سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب في إفراد الحج
باب: حج افراد کا بیان۔
حدیث نمبر: 1790
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْيٌ فَلْيُحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، وَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُنْكَرٌ، إِنَّمَا هُوَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ ہے، ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا لہٰذا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پوری طرح سے حلال ہو جائے، اور عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ (مرفوع حدیث) منکر ہے، یہ ابن عباس کا قول ہے نہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1790]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ عمرہ ہے، ہم نے اس کا فائدہ حاصل کیا ہے، سو جس کے ساتھ قربانی نہ ہو وہ حلال ہو جائے، پوری طرح حلال ہونا۔ اور قیامت تک کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہ روایت منکر ہے۔ یہ صرف ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 31 (1241)، سنن النسائی/الحج 77 (2817)، (تحفة الأشراف: 6387)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیرالصلاة 3 (1085)، والحج/23 (1545)، 34 (1564)، والشرکة 15 (2505)، ومناقب الأنصار 26 (3832)، سنن الترمذی/الحج 89 (932)، مسند احمد (1/236، 253، 259، 341)، سنن الدارمی/المناسک 38 (1898) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابوداود کا یہ قول صحیح نہیں ہے، اس کو کئی راویوں نے مرفوعا روایت کیا ہے جن میں امام احمد بن حنبل بھی ہیں (منذری)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1241)
حدیث نمبر: 1787
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَا يُخَالِطُهُ شَيْءٌ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَطُفْنَا وَسَعَيْنَا، ثُمَّ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُحِلَّ، وَقَالَ: لَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ"، ثُمَّ قَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مُتْعَتَنَا هَذِهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَلْ هِيَ لِلْأَبَدِ"، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا فَلَمْ أَحْفَظْهُ حَتَّى لَقِيتُ ابْنَ جُرَيْجٍ فَأَثْبَتَهُ لِي.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھا اس میں کسی اور چیز کو شامل نہیں کیا، پھر ہم ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد مکہ آئے تو ہم نے طواف کیا، سعی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا“، پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! یہ ہمارا متعہ (حج کا متعہ) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نہیں) بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے“ ۱؎۔ اوزاعی کہتے ہیں: میں نے عطا بن ابی رباح کو اسے بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں کر سکا یہاں تک کہ میں ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے اسے یاد کرا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1787]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا، اس میں کسی چیز کا اختلاط نہ تھا۔ پھر ذوالحجہ کی چار راتیں گزر جانے کے بعد ہم مکہ پہنچے، ہم نے طواف اور سعی کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”اگر میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو جاتا۔“ پھر سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور پوچھا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہمارا یہ تمتع (حج کے ساتھ عمرہ کرنا) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے۔“ اوزاعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے عطاء بن ابی رباح کو یہ حدیث بیان کرتے سنا مگر میں یاد نہ رکھ سکا، حتیٰ کہ ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے یاد کرائی۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1787]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحج 41 (2980)، (تحفة الأشراف: 2426، 2459)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 17 (1216)، سنن النسائی/الحج 77 (2807) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے امام احمد کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ جو حج کا احرام باندھ کر آئے اور ہدی ساتھ نہ لائے وہ طواف اور سعی کرکے احرام کھول سکتا ہے، یعنی حج کو عمرہ میں تبدیل کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7367) صحيح مسلم (1216)