سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. باب الصلاة في الكعبة
باب: کعبہ کے اندر نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 2026
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ؟ قَالَ:" صَلَّى رَكْعَتَيْنِ".
عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2026]
عبدالرحمن بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو کیا کیا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10590)، وقد أخرجہ: (حم 3/430، 431) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وللمتن شواھد عند البخاري (397) وغيره، فالحديث صحيح
وللمتن شواھد عند البخاري (397) وغيره، فالحديث صحيح
حدیث نمبر: 2023
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ وَ بِلَالٌ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ فَمَكَثَ فِيهَا"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ: مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، ثُمَّ صَلَّى.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید، عثمان بن طلحہ حجبی اور بلال رضی اللہ عنہم کعبہ میں داخل ہوئے، پھر ان لوگوں نے اسے بند کر لیا، اور اس میں رکے رہے، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے جب وہ باہر آئے تو پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ وہ بولے: آپ نے ایک ستون اپنے بائیں طرف اور دو ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کیا (اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا) پھر آپ نے نماز پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2023]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ، عثمان بن طلحہ الحجبی رضی اللہ عنہ اور بلال رضی اللہ عنہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور بلال رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کر دیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کچھ دیر) اندر رہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کے نکلنے پر پوچھا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر کیا کیا تھا؟“ انہوں نے بتایا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ستون اپنی بائیں جانب کیا اور دو ستون دائیں جانب اور تین ستون اپنے پیچھے اور پھر نماز پڑھی۔“ اور بیت اللہ ان دنوں چھ ستونوں پر قائم تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 30 (397)، 81 (486)، 96 (504)، التھجد 25 (1167)، الحج 51 (1598)، الجھاد 127 (2988)، المغازي 49 (4289)، 77 (4400)، صحیح مسلم/الحج 68 (1329)، سنن النسائی/المساجد 5 (693)، القبلة 6 (750)، الحج 126 (2908)، 127 (2909)، سنن ابن ماجہ/المناسک 79 (3063)، (تحفة الأشراف: 2037، 8331)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 46 (874)، موطا امام مالک/الحج 63 (193)، مسند احمد (2/33، 55، 113، 120، 138، 6/12، 13، 14، 15)، سنن الدارمی/المناسک 43 (1908) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (505) صحيح مسلم (1329)