🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب كم يؤدى في صدقة الفطر
باب: صدقہ فطر کتنا دیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1616
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ، أَنْ قَالَ: إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ، وَ عَبْدَةُ وَغَيْرِهِمَا، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنْ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بِمَعْنَاهُ، وَذَكَرَ رَجُلٌ وَاحِدٌ فِيهِ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ: أَوْ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان باحیات تھے، ہم لوگ صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے، پھر ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں، ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی: میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، پھر لوگوں نے یہی اختیار کر لیا، اور ابوسعید نے کہا: لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے، ابی اسحاق نے عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے، عبداللہ بن عبداللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابوسعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے، ایک شخص نے ابن علیہ سے «أو صاعًا من حنطة» بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1616]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں موجود تھے تو ہم ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے صدقہ فطر میں طعام، پنیر، جو، کھجور یا کشمش (میں سے کسی ایک) کا ایک صاع دیا کرتے تھے۔ اور ہم یہ اسی طرح دیتے رہے حتیٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرے کے لیے آئے اور برسرِ منبر لوگوں کو خطبہ دیا۔ منجملہ اور باتوں کے انہوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا: میں سمجھتا ہوں کہ شام کی گندم کے دو مد (آدھا صاع) کھجور کے ایک صاع کے برابر ہے۔ چنانچہ لوگوں نے ان کی بات لے لی۔ اس پر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو جب تک زندہ ہوں ایک صاع ہی دیتا رہوں گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یہ روایت ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے بسند ابن اسحاق عن عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام عن عیاض عن ابی سعید، اس کے ہم معنی روایت کی ہے۔ اور اس میں ایک آدمی نے ابن علیہ کی روایت میں «أَوْ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ» یا ایک صاع گندم کا ذکر کیا ہے، مگر یہ محفوظ نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 72 (1505)، 73 (1506)، 75 (1508)، 76 (1510)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (985)، سنن الترمذی/الزکاة 35 (673)، سنن النسائی/الزکاة 37 (2513)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1829)، (تحفة الأشراف:4269)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 28 (53)، مسند احمد (3/23، 73، 98)، سنن الدارمی/الزکاة 27 (1704) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1505) صحيح مسلم (985)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1615
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" فَعَدَلَ النَّاسُ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ"، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعْطِي التَّمْرَ فَأُعْوِزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ التَّمْرَ عَامًا، فَأَعْطَى الشَّعِيرَ.
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کر لیا، عبداللہ (ایک صاع) کھجور ہی دیا کرتے تھے، ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہو گیا تو انہوں نے جو دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1615]
جناب نافع رحمہ اللہ نے کہا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر لوگ گندم کا آدھا صاع دینے لگے۔ انہوں نے کہا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کھجور دیا کرتے تھے، مگر ایک سال اہل مدینہ کو کھجور کی تنگی آ گئی، تو انہوں نے جَو دیے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 78 (1511)، صحیح مسلم/الزکاة 4 (984)، سنن الترمذی/الزکاة 35 (676)، سنن النسائی/الزکاة 30 (2502)، (تحفة الأشراف:7510)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 28 (52)، مسند احمد (2/5، 55، 63، 66، 102، 114، 137)، دی/الزکاة 27 (1702) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1511) صحيح مسلم (984)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں