَیْلَحِینِیُّ نے یحییٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 158]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 87 (557)، (تحفة الأشراف: 6) (ضعیف)» (اس کے راوی ”محمد بن یزید“ مجہول ہیں، اس میں ثقات کی مخالفت بھی ہے اس لئے یہ حدیث منکر بھی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (557) ببعض الإختلاف في السند
قال الدار قطني:’’ھذا الإسناد لا يثبت …… عبد الرحمٰن ومحمد بن يزيد وأيوب بن قطن مجهولون كلھم‘‘ (سنن دارقطني:1/ 198،199 ح 755)
وقال النووي :’’اتفقوا علي ضعفه واضطرابه‘‘ (خلاصة الأحكام:1/ 130،131 ح 255)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19
إسناده ضعيف
ابن ماجه (557) ببعض الإختلاف في السند
قال الدار قطني:’’ھذا الإسناد لا يثبت …… عبد الرحمٰن ومحمد بن يزيد وأيوب بن قطن مجهولون كلھم‘‘ (سنن دارقطني:1/ 198،199 ح 755)
وقال النووي :’’اتفقوا علي ضعفه واضطرابه‘‘ (خلاصة الأحكام:1/ 130،131 ح 255)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 19
حدیث نمبر: 157
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، وَحَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، وَلِلْمُقِيمِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، بِإِسْنَادِهِ، قَالَ فِيهِ وَلَوِ اسْتَزَدْنَاهُ لَزَادَنَا.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موزوں پر مسح کرنے کی مدت مسافر کے لیے تین دن، اور مقیم کے لیے ایک دن ایک رات ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: منصور بن معتمر نے اسے ابراہیم تیمی سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس مدت کو) بڑھانے کے لیے کہتے تو آپ اسے ہمارے لیے بڑھا دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 157]
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موزوں پر مسح کرنے کی مدت مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو منصور بن معتمر نے اپنی سند سے ابراہیم تیمی سے روایت کیا ہے اور اس میں ہے کہ ”اگر ہم مسح کی مدت میں اضافہ چاہتے تو آپ اضافہ فرما دیتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 157]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 71 (95)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 86 (554)، (تحفة الأشراف: 3528)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (553)
إبراهيم التيمي مدلس (الفتح المبين: ص101) و عنعن
والحديث صحيح دون قوله: ’’ولو استزدناه لزادنا‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
إسناده ضعيف
ابن ماجه (553)
إبراهيم التيمي مدلس (الفتح المبين: ص101) و عنعن
والحديث صحيح دون قوله: ’’ولو استزدناه لزادنا‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 18
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: ذَكَرَهُ أَبِي، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ"، وقَالَ غَيْرُ مُحَمَّدٍ: عَلَى ظَهْرِ الْخُفَّيْنِ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کرتے تھے۔ اور محمد بن صباح کے علاوہ دوسرے لوگوں سے «على ظهر الخفين.» (موزوں کی پشت پر) مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 161]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔“ محمد بن صباح کے علاوہ (دوسرے مشائخ) نے کہا کہ ”آپ نے موزوں کی پشت (یعنی پاؤں کی اوپر والی جانب) پر مسح کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 149، سنن الترمذی/الطہارة 73 (98)، (تحفة الأشراف: 11512) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (522)
قال الذهبي في عبدالرحمٰن بن ابي الزناد: ’’حديثه من قبيل الحسن‘‘ (سير اعلام النبلاء: 8/ 168، 169)
مشكوة المصابيح (522)
قال الذهبي في عبدالرحمٰن بن ابي الزناد: ’’حديثه من قبيل الحسن‘‘ (سير اعلام النبلاء: 8/ 168، 169)