سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب نسخ المراجعة بعد التطليقات الثلاث
باب: تین طلاق کے بعد رجعت کا اختیار باقی نہ رہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2198
وَصَارَ قَوْلُ وَصَارَ قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِيمَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ سُئِلُوا عَنِ الْبِكْرِ يُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا ثَلَاثًا، فَكُلُّهُمْ قَالُوا:" لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ". قالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، أَنَّهُ شَهِدَ هَذِهِ الْقِصَّةَ حِينَ جَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ وَ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، فَسَأَلَهُمَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَا: اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَإِنِّي تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ثُمَّ سَاقَ هَذَا الْخَبَرَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ هُوَ:" أَنَّ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ تَبِينُ مِنْ زَوْجِهَا مَدْخُولًا بِهَا وَغَيْرَ مَدْخُولٍ بِهَا، لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ". هَذَا مِثْلُ خَبَرِ الصَّرْفِ، قَالَ فِيهِ: ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ عَنْهُ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ.
ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول اگلی والی حدیث میں ہے جسے محمد بن ایاس نے روایت کیا ہے کہ ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے باکرہ (کنواری) کے بارے میں جسے اس کے شوہر نے تین طلاق دے دی ہو، دریافت کیا گیا تو ان سب نے کہا کہ وہ اپنے اس شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی، جب تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے یحییٰ نے بکیر بن اشبح سے بکیر نے معاویہ بن ابی عیاش سے روایت کیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں موجود تھے جس وقت محمد بن ایاس بن بکیر، ابن زبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آئے، اور ان دونوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے ہی کہا کہ تم ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ میں انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، پھر انہوں نے یہ پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ تین طلاق سے عورت اپنے شوہر کے لیے بائنہ ہو جائے گی، چاہے وہ اس کا دخول ہو چکا ہو، یا ابھی دخول نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے اس کی مثال «صَرْف» والی حدیث کی طرح ہے ۱؎ اس میں ہے کہ پھر انہوں یعنی ابن عباس نے اس سے رجوع کر لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2198]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ بدل گیا تھا جیسے کہ ہمیں احمد بن صالح اور محمد بن یحییٰ نے بیان کیا اور یہ روایت احمد بن صالح کی ہے اور ان دونوں کی سند یوں ہے «حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ» (دوسری سند) «مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ» محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان، محمد بن ایاس سے بیان کرتے ہیں کہ حضرات ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے سوال کیا گیا کہ "کنواری لڑکی کو اگر اس کا شوہر تین طلاقیں دے دے (قبل از مباشرت) تو؟" سب نے کہا: ”یہ شوہر کے لیے حلال نہیں حتیٰ کہ کسی اور سے نکاح کرے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے بہ سند «يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ» روایت کیا (معاویہ نے کہا) کہ ”میں اس قصے کا گواہ ہوں، محمد بن ایاس بن بکیر، ابن الزبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آیا اور ان دونوں سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس چلے جاؤ، میں نے ان کو عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں چھوڑا ہے۔“ پھر یہ قصہ بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ ”عورت تین طلاق سے اپنے شوہر سے بائنہ (جدا) ہو جاتی ہے، خواہ شوہر نے اس سے مباشرت کی ہو یا نہ کی ہو، وہ اس کے لیے حلال نہیں رہتی جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔“ ان کا یہ فتویٰ ایسے ہی ہے جیسے کہ انہوں نے بیع صرف (سونے چاندی کی بیع) کے بارے میں فتویٰ دیا تھا، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے اس فتویٰ سے رجوع کر لیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2198]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6434)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازی 10 (3991 تعلیقًا) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس طرح وہ نقدی کو نقدی سے بیچنے کے متعلق کہتے تھے کہ اس میں ربا صرف ادھار کی صورت میں ہے نقد کی صورت میں نہیں پھر انہوں نے اس سے رجوع کر لیا تھا اسی طرح یہ معاملہ بھی ہے اس سے بھی انہوں نے بعد میں رجوع کر لیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الزھري صرح بالسماع في المصنف عبد الرزاق (11070)
الزھري صرح بالسماع في المصنف عبد الرزاق (11070)
حدیث نمبر: 2100
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2100]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولی کو بیوہ کے معاملے میں کوئی دخل حاصل نہیں ہے، اور یتیم لڑکی سے مشورہ کیا جائے اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2098)، (تحفة الأشراف: 6517) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه النسائي (3265)
أخرجه النسائي (3265)
حدیث نمبر: 2197
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ رَادُّهَا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَرْكَبُ الْحُمُوقَةَ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ: وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا سورة الطلاق آية 2، وَإِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللَّهَ، فَلَمْ أَجِدْ لَكَ مَخْرَجًا، عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ، وَإِنَّ اللَّهَ قَالَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ سورة الطلاق آية 1 فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ وَغَيْرُهُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَ أَيُّوبُ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ، جَمِيعًا عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، كُلُّهُمْ قَالُوا فِي الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ:" أَنَّهُ أَجَازَهَا"، قَالَ:" وَبَانَتْ مِنْكَ" نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" إِذَا قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، ثَلَاثًا بِفَمٍ وَاحِدٍ، فَهِيَ وَاحِدَةٌ". وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، هَذَا قَوْلُهُ، لَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَجَعَلَهُ قَوْلَ عِكْرِمَةَ.
مجاہد کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے، پھر انہوں نے کہا: تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» ۱؎ اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن»، «في قبل عدتهن» ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اور اسے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے عمرو نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اور ایوب و ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے عکرمہ نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے ابن رافع نے عطاء سے عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے اعمش نے مالک بن حارث سے مالک نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور ابن جریج نے عمرو بن دینار سے عمرو نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ ان سبھوں نے تین طلاق کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو تین ہی مانا اور کہا کہ وہ تمہارے لیے بائنہ ہو گئی جیسے اسماعیل کی روایت میں ہے جسے انہوں نے ایوب سے ایوب نے عبداللہ بن کثیر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور حماد بن زید نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب ایک ہی منہ سے (یکبارگی یوں کہے کہ تجھے تین طلاق دی) تو وہ ایک شمار ہو گی۔ اور اسے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے روایت کیا ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے البتہ انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے عکرمہ کا قول بتایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2197]
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ چنانچہ وہ خاموش رہے حتیٰ کہ مجھے گمان ہوا کہ وہ اس عورت کو اس پر واپس کر دیں گے (رجوع کرنے کا فتویٰ دے دیں گے)۔ پھر بولے: ”تم میں سے ایک اٹھتا ہے اور حماقت کا ارتکاب کرتا ہے، پھر کہتا ہے: ابن عباس! ابن عباس! تحقیق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا﴾ [سورة الطلاق: 2] ”جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے، اللہ اس کے لیے نکلنے کی راہ بھی پیدا فرما دیتا ہے۔“ تو نے اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کیا، لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راہ نہیں پاتا۔ تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور بیوی تجھ سے جدا ہو گئی۔“ اور اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] یعنی «فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ» ”ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔“ ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔“”(اس سند کی متابعات کا بیان) (1) امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس حدیث کو (الف) حمید اعرج وغیرہ نے بواسطہ مجاہد، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ب) شعبہ نے عمرو بن مرہ سے بواسطہ سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ج) ایوب اور ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے بواسطہ سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (د) ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے بواسطہ عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ھ) اعمش نے بواسطہ مالک بن حارث، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (و) ابن جریج نے بواسطہ عمرو بن دینار، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ یہ سب روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تین طلاق کو نافذ کیا اور کہا: ”عورت تجھ سے (بائنہ) جدا ہو گئی“ جیسے کہ «إِسْمَاعِيل عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ» ”اسماعیل نے ایوب سے، انہوں نے عبداللہ بن کثیر سے“ کی سند میں آیا ہے۔“ (2) امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”حماد بن زید، ایوب سے بواسطہ عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب کہنے والے نے ایک ہی مرتبہ کہا کہ ”تجھے تین طلاق ہے“ تو یہ ایک طلاق ہے۔ اور اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے بواسطہ عکرمہ اسے نقل کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا بلکہ اس کو عکرمہ رحمہ اللہ کا قول بنایا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داودٔ (تحفة الأشراف: 6401)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ التفسیر (11602) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو شخص اللہ تعالی سے ڈرتا ہے، وہ اس کے لئے راستہ نکال دیتا ہے۔
۲؎: اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں دو۔
۲؎: اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں دو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3293)
مشكوة المصابيح (3293)