🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
173. باب في إعطاء البشير
باب: خوشخبری لانے والے کو انعام دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2773
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ وَقَصَّ ابْنُ السَّرْحِ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، ثُمَّ صَلَّيْتُ الصُّبْحَ صَبَاحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَسَمِعْتُ صَارِخًا يَا كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ أَبْشِرْ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَيَّ فَكَسَوْتُهُمَا إِيَّاهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّأَنِي.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے (اس کے بعد ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں ۱؎ سے بات کرنے سے منع فرما دیا، یہاں تک کہ مجھ پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو میں اپنے چچا زاد بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں دیوار پھاند کر گیا، میں نے ان کو سلام کیا، اللہ کی قسم انہوں نے جواب تک نہیں دیا، پھر میں نے اپنے گھر کی چھت پر پچاسویں دن کی نماز فجر پڑھی تو ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو پکار رہا تھا: کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ، پھر جب وہ شخص جس کی آواز میں نے سنی تھی میرے پاس آیا، تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دیئے، اور میں مسجد نبوی کی طرف چل پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف فرما تھے، مجھ کو دیکھ کر طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور دوڑ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2773]
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی سفر سے واپس لوٹتے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے، وہاں دو رکعتیں پڑھتے اور پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھ جاتے۔ (امام ابوداؤد کے شیخ) ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو منع فرما دیا تھا کہ ہم تینوں سے کوئی بات چیت کرے۔ حتیٰ کہ جب یہ کیفیت بہت طویل ہو گئی تو میں اپنے چچا زاد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی دیوار پر چڑھا اور میں نے اس کو سلام کہا۔ اللہ کی قسم! اس نے مجھے جواب نہیں دیا۔ پھر جب پچاس راتیں پوری ہو گئیں اور اس صبح فجر کی نماز میں نے اپنے ایک مکان کی چھت پر پڑھی، تو میں نے ایک بلند آواز سے پکارنے والے کی آواز سنی جو کہہ رہا تھا: اے کعب بن مالک! خوشخبری ہو۔ پھر جب وہ میرے پاس پہنچا، جس کی آواز میں نے سنی تھی، تو میں نے اس کے لیے اپنے کپڑے اتارے اور اس کو پہنا دیے۔ پھر میں چلا حتیٰ کہ جب مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے میری طرف لپکے، حتیٰ کہ مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد پیش کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الجہاد 198 (3088)، صحیح مسلم/المسافرین 12 (716)، سنن النسائی/المساجد 38(732)، (تحفة الأشراف: 11132) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ہم تینوں سے مراد کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم ہیں، یہ لوگ بغیر کسی عذر شرعی کے غزوہ تبوک میں نہیں گئے، جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے واپس آئے تو ان لوگوں نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر صاف صاف کہہ دیا کہ اللہ کے رسول ہمارے پاس کوئی عذر نہیں تھا، محض سستی کی وجہ سے ہم لوگ اس غزوہ میں شریک نہیں ہوئے، اسی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم صادر فرمایا تھا کہ ان تینوں سے کوئی بات نہ کرے۔
۲؎: یہ توبہ قبول ہونے کی مبارکبادی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق مطولا بقصة غزوة تبوك
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4676) صحيح مسلم (2769)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥كعب بن مالك الأنصاري، أبو بشير، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن كعب الأنصاري، أبو فضالة، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن كعب الأنصاري ← كعب بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله الأنصاري، أبو الخطاب
Newعبد الرحمن بن عبد الله الأنصاري ← عبد الله بن كعب الأنصاري
ثقة عالم
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبد الرحمن بن عبد الله الأنصاري
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن عمرو القرشي، أبو الطاهر
Newأحمد بن عمرو القرشي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
1659
لا يقدم من سفر إلا نهارا في الضحى فإذا قدم بدأ بالمسجد فصلى فيه ركعتين ثم جلس فيه
سنن أبي داود
2781
لا يقدم من سفر إلا نهارا
سنن أبي داود
2773
إذا قدم من سفر بدأ بالمسجد فركع فيه ركعتين ثم جلس للناس
المعجم الصغير للطبراني
316
إذا قدم من سفر بدأ بالمسجد فصلى فيه ركعتين ثم دخل منزله
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2773 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2773
فوائد ومسائل:

یہ غزوہ تبوک میں حضرت کعب بن ماک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غیر حاضری پر ان کے بائکاٹ سے متعلق واقعہ ہے۔
جو فتح مکہ کے بعد سن 9 ہجری میں پیش آیا تھا۔
اور یہی وہ غزوہ ہے۔
جو اس دور کے تمام مسلمانوں پر بالمعوم فرض عین ہوا تھا۔
مگر مخلص مسلمانوں میں سے تین افراد بغیر کسی معقول عذر کے پیچھے رہ گئے یعنی کعب بن مالک سربراہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔
تو انہوں نے بصراحت اقرار کیا۔
کہ ہمارے پیچھے رہ جانے میں کوئی شرعی عذر نہ تھا۔
چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان سے مقاطعہ کرلیں۔
چالیس دن کے بعد حکم آیا کہ یہ اپنی عورتوں سے بھی الگ رہیں۔
پچاس دن پورے ہونے پر توبہ قبول کی گئی۔
او ر یہ آیت نازل ہوئی۔
(وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّىٰ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ اللَّـهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ) (التوبة۔
118) اور اللہ نے ان تین آدمیوں کی توبہ قبول فرما لی۔
جن کا معاملہ موخر کیا گیا تھا۔
یہا ں تک کہ جب زمین باوجود اپنی کشادگی کے ان پر تنگ ہوگئی۔
اورخود ان کی جان بھی ان پر تنگ ہوگئی۔
اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اللہ کے سوائے ان کےلئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
پھر اللہ نے ان پر رجوع فرمایا تاکہ وہ توبہ کرلیں۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا بہت مہربان ہے۔


جو شخص خوشخبری پہنچائے اسے ہدیہ دینا مستحب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2773]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1659
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے دن کو چاشت کے وقت ہی واپس لوٹتے تھے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے، مسجد سے آغاز فرماتے اس میں دو رکعت نماز ادا کرتے پھر وہیں تشریف رکھتے (تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو سکے)۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1659]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
ان احادیث سے معلوم ہوا سفر سے واپسی کے بعد اپنے گھر جانے سے پہلے اللہ کے گھر میں حاضر ہونا چاہیے تاکہ اپنے گھر والوں کی ملاقات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور ہدیہ عبودیت پیش کیا جا سکے۔
(2)
اگر کوئی انسان لوگوں کی عقیدت و محبت کا مرکز ہو اور لوگ اس کی ملاقات وزیارت کے مشتاق ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ سفر سے واپسی پر تَحِیَّةُ الْمَسْجِد ادا کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے مسجد میں بیٹھ جائے تاکہ لوگ آسانی کے ساتھ اس سے ملاقات کی سعادت حاصل کر سکیں۔
(3)
اس لئے گھر واپسی ایسے وقت میں ہونی چاہیے جو ان کے علم میں ہو اور ان کے لیے دقت و کلفت کا باعث نہ ہو اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپسی میں آخری منزل عموماً مدینہ طیبہ کے قریب ہی کرتے تھے جس کی وجہ سے مدینہ طیبہ میں یہ اطلاع ہو جاتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل صبح تشریف لانے والے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منزل سے صبح جلد روانہ ہو کر چاشت کے وقت مدینہ منورہ پہنچ جاتے اور سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے تاکہ گھر والوں کو آمد کا علم ہو جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1659]

Sunan Abi Dawud Hadith 2773 in Urdu