سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
158. باب فيمن قال الخمس قبل النفل
باب: مال غنیمت میں سے نفل (انعام) دینے سے پہلے خمس (پانچویں حصہ) نکالا جائے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2749
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْجُشَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ ابْنِ جَارِيَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُنَفِّلُ الرُّبْعَ، بَعْدَ الْخُمُسِ، وَالثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ إِذَا قَفَلَ".
حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس نکالنے کے بعد ربع (ایک چوتھائی) بطور نفل دیتے تھے (ابتداء جہاد میں) اور جب جہاد سے لوٹ آتے (اور پھر ان میں سے کوئی گروہ کفار سے لڑتا) تو خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی بطور نفل دیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2749]
سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمس نکالنے کے بعد شروع میں (پہلی مرتبہ) چوتھا حصہ بطور نفل (اضافی انعام) دیا کرتے تھے اور غزوے سے لوٹتے وقت (دوبارہ لشکر کشی میں) تیسرا حصہ دیا کرتے تھے خمس نکال لینے کے بعد۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3293) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4008)
انظر الحديث السابق (2748)
مشكوة المصابيح (4008)
انظر الحديث السابق (2748)
حدیث نمبر: 2748
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ الشَّامِيِّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ التَّمِيمِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُنَفِّلُ الثُّلُثَ، بَعْدَ الْخُمُسِ".
حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مال غنیمت میں سے) خمس (پانچواں حصہ) نکالنے کے بعد ثلث (ایک تہائی) بطور نفل (انعام) دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2748]
سیدنا خبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (غنیمت میں سے) پانچواں حصہ نکالنے کے بعد تیسرا حصہ نفل یعنی اضافی انعام کے طور پر تقسیم فرمایا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجھاد 35 (2851)، (تحفة الأشراف: 3293)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/159،160)، سنن الدارمی/السیر 43 (2526) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی پہلے کل مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکال لیتے پھر باقی میں سے ایک تہائی انعام میں دیتے اور دو تہائی بانٹ دیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مكحول صرح بالسماع عند الحاكم (2/133) وھو برئ من التدليس
مكحول صرح بالسماع عند الحاكم (2/133) وھو برئ من التدليس
حدیث نمبر: 2750
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ، وَمَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيَّانِ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَهْبٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مَكْحُولًا، يَقُولُ: كُنْتُ عَبْدًا بِمِصْرَ لِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ، فَأَعْتَقَتْنِي فَمَا خَرَجْتُ مِنْ مِصْرَ وَبِهَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى، ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِجَازَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْهَا وَبِهَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى، ثُمَّ أَتَيْتُ الْعِرَاقَ فَمَا خَرَجْتُ مِنْهَا وَبِهَا عِلْمٌ إِلَّا حَوَيْتُ عَلَيْهِ فِيمَا أُرَى، ثُمَّ أَتَيْتُ الشَّامَ فَغَرْبَلْتُهَا كُلُّ ذَلِكَ أَسْأَلُ عَنِ النَّفَلِ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي فِيهِ بِشَيْءٍ حَتَّى أَتَيْتُ شَيْخًا يُقَالُ لَهُ زِيَادُ بْنُ جَارِيَةَ التَّمِيمِيُّ، فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتَ فِي النَّفَلِ شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ مَسْلَمَةَ الْفِهْرِيَّ يَقُولُ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَفَّلَ الرُّبُعَ فِي الْبَدْأَةِ، وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ".
مکحول کہتے ہیں میں مصر میں قبیلہ بنو ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا، اس نے مجھے آزاد کر دیا، تو میں مصر سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا، پھر میں حجاز آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ جتنا علم وہاں تھا اپنے خیال کے مطابق حاصل نہیں کر لیا، پھر عراق آیا تو وہاں سے بھی اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنے خیال کے مطابق جتنا علم وہاں تھا اسے حاصل نہ کر لیا، پھر میں شام آیا تو اسے بھی اچھی طرح چھان مارا، ہر شخص سے میں نفل کا حال پوچھتا تھا، میں نے کسی کو نہیں پایا جو اس سلسلہ میں کوئی حدیث بیان کرے، یہاں تک کہ میں ایک شیخ سے ملا جن کا نام زیاد بن جاریہ تمیمی تھا، میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نفل کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ کہا: ہاں! میں نے حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں ایک چوتھائی بطور نفل دیا اور لوٹ آنے کے بعد (پھر حملہ کرنے پر) ۱؎ ایک تہائی بطور نفل دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2750]
سیدنا مکحول رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں مصر میں بنی ہذیل کی ایک عورت کا غلام تھا۔ اس نے مجھے آزاد کر دیا۔ پھر میں وہاں (مصر) سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنی دانست کے مطابق وہاں کے علماء سے تمام کا تمام علم حاصل نہیں کر لیا۔ پھر میں حجاز آیا اور وہاں سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنی دانست کے مطابق وہاں کا تمام علم جمع نہیں کر لیا۔ پھر میں عراق آیا اور وہاں سے اس وقت تک نہیں نکلا جب تک کہ اپنی دانست کے مطابق وہاں کا تمام علم جمع نہیں کر لیا۔ پھر میں شام آیا اور اس (کے علماء) کو خوب کریدا اور ہر ایک سے میں غنیمت میں نفل (اضافی انعام) کے متعلق سوال کرتا رہا تو مجھے کوئی نہ ملا جو مجھے اس بارے میں کچھ بتاتا۔ بالآخر میں ایک شیخ سے ملا جس کا نام زیاد بن جاریہ تمیمی رحمہ اللہ تھا، میں نے اس سے پوچھا: ”کیا آپ نے نفل کے متعلق کچھ سنا ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں! میں نے حبیب بن مسلمہ فہری رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے، فرما رہے تھے: ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر تھا کہ آپ نے شروع جہاد میں چوتھا حصہ اور لوٹتے وقت (دوسری بار حملہ کرنے کی صورت میں) تیسرا حصہ بطور نفل (اضافی انعام) عنایت فرمایا تھا۔“““ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (2748)، (تحفة الأشراف: 3293) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ لوٹ آنے کے بعد پھر لڑنے کے لئے جانا سخت اور دشوار عمل ہے کیونکہ دشمن چوکنا اور محتاط ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4007)
وله شاھد عند الترمذي (1561)
مشكوة المصابيح (4007)
وله شاھد عند الترمذي (1561)