🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب من أحق بالولد
باب: بچے کی پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2278
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ إِلَى مَكَّةَ فَقَدِمَ بِابْنَةِ حَمْزَةَ، فَقَالَ جَعْفَرٌ أَنَا آخُذُهَا، أَنَا أَحَقُّ بِهَا ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي خَالَتُهَا وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ، فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا أَحَقُّ بِهَا ابْنَةُ عَمِّي وَعِنْدِي ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أَحَقُّ بِهَا، فَقَالَ زَيْدٌ: أَنَا أَحَقُّ بِهَا أَنَا خَرَجْتُ إِلَيْهَا وَسَافَرْتُ وَقَدِمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ حَدِيثًا، قَالَ:" وَأَمَّا الْجَارِيَةُ، فَأَقْضِي بِهَا لِجَعْفَرٍ تَكُونُ مَعَ خَالَتِهَا وَإِنَّمَا الْخَالَةُ أُمٌّ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ گئے تو حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو لے آئے، جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اسے میں لوں گا، میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز اس کی خالہ میرے پاس ہے، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے، اور علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اس کا زیادہ حقدار میں ہوں کیونکہ یہ میری چچا زاد بہن ہے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے نکاح میں ہے، وہ بھی اس کی زیادہ حقدار ہیں اور زید رضی اللہ عنہ نے کہا: سب سے زیادہ اس کا حقدار میں ہوں کیونکہ میں اس کے پاس گیا، اور سفر کر کے اسے لے کر آیا ہوں، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکی کا فیصلہ میں جعفر کے حق میں کرتا ہوں وہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی اور خالہ ماں کے درجے میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2278]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ آئے اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو ساتھ لے آئے۔ تو سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اسے (اپنی تولیت میں) لیتا ہوں، میں اس کا زیادہ حقدار ہوں۔ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری زوجیت میں ہے، اور «الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ» خالہ بمنزلہ ماں کے ہوتی ہے۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس کا زیادہ حقدار ہوں۔ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور میرے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہے اور وہ اس کی زیادہ حقدار ہے۔ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس کا زیادہ حقدار ہوں۔ میں ہی اس کے پاس گیا، سفر کیا اور اس کو لے کر آیا ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بات کی اور فرمایا: لڑکی کا فیصلہ میں جعفر رضی اللہ عنہ کے حق میں کرتا ہوں کہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی اور «الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ» خالہ بمنزلہ ماں کے ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/98، 115) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وله طريق آخر عند البيھقي (8/6) والحاكم (3/211 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2280
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئٍ، وَهُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ تَبِعَتْنَا بِنْتُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمُّ يَا عَمُّ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ: دُونَكِ بِنْتَ عَمِّكِ فَحَمَلَتْهَا، فَقَصَّ الْخَبَرَ، قَالَ: وَقَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي، فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ:" الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو ہمارے پیچھے پیچھے حمزہ کی لڑکی چچا چچا پکارتی آ گئی، علی رضی اللہ عنہ ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے آئے اور (فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: اپنے چچا کی لڑکی کو لو، انہوں نے اسے اٹھا لیا، راوی نے پھر پورا قصہ بیان کیا اور کہا کہ: جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا: خالہ ماں کے درجے میں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2280]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم مکہ سے نکلے تو حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہمارے پیچھے آ گئی، وہ چچا، چچا پکار رہی تھی۔ پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو لیا اور اس کا ہاتھ پکڑا اور (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: اپنی چچا زاد کو لے لو۔ چنانچہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کو اٹھا لیا اور خبر بیان کی۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میری زوجیت میں ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ خالہ کے حق میں کر دیا اور فرمایا: خالہ ماں کی طرح ہوتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2280]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/98، 108، 115) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں