سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب ما يجزئ من الغزو
باب: جہاد کے بدلے میں کون سی چیز کافی ہے؟
حدیث نمبر: 2509
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا".
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے لیے سامان جہاد فراہم کیا اس نے جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے اہل و عیال کی اچھی طرح خبرگیری کی اس نے جہاد کیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2509]
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی نے مجاہد کو سامانِ جہاد دیا، تو بلاشبہ اس نے جہاد کیا، اور جو مجاہد کے اہل خانہ کی بحسن و خوبی خبرگیری کرتا رہا، تو بلاشبہ اس نے جہاد کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 38 (2843)، صحیح مسلم/الإمارة 38 (1895)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد 6 (1628)، سنن النسائی/الجھاد 44 (3182)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 3 (2759)، (تحفة الأشراف: 3747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/115، 116، 117، 5/192، 193)، سنن الدارمی/ الجھاد 27 (2463) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2843) صحيح مسلم (1895)
حدیث نمبر: 2510
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى بَنِي لَحْيَانَ وَقَالَ: لِيَخْرُجْ مِنْ كُلِّ رَجُلَيْنِ رَجُلٌ، ثُمَّ قَالَ: لِلْقَاعِدِ أَيُّكُمْ خَلَفَ الْخَارِجَ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ بِخَيْرٍ، كَانَ لَهُ مِثْلُ نِصْفِ أَجْرِ الْخَارِجِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی طرف ایک لشکر بھیجا اور فرمایا: ”ہر دو آدمی میں سے ایک آدمی نکل کھڑا ہو“، اور پھر خانہ نشینوں سے فرمایا: ”تم میں جو کوئی مجاہد کے اہل و عیال اور مال کی اچھی طرح خبرگیری کرے گا تو اسے جہاد کے لیے نکلنے والے کا نصف ثواب ملے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2510]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی جانب ایک مہم بھیجی اور فرمایا: ”ہر دو آدمیوں میں سے ایک جہاد کے لیے چلا جائے (آدھے لوگ جہاد کے لیے جائیں اور آدھے رکے رہیں۔)“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکنے والوں سے فرمایا: ”جو تم میں سے مجاہد کے گھر والوں کی عمدہ طور پر خبرگیری کرے گا اس کو جانے والے کا آدھا ثواب ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 38 (1896)، (تحفة الأشراف: 4414)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/15، 49، 55) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1896)