🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. باب في الوضوء من النوم
باب: نیند (سونے) سے وضو ہے یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 199
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنْهَا لَيْلَةً فَأَخَّرَهَا حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: لَيْسَ أَحَدٌ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی تیاری میں مصروفیت کی بناء پر عشاء کی نماز میں دیر کر دی، یہاں تک کہ ہم مسجد میں سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر جاگے پھر سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فرمایا: (اس وقت) تمہارے علاوہ کوئی اور نماز کا انتظار نہیں کر رہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 24 (570)، صحیح مسلم/المساجد 39 (639)، (تحفة الأشراف: 7776)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/88، 126) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ سونا بیٹھے بیٹھے تھا نہ کہ لیٹ کر۔ جیسے کہ دیگر احادیث سے ثابت ہے۔ نماز عشاء کو دوسری نمازوں کی بہ نسبت اول وقت کی بجائے دیر سے پڑھنا مستحب ہے۔ جیسا کہ حدیث ۲۰۰ میں آیا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء کا انتظار کرتے رہتے تھے حتی کہ ان کے سر (نیند کے باعث) جھک جھک جاتے تھے۔پھر وہ نماز پڑھ لیتے اور (نیا) وضو نہ کرتے تھے۔ محض نیند سے وضو نہیں ٹوٹتا، الایہ کہ لیٹ کر ہو یا کسی ایسے سہارے سے ہو کہ اعضا ڈھیلے ہو جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت تھی کہ نیند میں بھی آپ کا وضو قائم رہتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (570) صحيح مسلم (639)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 200
حَدَّثَنَا شَاذُّ بْنُ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حَتَّى تَخْفِقَ رُءُوسُهُمْ ثُمَّ يُصَلُّونَ وَلَا يَتَوَضَّئُونَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ فِيهِ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كُنَّا نَخْفِقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، بِلَفْظٍ آخَرَ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب عشاء کی نماز کا انتظار کرتے تھے، یہاں تک کہ ان کے سر (نیند کے غلبہ سے) جھک جھک جاتے تھے، پھر وہ نماز ادا کرتے اور (دوبارہ) وضو نہیں کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس میں شعبہ نے قتادہ سے یہ اضافہ کیا ہے کہ: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نماز کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے نیند کے غلبہ کی وجہ سے جھک جھک جاتے تھے، اور اسے ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے دوسرے الفاظ میں روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 200]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أخرجه: صحيح مسلم/الحيض/ 33. باب الدليل على أن نوم الجالس لا ينقض الوضوء: فواد 376: دارالسلام 835، من حديث قتادة به، ‏‏‏‏تفرد به ابوداود، تحفة الأشراف: 1384، سنن الترمذي/الطهارة/ 57. باب ما جاء فى الوضوء من النوم: 78، وصححه الدارقطني: 1/ 131 (صحيح)» ‏‏‏‏
وضاحت: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ سونا بیٹھے بیٹھے تھا نہ کہ لیٹ کر۔ جیسے کہ دیگر احادیث سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (376)
مشكوة المصابيح (317)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 420
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ، فَلَا نَدْرِي أَشَيْءٌ شَغَلَهُ أَمْ غَيْرُ ذَلِكَ، فَقَالَ حِينَ خَرَجَ:"أَتَنْتَظِرُونَ هَذِهِ الصَّلَاةَ؟ لَوْلَا أَنْ تَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ، ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک رات ہم عشاء کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا انتظار کرتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تشریف لائے جب تہائی رات یا اس سے زیادہ گزر گئی، ہم نہیں جانتے کہ کسی چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشغول کر رکھا تھا یا کوئی اور بات تھی، جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس نماز کا انتظار کر رہے ہو؟ اگر میری امت پر گراں نہ گزرتا تو میں انہیں یہ نماز اسی وقت پڑھاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، اس نے نماز کے لیے تکبیر کہی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏* تخريج:صحیح مسلم/المساجد 39 (639)، سنن النسائی/المواقیت 20 (538)، (تحفة الأشراف: 7649)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 24 (571)، مسند احمد (2/28، 95، 126) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: انتظار کرانے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ عبادت کے انتظار کا ثواب حاصل کر لیں اور ان کو تاخیر کی فضیلت بھی بتا دی جائے۔ بہرحال اس سے عشاء کی نماز تاخیر سے پڑھنے کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (639)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں