سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. باب في ابن السبيل يأكل من التمر ويشرب من اللبن إذا مر به
باب: مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے۔
حدیث نمبر: 2619
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا، فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِلَّا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے، لیکن ساتھ نہ لے جائے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2619]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی (دوران سفر میں) جانوروں کے پاس سے گزرے اور ان میں ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دے دے، تو دودھ دوہ لے اور پی لے، اگر مالک موجود نہ ہو تو تین بار آواز لگائے، اگر وہ جواب دے تو اس سے اجازت طلب کرے ورنہ دودھ نکال لے اور پی لے مگر ساتھ نہ لے جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البیوع 60 (1296)، (تحفة الأشراف: 4591) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم اس پریشان حال اور مضطر و مجبور مسافر کے لئے ہے جسے کھانا نہ ملنے کی صورت میں اپنی جان کے ہلاک ہونے کا خطرہ لاحق ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1296)
قتادة : عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 96
إسناده ضعيف
ترمذي (1296)
قتادة : عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 96
حدیث نمبر: 2623
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحْلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى مَشْرَبَتُهُ فَتُكْسَرَ خِزَانَتُهُ فَيُنْتَثَلَ طَعَامُهُ، فَإِنَّمَا تَخْزُنُ لَهُمْ ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ أَطْعِمَتَهُمْ، فَلَا يَحْلِبَنَّ أَحَدٌ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی کسی کے جانور کو اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ میں آ کر اس کا گودام توڑ کر غلہ نکال لیا جائے؟ اسی طرح ان جانوروں کے تھن ان کے مالکوں کے گودام ہیں تو کوئی کسی کا جانور اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2623]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کسی کے جانور کا بغیر اجازت دودھ نہ نکالے، کیا تم پسند کرتے ہو کہ کوئی اس کی کوٹھڑی (سٹور) کو توڑ کر اس کا ذخیرہ طعام نکال لے جائے؟ (ایسے ہی) جانوروں کے تھن اپنے مالکوں کے لیے دودھ جمع کرتے ہیں، تو کوئی کسی کے جانور کا دودھ نہ نکالے مگر یہ کہ مالک کی اجازت ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللقطة 8 (2435)، صحیح مسلم/اللقطة 2 (1726)، (تحفة الأشراف: 8300، 8356)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/التجارات 68 (2302)، موطا امام مالک/الاستئذان 6 (17)، مسند احمد (2/4، 6، 57) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2435) صحيح مسلم (1726)