سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب المعتكف يدخل البيت لحاجته
باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے گھر میں داخل ہو سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2469
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَكُونُ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ، فَيُنَاوِلُنِي رَأْسَهُ مِنْ خَلَلِ الْحُجْرَةِ فَأَغْسِلُ رَأْسَهُ". وَقَالَ مُسَدَّدٌ: فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی، کنگھی کر دیتی، اور میں حیض سے ہوتی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2469]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف میں ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں سے اپنا سر میری طرف کر دیتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی۔“ مسدد کے الفاظ ہیں: ”میں آپ کی کنگھی کر دیتی جبکہ میں حائضہ ہوتی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16870) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (295، 2030، 5925) صحيح مسلم (297)
حدیث نمبر: 2467
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا اعْتَكَفَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ فَأُرَجِّلُهُ، وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو (مسجد ہی سے) اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2467]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”اعتکاف کے دوران میں اپنا سر مبارک میری طرف جھکا دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے ہی گھر میں تشریف لایا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض3 (297)، (تحفة الأشراف: 17908)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 28 (102)، الاعتکاف 1 (1)، 7 (7)، مسند احمد (6/104، 204، 231، 247، 262، 272، 281)، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1085) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (297)