🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. باب في نفقة المبتوتة
باب: تین طلاق دی ہوئی عورت کے نفقہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2287
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي الْبَتَّةَ، ثُمَّ سَاقَ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ، قَالَ فِيهِ:" وَلَا تُفَوِّتِينِي بِنَفْسِكِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّعْبِيُّ وَ الْبَهِيُّ وَ عَطَاءٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَاصِمٍ وَ أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، كُلُّهُمْ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں قبیلہ بنی مخروم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے مثل حدیث بیان کی اس میں «ولا تفوتيني بنفسك» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے شعبی اور بہی نے اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور ابوبکر بن جہم اور سبھوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ انہیں ان کے شوہر نے تین طلاق دی (نہ کہ طلاق بتہ)۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2287]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں بنی مخزوم کے ایک شخص کی زوجیت میں تھی تو اس نے مجھے طلاق «بَتَّةً» دے دی (تین طلاقیں) اور (اس باب کی پہلی حدیث) مالک کی روایت کی مانند بیان کیا۔ اس روایت میں کہا: مجھے بتائے بغیر اپنے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر لینا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شعبی بھی اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور اسی طرح ابوبکر بن ابی جہم ان سب نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ اس کے شوہر نے اس کو تین طلاقیں دی تھیں۔ (ان حضرات کی روایت میں «بَتَّةً» کا ذکر نہیں ہے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2287]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (2284)، (تحفة الأشراف: 18038) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
انظر الحديث السابق (2284)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2284
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَتَسَخَّطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا:" لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ"، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، اعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى، تَضَعِينَ ثِيَابَكِ، وَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي"، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَ أَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَبُو جَهْمٍ، فَلَا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ، فَصُعْلُوكٌ لَا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ"، قَالَتْ: فَكَرِهْتُهُ، ثُمَّ قَالَ:" انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ"، فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی ۱؎ ابوعمرو موجود نہیں تھے تو ان کے وکیل نے فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے، اس پر وہ برہم ہوئیں، تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ماجرا بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ سے فرمایا: اس کے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے صحابہ کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں، پردے کی دقت نہ ہو گی، تم اپنے کپڑے اتار سکو گی، اور جب عدت مکمل ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب عدت گزر گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہما کے پیغام کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہے ابوجہم تو وہ کندھے سے لاٹھی ہی نہیں اتارتے (یعنی بہت زدو کوب کرنے والے شخص ہیں) اور جہاں تک معاویہ کا سوال ہے تو وہ کنگال ہیں، ان کے پاس مال نہیں ہے ۲؎، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو، فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اسامہ بن زید سے نکاح کر لو، چنانچہ میں نے اسامہ سے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اس قدر بھلائی رکھی کہ لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2284]
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (ان کے شوہر) ابوعمرو بن حفص نے ان کو طلاقِ بتہ دے دی تھی (مختلف اوقات میں تین طلاقیں) اور وہ خود (گھر میں) موجود نہیں تھے۔ تو ان کے وکیل نے فاطمہ کی طرف کچھ جَو بھیجے تو انہوں نے ان کو کم سمجھا اور اس پر راضی نہ ہوئیں۔ تو وکیل نے کہا: قسم اللہ کی! (اخراجات کے سلسلے میں) تیرے لیے ہم پر کوئی چیز واجب ہی نہیں ہے۔ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے اس سے فرمایا: اس کے ذمے تمہارا کوئی خرچ نہیں ہے۔ اور اسے حکم دیا کہ ام شریک کے گھر میں عدت گزارے۔ پھر فرمایا: اس عورت کے ہاں میرے صحابہ آتے رہتے ہیں، تو ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو۔ وہ نابینا آدمی ہے، تمہیں اپنے کپڑے اتارنے میں بھی آسانی رہے گی اور جب تم حلال ہو جاؤ (تمہارے ایام عدت گزر جائیں) تو مجھے اطلاع دینا۔ کہتی ہیں کہ جب میں حلال ہو گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوجہم تو اپنے کندھے سے لٹھ ہی نہیں اتارتا ہے۔ اور معاویہ، تو وہ فقیر آدمی ہے، اس کے پاس کوئی مال نہیں ہے۔ تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔ کہتی ہیں کہ میں نے اس کو ناپسند کیا۔ آپ نے پھر فرمایا: اسامہ بن زید سے نکاح کر لو۔ چنانچہ میں نے ان سے نکاح کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں بہت خیر (اور برکت) فرمائی اور اس وجہ سے مجھ پر رشک کیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن النسائی/النکاح 8 (3224)، الطلاق 73 (3582)، (تحفة الأشراف: 18038)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 37 (1135)، سنن ابن ماجہ/النکاح 10 (1869) الطلاق 4 (2024)، 9 (2032)، 10 (2035)، موطا امام مالک/الطلاق 23 (67)، مسند احمد (6/ 412، 413، 414، 415)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2223) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بعض روایتوں میں ہے انہیں تین طلاق دی اور بعض میں ہے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق دی اور بعض میں ہے انہیں ایک طلاق بھیجی جو باقی رہ گئی تھی ان روایات میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ وہ انہیں اس سے پہلے دو طلاق دے چکے تھے اور اس بار تیسری طلاق دی، تو جس نے یہ روایت کیا ہے کہ انہوں نے تین طلاق میں سے آخری طلاق دی یا وہ طلاق دی جو باقی رہ گئی تھی تو وہ اصل صورت حال کے مطابق ہے اور جس نے روایت کی ہے کہ طلاق بتہ دی تو اس کی مراد یہ ہے کہ ایسی طلاق دی جس سے وہ مبتوتہ ہو گی اور جس نے روایت کی ہے کہ تین طلاق دی تو اس کی مراد یہ ہے کہ تین میں جو کمی رہ گئی تھی اسے پورا کر دیا۔
۲؎: صلاح و مشورہ دینے میں کسی کا حقیقی اور واقعی عیب بیان کرنا درست ہے تاکہ مشورہ لینے والا دھوکہ نہ کھائے، یہ غیبت میں داخل نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1480)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں