سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
178. باب في الصلاة عند القدوم من السفر
باب: سفر سے واپسی پر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2781
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ:أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَعَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِمَا كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ إِلَّا نَهَارًا"، قَالَ الْحَسَنُ:" فِي الضُّحَى فَإِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ".
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے دن ہی میں آتے، (حسن کہتے ہیں) چاشت کے وقت آتے اور جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں آ کر دو رکعت پڑھتے پھر اس میں بیٹھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2781]
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو (بالعموم) دن ہی میں آیا کرتے تھے۔“ (راویِ حدیث) حسن بن علی نے کہا کہ ”چاشت کے وقت آیا کرتے تھے۔“ اور ”جب سفر سے (واپس) آتے تو مسجد میں تشریف لے جاتے، وہاں دو رکعتیں پڑھتے پھر وہاں بیٹھ جاتے (تاکہ لوگوں سے ملاقات کر لیں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم:(2773)، (تحفة الأشراف: 11132) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (3088) صحيح مسلم (3769)
حدیث نمبر: 1292
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ" هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، قُلْتُ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرِنُ بَيْنَ السُّورَتَيْنِ؟ قَالَتْ: مِنَ الْمُفَصَّلِ".
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں (ملا کر پڑھتے تھے) ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 1292]
جناب عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، الا یہ کہ سفر سے تشریف لاتے۔“ میں نے پوچھا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورتیں ملا کر پڑھ لیا کرتے تھے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، مفصل میں سے (یعنی آخری منزل کی سورتوں میں سے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 1292]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 13 (717)، سنن النسائی/الصیام 19 (2187)، (تحفة الأشراف: 16211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/171، 204، 218) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”سورۃ الحجرات“ سے ”سورۃ الناس“ تک کی سورتیں مفصل کہلاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م الشطر الأول منه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (717)
حدیث نمبر: 1293
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ يَعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 1293]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحیٰ کے نفل کبھی نہیں پڑھے، میں البتہ پڑھتی ہوں۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ عمل کرنا چاہتے مگر چھوڑ دیتے تھے، کہ لوگ عمل کریں گے تو کہیں ان پر فرض نہ کر دیا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 1293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 5 (1128)، صحیح مسلم/المسافرین 13 (718)، (تحفة الأشراف: 16590)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 8 (29)، مسند احمد (6/85، 86، 167، 169، 223)، سنن الدارمی/الصلاة 152 (149) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1128) صحيح مسلم (718)
حدیث نمبر: 2773
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ وَقَصَّ ابْنُ السَّرْحِ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، ثُمَّ صَلَّيْتُ الصُّبْحَ صَبَاحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَسَمِعْتُ صَارِخًا يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے (اس کے بعد ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں ۱؎ سے بات کرنے سے منع فرما دیا، یہاں تک کہ مجھ پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو میں اپنے چچا زاد بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں دیوار پھاند کر گیا، میں نے ان کو سلام کیا، اللہ کی قسم انہوں نے جواب تک نہیں دیا، پھر میں نے اپنے گھر کی چھت پر پچاسویں دن کی نماز فجر پڑھی تو ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو پکار رہا تھا: کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ، پھر جب وہ شخص جس کی آواز میں نے سنی تھی میرے پاس آیا، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے، اور میں مسجد نبوی کی طرف چل پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے، مجھ کو دیکھ کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور دوڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2773]
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی سفر سے واپس لوٹتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے، وہاں دو رکعتیں پڑھتے اور پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھ جاتے۔“ (امام ابوداؤد کے شیخ) ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو منع فرما دیا تھا کہ ہم تینوں سے کوئی بات چیت کرے۔ حتیٰ کہ جب یہ کیفیت بہت طویل ہو گئی تو میں اپنے چچا زاد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی دیوار پر چڑھا اور میں نے اس کو سلام کہا۔ اللہ کی قسم! اس نے مجھے جواب نہیں دیا۔ پھر جب پچاس راتیں پوری ہو گئیں اور اس صبح فجر کی نماز میں نے اپنے ایک مکان کی چھت پر پڑھی، تو میں نے ایک بلند آواز سے پکارنے والے کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا: ”اے کعب بن مالک! خوشخبری ہو۔“ پھر جب وہ میرے پاس پہنچا، جس کی آواز میں نے سنی تھی، تو میں نے اس کے لیے اپنے کپڑے اتارے اور اس کو پہنا دیے۔ پھر میں چلا حتیٰ کہ جب مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے میری طرف لپکے، حتیٰ کہ مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد پیش کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ الجہاد 198 (3088)، صحیح مسلم/المسافرین 12 (716)، سنن النسائی/المساجد 38(732)، (تحفة الأشراف: 11132) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہم تینوں سے مراد کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم ہیں، یہ لوگ بغیر کسی عذر شرعی کے غزوہ تبوک میں نہیں گئے، جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے واپس آئے تو ان لوگوں نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر صاف صاف کہہ دیا کہ اللہ کے رسول ہمارے پاس کوئی عذر نہیں تھا، محض سستی کی وجہ سے ہم لوگ اس غزوہ میں شریک نہیں ہوئے، اسی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم صادر فرمایا تھا کہ ان تینوں سے کوئی بات نہ کرے۔
۲؎: یہ توبہ قبول ہونے کی مبارکبادی تھی۔
۲؎: یہ توبہ قبول ہونے کی مبارکبادی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق مطولا بقصة غزوة تبوك
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4676) صحيح مسلم (2769)
حدیث نمبر: 2782
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حِينَ أَقْبَلَ مِنْ حَجَّتِهِ دَخَلَ الْمَدِينَةَ، فَأَنَاخَ عَلَى بَابِ مَسْجِدِهِ، ثُمَّ دَخَلَهُ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ"، قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ كَذَلِكَ يَصْنَعُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں داخل ہوئے تو مسجد نبوی کے دروازہ پر اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اندر جا کر دو رکعتیں پڑھیں پھر اپنے گھر گئے۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2782]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے حج سے واپس تشریف لائے اور مدینے میں داخل ہوئے تو اپنی اونٹنی کو مسجد کے دروازے کے پاس بٹھایا اور مسجد میں چلے گئے اور دو رکعتیں ادا کیں پھر اپنے گھر تشریف لے گئے۔“ نافع بیان کرتے ہیں کہ ”سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2782]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8417)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/129) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن