سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
67. باب تفريق الوضوء
باب: وضو میں اعضاء کو الگ الگ دھونا (تاکہ کوئی عضو خشک نہ رہ جائے)۔
حدیث نمبر: 173
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ،" أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ عَلَى قَدَمِهِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، وَلَمْ يَرْوِهِ إِلَّا ابْنُ وَهْبٍ وَحْدَهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ،عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ: ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کر کے آیا، اس نے اپنے پاؤں میں ناخن کے برابر جگہ (خشک) چھوڑ دی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جریر بن حازم سے مروی یہ حدیث معروف نہیں ہے، اسے صرف ابن وہب نے روایت کیا ہے، اس جیسی حدیث معقل بن عبیداللہ جزری سے بھی مروی ہے، معقل ابوزبیر سے، ابوزبیر جابر سے، جابر عمر سے، اور عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 173]
جناب قتادہ بن دعامہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، وہ وضو کر چکا تھا، مگر اس نے اپنے پاؤں پر ناخن بھر جگہ (خشک) چھوڑ دی تھی (دھوئی نہ تھی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث جریر بن حازم سے معروف نہیں ہے۔ اسے اکیلے ابن وہب ہی نے بیان کیا ہے اور یہ روایت بہ سند معقل بن عبیداللہ جزری سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مذکورہ بالا کی مانند مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 173]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 139 (665)، (تحفة الأشراف: 1148)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/146)، وحدیث عمر أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 10 (243)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 139 (666) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
في حديث ابي داود (173): قتاده صرح بالسماع بل ابن وهب عنعن، وفي حديث ابن ماجه (665): ابن وهب صرح بالسماع بل قتاده عنعن، وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (175)
في حديث ابي داود (173): قتاده صرح بالسماع بل ابن وهب عنعن، وفي حديث ابن ماجه (665): ابن وهب صرح بالسماع بل قتاده عنعن، وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (175)
حدیث نمبر: 175
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بُجَيْرٍ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يُصَلِّ وَفِي ظَهْرِ قَدَمِهِ لُمْعَةٌ قَدْرُ الدِّرْهَمِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ".
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا، اس کے پاؤں کے اوپری حصہ میں ایک درہم کے برابر حصہ خشک رہ گیا تھا، وہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو، اور نماز دونوں کے لوٹانے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 175]
خالد (خالد ابن معدان) رحمہ اللہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا جبکہ اس کے پاؤں میں درہم کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، اسے پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو اور نماز کے اعادے کا حکم دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 175]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبواداود، (تحفة الأشراف: 15559)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/23) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: باب کی دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف خشک جگہ دھونے کا حکم نہیں دیا، بلکہ پورا وضو کرنے کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کے اعضاء پے در پے مسلسل دھونے چاہئیں، اور ان کے درمیان فاصلہ نہیں ہونا چاہئے، یعنی اعضاء وضو کے دھونے میں فصل جائز نہیں، اس مسئلہ میں دونوں طرح کے اقوال ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ اگر زیادہ تاخیر نہ ہوئی ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
بقية بن الوليد صرح بالسماع عند احمد (3/ 424) وروايته عن بحير محمولة علي السماع سواء صرح بالسماع أم لا، انظر تعليق ابن عبدالھادي علي العلل لابن ابي حاتم (ص 124 ح 35/ 123) وذم الكلام للھروي (3/ 123)، وللحديث شواهد
بقية بن الوليد صرح بالسماع عند احمد (3/ 424) وروايته عن بحير محمولة علي السماع سواء صرح بالسماع أم لا، انظر تعليق ابن عبدالھادي علي العلل لابن ابي حاتم (ص 124 ح 35/ 123) وذم الكلام للھروي (3/ 123)، وللحديث شواهد