سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
113. باب من قال تجمع بين الصلاتين وتغتسل لهما غسلا
باب: مستحاضہ عورت ایک غسل سے دو نمازیں پڑھے۔
حدیث نمبر: 296
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ، لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ فَإِذَا رَأَتْ صُفْرَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا وَتَتَوَضَّأْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مُجَاهِدٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ، أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ.
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے اتنے دنوں سے (خون) استحاضہ آ رہا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھ سکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، وہ ایک لگن میں بیٹھ جائیں، جب پانی پر زردی دیکھیں تو ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل، اور فجر کے لیے ایک غسل کریں، اور اس کے درمیان میں وضو کرتی رہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا دشوار ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابراہیم نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور یہی قول ابراہیم نخعی اور عبداللہ بن شداد کا بھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 296]
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو اتنی مدت سے استحاضہ ہو رہا ہے، اور وہ نماز نہیں پڑھ سکی،“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ!“ یہ شیطانی اثر ہے، اسے چاہیے کہ ٹب میں بیٹھے، اگر پانی میں زردی غالب ہو تو چاہیے کہ ظہر اور عصر کے لیے ایک غسل کرے اور مغرب اور عشاء کے لیے ایک غسل کرے اور فجر کے لیے ایک غسل کرے اور ان کے مابین وضو کرے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”اس حدیث کو مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ جب اس پر (ہر نماز کے لیے) غسل مشکل ہو گیا تو اسے حکم دیا کہ دو نمازوں کو جمع کر لیا کرے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اور اسے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور ایسے ہی عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 296]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 15760) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزھري عنعن (تقدم: 145)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 25
إسناده ضعيف
الزھري عنعن (تقدم: 145)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 25
حدیث نمبر: 279
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَرَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنَ دَمًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ قُتَيْبَةُ بَيْنَ أَضْعَافِ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ فِي آخِرِهَا، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ اللَّيْثِ، فَقَالَا: جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (استحاضہ) کے خون کے بارے میں سوال کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کے لگن کو خون سے بھرا دیکھا، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جتنے دنوں تک تمہیں تمہارا حیض پہلے روکتا تھا اسی کے بقدر رکی رہو، پھر غسل کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے قتیبہ نے جعفر بن ربیعہ کی حدیث کے آخر میں بین السطور یا حاشیہ میں روایت کیا ہے نیز اسے علی بن عیاش، اور یونس بن محمد نے لیث سے روایت کیا ہے، اور دونوں نے (جعفر کے بجائے) جعفر بن ربیعہ کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 279]
جناب عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خون کے متعلق پوچھا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”میں نے ان کی لگن دیکھی تھی کہ خون سے بھری ہوئی تھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اس عارضہ سے پہلے کی عادت کے مطابق نماز سے رکی رہو جیسے کہ باقاعدہ تمہیں حیض روکتا تھا، پھر غسل کر لو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”قتیبہ نے ایک حدیث میں بین السطور اس روایت کی سند میں جعفر کا نسب ”جعفر بن ربیعہ“ دوسری مرتبہ میں واضح کیا (یعنی انہیں جعفر کے ابن ربیعہ ہونے میں شک تھا) جبکہ علی بن عیاش اور یونس بن محمد نے لیث سے روایت کیا تو ان دونوں نے بصراحت (بغیر شک کے) ”جعفر بن ربیعہ“ کہا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 279]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 14 (334)، سنن النسائی/الطھارة 134 (207)، والحیض 3 (353)، (تحفة الأشراف: 16370)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 116 (626)، مسند احمد (6/83، 141، 187، سنن الدارمی/الطھارة 83 (805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (334)
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ بُهَيَّةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ عَائِشَةَ عَنِ امْرَأَةٍ فَسَدَ حَيْضُهَا وَأُهْرِيقَتْ دَمًا،" فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ آمُرَهَا فَلْتَنْظُرْ قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحِيضُ فِي كُلِّ شَهْرٍ وَحَيْضُهَا مُسْتَقِيمٌ، فَلْتَعْتَدَّ بِقَدْرِ ذَلِكَ مِنَ الْأَيَّامِ، ثُمَّ لِتَدَعِ الصَّلَاةَ فِيهِنَّ أَوْ بِقَدْرِهِنَّ، ثُمَّ لِتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لِتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لِتُصَلِّي".
بہیہ کہتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک عورت کے بارے میں جس کا حیض بگڑ گیا تھا اور خون برابر آ رہا تھا (مسئلہ) پوچھتے ہوئے سنا (ام المؤمنین عائشہ کہتی ہیں): تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اسے بتاؤں کہ وہ دیکھ لے کہ جب اس کا حیض صحیح تھا تو اسے ہر مہینے کتنے دن حیض آتا تھا؟ پھر اسی کے بقدر ایام شمار کر کے ان میں یا انہیں کے بقدر ایام میں نماز چھوڑ دے، غسل کرے، کپڑے کا لنگوٹ باندھے پھر نماز پڑھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 284]
بہیہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ایک عورت کو سنا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ رہی تھی کہ جس عورت کا نظام حیض خراب ہو گیا ہو اور اسے بہت زیادہ خون آتا ہو (تو وہ کیا کرے؟) تو (انہوں نے کہا): ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ میں اسے کہوں کہ اتنے دن انتظار کرے جتنے کہ ہر مہینے اسے حیض آتا تھا جبکہ اس کا حیض صحیح تھا، تو اس قدر ایام شمار کرے اور ان میں نماز چھوڑے رہے، پھر غسل کرے، کپڑے سے لنگوٹ باندھے اور نماز پڑھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17826) (ضعیف)» (اس کی سند میں واقع بہیَّہ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بھية: لا تعرف (تقريب: 8547)
وأبو عقيل يحيي بن المتوكل: ضعيف (تقريب: 7633) وقال الھيثمي: وھو ضعيف عند الجمھور (مجمع الزوائد 5/ 53)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
إسناده ضعيف
بھية: لا تعرف (تقريب: 8547)
وأبو عقيل يحيي بن المتوكل: ضعيف (تقريب: 7633) وقال الھيثمي: وھو ضعيف عند الجمھور (مجمع الزوائد 5/ 53)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24