🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب في الظهار
باب: ظہار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2222
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَرَأَى بَرِيقَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ".
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر اس نے چاندنی میں اس کی پنڈلی کی چمک دیکھی، تو اس سے صحبت کر بیٹھا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2222]
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر چاند کی چاندنی میں اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی تو اس سے مجامعت کر بیٹھا، تب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح) (سابقہ روایت دیکھئے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث الآتي (2223)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2213
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ ابْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ عَيَّاشٍ: عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ الْبَيَاضِيُّ، قَالَ: كُنْتُ امْرَأً أُصِيبُ مِنَ النِّسَاءِ مَا لَا يُصِيبُ غَيْرِي، فَلَمَّا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ خِفْتُ أَنْ أُصِيبَ مِنَ امْرَأَتِي شَيْئًا يُتَابَعُ بِي حَتَّى أُصْبِحَ، فَظَاهَرْتُ مِنْهَا حَتَّى يَنْسَلِخَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَبَيْنَمَا هِيَ تَخْدُمُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ إِذْ تَكَشَّفَ لِي مِنْهَا شَيْءٌ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ نَزَوْتُ عَلَيْهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ خَرَجْتُ إِلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمُ الْخَبَرَ، وَقُلْتُ: امْشُوا مَعِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لَا وَاللَّهِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" أَنْتَ بِذَاكَ يَا سَلَمَةُ"، قُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَرَّتَيْنِ، وَأَنَا صَابِرٌ لِأَمْرِ اللَّهِ، فَاحْكُمْ فِيَّ مَا أَرَاكَ اللَّهُ، قَالَ:" حَرِّرْ رَقَبَةً"، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَمْلِكُ رَقَبَةً غَيْرَهَا وَضَرَبْتُ صَفْحَةَ رَقَبَتِي، قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَ: وَهَلْ أَصَبْتُ الَّذِي أَصَبْتُ إِلَّا مِنَ الصِّيَامِ، قَالَ:" فَأَطْعِمْ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ بِتْنَا وَحْشَيْنِ مَا لَنَا طَعَامٌ، قَالَ:" فَانْطَلِقْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ، فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ، وَكُلْ أَنْتَ وَعِيَالُكَ بَقِيَّتَهَا"، فَرَجَعْتُ إِلَى قَوْمِي، فَقُلْتُ: وَجَدْتُ عِنْدَكُمُ الضِّيقَ وَسُوءَ الرَّأْيِ وَوَجَدْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعَةَ وَحُسْنَ الرَّأْيِ، وَقَدْ أَمَرَنِي، أَوْ أَمَرَ لِي، بِصَدَقَتِكُمْ، زَادَ ابْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: بَيَاضَةُ بَطْنٌ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ.
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کے مقابلے میں میں کچھ زیادہ ہی عورتوں کا شوقین تھا، جب ماہ رمضان آیا تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھوں جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے چنانچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کر لیا۔ ایک رات کی بات ہے وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آ گیا تو میں اس سے صحبت کئے بغیر نہیں رہ سکا، پھر جب میں نے صبح کی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں سارا ماجرا سنایا، نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں، وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا تو میں خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! تم نے ایسا کیا؟ میں نے جواب دیا: ہاں اللہ کے رسول، مجھ سے یہ حرکت ہو گئی، دو بار اس طرح کہا، میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، تو آپ میرے بارے میں حکم کیجئے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک گردن آزاد کرو، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے علاوہ میرے پاس کوئی گردن نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو، میں نے کہا: میں تو روزے ہی کے سبب اس صورت حال سے دوچار ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ، میں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانا ہی نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں اسے دے دیں گے اور ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا، اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا، اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا: مجھے تمہارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یا میرے لیے تمہارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2213]
سیدنا سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایسا شخص تھا جو عورتوں کے پاس اس قدر آتا تھا کہ کوئی اور کیا آتا ہو گا (بڑی جنسی قوت والا تھا)۔ جب رمضان کا مہینہ آیا تو مجھے اندیشہ ہوا کہ بیوی کے ساتھ کچھ کر نہ بیٹھوں کہ صبح تک الگ ہی نہ ہو سکوں، سو میں نے اس سے ظہار کر لیا حتیٰ کہ رمضان گزر جائے۔ اتفاق سے ایک رات وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اس کے جسم کا کچھ حصہ میرے سامنے ظاہر ہوا تو میں ضبط نہ کر سکا اور اس کے اوپر چڑھ گیا۔ جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس گیا اور انہیں اپنا قصہ بتایا اور انہیں کہا: میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو، وہ کہنے لگے: نہیں، قسم اللہ کی! (ہم تو نہیں جاتے) تو میں خود ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو گیا اور آپ کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! ارے تو نے؟ میں نے عرض کیا: ہاں اے اللہ کے رسول! میں نے، (دو بار کہا) اور میں اللہ کے حکم پر صابر (راضی) ہوں، میرے بارے میں جو اللہ آپ کو سجھائے فیصلہ فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک گردن آزاد کر دو۔ میں نے کہا: قسم اللہ کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں تو بس اسی کا مالک ہوں اور میں نے اپنی گردن کی ایک جانب پر ہاتھ مارا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر دو مہینے متواتر روزے رکھو۔ میں نے کہا کہ اور یہ جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے، روزوں ہی کی وجہ سے تو ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ایک وسق (ساٹھ صاع) کھجور ساٹھ مسکینوں میں تقسیم کر دو۔ میں نے کہا: قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! ہم نے تو بھوکے پیٹوں رات گزاری ہے، ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بنی زریق کے صدقہ کرنے والے کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہیں کچھ دے گا، تو اس میں سے ایک وسق کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور باقی تم اور تمہارا عیال کھا لے۔ چنانچہ میں اپنی قوم کے پاس واپس آیا اور انہیں کہا: میں نے تمہارے پاس تنگی اور بری رائے پائی، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے وسعت اور بہترین رائے ملی ہے، آپ نے مجھے تمہارے صدقے (لینے) کا حکم فرمایا ہے۔ ابن العلاء نے کہا: ابن ادریس نے وضاحت کی کہ بیاضہ، بنی زریق کی ایک برادری کا نام ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطلاق 20 (1198)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 25 (2062)، (تحفة الأشراف: 4555)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/37، 5/436)، سنن الدارمی/الطلاق 9 (2319) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو الإرواء: 2091) ویأتی ہذا الحدیث برقم (2213)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ظہار یہ ے کہ آدمی اپنی بیوی سے کہے «أنت علي كظهر أمي» یعنی تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے، زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا، شریعت اسلامیہ میں ایسا کہنے والا گنہگار ہو گا اور اس پر کفارہ لازم ہو گا، جب تک کفارہ ادا نہ کر دے وہ بیوی کے قریب نہیں جا سکتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1198،3299) ابن ماجه (2062)
ابن إسحاق مدلس ولم أجد تصريح سماعه وسليمان بن يسار لم يسمعه من سلمة
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2214
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ خُوَيْلَةَ بِنْتِ مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ، قَالَتْ: ظَاهَرَ مِنِّي زَوْجِي أَوْسُ بْنُ الصَّامِتِ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو إِلَيْهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَادِلُنِي فِيهِ، وَيَقُولُ:" اتَّقِي اللَّهَ، فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكِ"، فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا سورة المجادلة آية 1 إِلَى الْفَرْضِ، فَقَالَ:" يُعْتِقُ رَقَبَةً"، قَالَتْ: لَا يَجِدُ، قَالَ:" فَيَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ، قَالَ:" فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَتْ: مَا عِنْدَهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَصَدَّقُ بِهِ، قَالَتْ: فَأُتِيَ سَاعَتَئِذٍ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِّي أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتِ، اذْهَبِي فَأَطْعِمِي بِهَا عَنْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَارْجِعِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ"، قَالَ: وَالْعَرَقُ سِتُّونَ صَاعًا. قَالَ أَبُو دَاوُد فِي هَذَا: إِنَّهَا كَفَّرَتْ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْتَأْمِرَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا أَخُو عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ.
خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں آپ سے شکایت کر رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ان کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ سے ڈر، وہ تیرا چچا زاد بھائی ہے، میں وہاں سے ہٹی بھی نہ تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی: «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها» اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی گفتگو سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق جھگڑ رہی تھی (سورۃ المجادلہ: ۱)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک گردن آزاد کریں، کہنے لگیں: ان کے پاس نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھیں، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! وہ بوڑھے کھوسٹ ہیں انہیں روزے کی طاقت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں، کہنے لگیں: ان کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ کہتی ہیں: اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کی ایک زنبیل آ گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول (آپ یہ دے دیجئیے) ایک اور زنبیل میں دے دوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک ہی کہا ہے، لے جاؤ اور ان کی جانب سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو، اور اپنے چچا زاد بھائی (یعنی شوہر) کے پاس لوٹ جاؤ۔ راوی کا بیان ہے کہ زنبیل ساٹھ صاع کی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ اس عورت نے اپنے شوہر سے مشورہ کئے بغیر اس کی جانب سے کفارہ ادا کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبادہ بن صامت کے بھائی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2214]
سیدہ خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے شوہر اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے اس مسئلے میں بحث فرمانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: اللہ سے ڈرو، وہ تمہارا چچا زاد ہے۔ میں وہاں سے نہ ہٹی تھی کہ قرآن نازل ہو گیا ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ [سورة المجادلة: 1] بیان کفارہ تک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ گردن آزاد کرے۔ اس نے کہا: اس کے پاس نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دو مہینے متواتر روزے رکھے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ بہت بوڑھا ہے، روزے کہاں رکھ سکتا ہے؟ فرمایا: تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ اس نے کہا: اس کے پاس کچھ نہیں ہے کہ صدقہ کرے۔ بیان کرتی ہیں کہ اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا کھجور کا آ گیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک اور ٹوکرے (کھجور) سے اس کی مدد کر سکتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت بہتر ہے۔ جاؤ اور اس کی طرف سے یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور اپنے چچا زاد کی طرف لوٹ جاؤ۔ (یحییٰ بن آدم نے) کہا کہ «الْعَرَقُ» (ٹوکرے) میں ساٹھ صاع کھجور آتی ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس روایت میں کہا کہ اس (خاتون) نے اپنے شوہر کی طرف سے اس کے مشورے کے بغیر ہی کفارہ ادا کر دیا تھا۔ اور کہا کہ یہ (اوس بن صامت) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15825)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/410) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله والعرق
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
معمر بن عبد اللّٰه : مجهول،انظر التحرير (2810)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَهُوَ قَرِيبٌ مِنْ خَمْسَةِ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ:" تَصَدَّقْ بِهَذَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَى أَفْقَرَ مِنِّي وَمِنْ أَهْلِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْهُ أَنْتَ وَأَهْلُكَ".
سلیمان بن یسار سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں آئیں تو آپ نے وہ انہیں دے دیں، وہ تقریباً پندرہ صاع تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارے گھر والے ہی انہیں کھا لو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2217]
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے یہ خبر بیان کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجور لائی گئی، آپ نے یہ اسے دے دی جو پندرہ صاع کے قریب تھی اور فرمایا: اسے صدقہ کر دو۔ تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اپنے اور اپنے گھر والوں سے زیادہ فقیر لوگوں پر صدقہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کھا لو اور تمہارے گھر والے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (2213)، (تحفة الأشراف: 18790) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
وانظر الحديث السابق (2213)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2218
قَرَأْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ وَزِيرٍ الْمِصْرِيِّ، قُلْتُ لَهُ: حَدَّثَكُمْ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أَوْسٍ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْطَاهُ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَ عَطَاءٌ لَمْ يُدْرِكْ أَوْسًا، وَهُوَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ قَدِيمُ الْمَوْتِ. وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ، وَإِنَّمَا رَوَوْهُ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ أَوْسًا.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پندرہ صاع جو دی تاکہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطا نے اوس کو نہیں پایا ہے اور وہ بدری صحابی ہیں ان کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور لوگوں نے اسے اوزاعی سے اوزاعی نے عطاء سے روایت کیا اس میں «عن أوس» کے بجائے «أوسا» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2218]
جناب عطاء، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا اوس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پندرہ صاع جَو عنایت کیے تھے، یعنی ساٹھ مسکینوں کا کھانا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عطاء کی اوس سے ملاقات نہیں ہے، اور یہ (اوس) اہل بدر میں سے تھے، ان کی وفات بہت پہلے ہو گئی تھی اور یہ حدیث مرسل ہے۔ محدثین اسے اوزاعی سے بواسطہ عطاء اور وہ اوس سے روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1743) (صحیح)» ‏‏‏‏ (دیگر شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ منقطع ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
قَالَ أَبو دَاود:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2221
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ ثُمَّ وَاقَعَهَا قَبْلَ أَنَّ يُكَفِّرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ:" مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ"، قَالَ: رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ، قَالَ:" فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ عَنْكَ".
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2221]
جناب عکرمہ (مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما) سے منقول ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس کے ساتھ ہم بستر بھی ہو گیا، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: میں نے چاندنی میں اس کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ لی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اب اس سے دور رہنا حتیٰ کہ اپنا کفارہ دے لے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطلاق 19 (1199)، سنن النسائی/الطلاق 33 (3487)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 26 (2065)، (تحفة الأشراف: 6036) (صحیح)» ‏‏‏‏ (دیگر شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ روایت مرسل ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3302)
انظر الحديث الآتي (2223)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں