🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب في بيان مواضع قسم الخمس وسهم ذي القربى
باب: خمس کے مصارف اور قرابت داروں کو حصہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2988
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي الْجُرَيرِيَّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنْ ابْنِ أَعْبُدَ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ؟ قُلْتُ: بَلَى قَالَ: إِنَّهَا جَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ فِي يَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَ فِي نَحْرِهَا وَكَنَسَتَ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدَمٌ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا، فَأَتَتْهُ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ حُدَّاثًا فَرَجَعَتْ فَأَتَاهَا مِنَ الْغَدِ فَقَالَ: مَا كَانَ حَاجَتُكِ؟ فَسَكَتَتْ، فَقُلْتُ أَنَا أُحَدِّثُكَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ فِي يَدِهَا وَحَمَلَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا فَلَمَّا أَنْ جَاءَكَ الْخَدَمُ أَمَرْتُهَا أَنْ تَأْتِيَكَ فَتَسْتَخْدِمَكَ خَادِمًا يَقِيهَا حَرَّ مَا هِيَ فِيهِ، قَالَ:" اتَّقِي اللَّهَ يَا فَاطِمَةُ وَأَدِّي فَرِيضَةَ رَبِّكِ وَاعْمَلِي عَمَلَ أَهْلِكِ، فَإِذَا أَخَذْتِ مَضْجَعَكِ، فَسَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ فَهِيَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ"، قَالَتْ: رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعَنْ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابن اعبد کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی جو آپ کو اپنے تمام کنبے والوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پیاری تھیں کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، آپ نے کہا: فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسی یہاں تک کہ ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے، اور پانی بھربھر کر مشک لاتیں جس سے ان کے سینے میں درد ہونے لگا اور گھر میں جھاڑو دیتیں جس سے ان کے کپڑے خاک آلود ہو جاتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام اور لونڈیاں آئیں تو میں نے ان سے کہا: اچھا ہوتا کہ تم اپنے ابا جان کے پاس جاتی، اور ان سے اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیتی، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ آپ سے گفتگو کر رہے ہیں تو لوٹ آئیں، دوسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: تم کس ضرورت سے آئی تھیں؟، وہ چپ رہیں تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان (گٹھا) پڑ گیا، مشک ڈھوتے ڈھوتے سینے میں درد رہنے لگا اب آپ کے پاس خادم آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جائیں، اور آپ سے ایک خادم مانگ کر لائیں، جس کے ذریعہ اس شدت و تکلیف سے انہیں نجات ملے جس سے وہ دو چار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ! اللہ سے ڈرو اور اپنے رب کے فرائض ادا کرتی رہو، اور اپنے گھر کے کام کیا کرو، اور جب سونے چلو تو (۳۳) بار سبحان اللہ، (۳۳) بار الحمدللہ، اور (۳۴) بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، یہ کل سو ہوئے یہ تمہارے لیے خادمہ سے بہتر ہیں ۱؎۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2988]
ابن اعبد سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اپنی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دختر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ بتاؤں؟ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل میں سب سے زیادہ پیار تھا۔ میں نے کہا: ہاں بتائیے۔ تو انہوں نے کہا: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چکی چلاتی تھیں حتیٰ کہ ہاتھوں پر نشان پڑ گئے، پانی کی مشک بھر کر لاتی تھیں حتیٰ کہ ان کے سینے پر نشان پڑ گئے، گھر میں جھاڑو دیتیں تو کپڑے خراب ہو جاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لونڈیاں اور غلام آئے۔ میں نے ان سے کہا: اگر آپ اپنے والد کے پاس جا کر کسی خادم کے متعلق کہیں (تو آپ کو سہولت مل جائے گی۔) چنانچہ وہ آئیں اور دیکھا کہ کئی باتیں کرنے والے آپ کے پاس بیٹھے ہیں، اس پر آپ واپس آ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے دن ان کے پاس آئے اور دریافت فرمایا: کیا کام تھا؟ تو وہ خاموش رہیں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں بتائے دیتا ہوں۔ یہ چکی چلاتی ہیں تو ان کے ہاتھوں پر نشان پڑ گئے ہیں۔ پانی کی مشک اٹھا کر لاتی ہیں تو اس سے سینے پر نشان پڑ گئے ہیں۔ اور اب آپ کے پاس لونڈیاں غلام آئے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کی خدمت میں جائیں اور کوئی خادم طلب کر لیں جس سے انہیں ان کاموں کی مشقت میں آسانی ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ! اللہ سے ڈرو، اپنے رب کا فریضہ ادا کرو اور اپنے گھر والوں کا کام کاج کیا کرو۔ اور رات کو جب سونے لگو تو تینتیس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» سبحان اللہ، تینتیس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» الحمد للہ اور چونتیس بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہہ لیا کرو، یہ سو بار ہوا۔ اور یہ عمل تمہارے لیے خادم سے بڑھ کر ہے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ عزوجل سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے (بہ دل و جان) راضی ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود بہذا الیساق: (اتقي اللّٰہ یا فاطمة، وأدي فریضة ربک، واعملي عمل أہلک)، وأما البقیة من الحدیث فقد رواہ کل من:صحیح البخاری/فرض الخمس 6 (3113)، فضائل الصحابة 9 (3705)، النفقات 6 (5361)، الدعوات 11 (6318)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 19 (2727)، سنن الترمذی/الدعوات 24 (3408)، (تحفة الأشراف: 10245)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/96)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأدب (5062) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (مذکورہ جملے کے اضافہ کے ساتھ ضعیف ہے کیونکہ اس سے راوی ابوالورد لین الحدیث ہیں اور ابن اعبد مجہول ہیں، بقیہ حصہ توصحیحین میں ہے)
وضاحت: ۱؎: شاید اسی میں مصلحت رہی ہوکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل واولاد کو دنیا میں تکلیف وتنگ دستی رہے، تاکہ یہ چیز آخرت میں ان کے لئے بلندی درجات کا سبب بنے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (5063)
علي بن عبد : مجهول (تق : 4689)
وأصل الحديث في الصحيحين بدون ھذه القصة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5062
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ الْمَعْنَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ:حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ:" شَكَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، فَأُتِيَ بِسَبْيٍ فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ، فَلَمْ تَرَهُ فَأَخْبَرَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ، فَقَالَ: عَلَى مَكَانِكُمَا , فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنَنَا، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا، فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چکی پیسنے سے اپنے ہاتھ میں پہنچنے والی تکلیف کی شکایت لے کر گئیں، اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے تو وہ آپ کے پاس لونڈی مانگنے آئیں، لیکن آپ نہ ملے تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا کر چلی آئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا (کہ فاطمہ آئی تھیں ایک خادمہ مانگ رہی تھیں) یہ سن کر آپ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کے لیے اپنی خواب گاہ میں لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر رہو (اٹھنا ضروری نہیں) چنانچہ آپ آ کر ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، آپ نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے، جب تم سونے چلو تو (۳۳) بار سبحان اللہ کہو، (۳۳) بار الحمدللہ کہو، اور (۳۴) بار اللہ اکبر کہو، یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 5062]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چکی پیسنے کے باعث ہاتھوں میں تکلیف کا اظہار کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہ آپ سے کوئی خادم طلب کریں، مگر آپ نہ ملے، تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا (کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئی تھیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم اپنے بستروں میں جا چکے تھے۔ آپ تشریف لائے تو ہم اٹھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر رہو۔ آپ آئے اور ہمارے درمیان بیٹھ گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس چیز سے بہت بہتر ہو جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے؟ جب تم بستر پر لیٹنے لگو تو تینتیس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے، تینتیس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور چونتیس بار «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے پڑھ لیا کرو۔ یہ تمہارے لیے خادم سے کہیں بہتر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 5062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/فرض الخمس 6 (3113)، المناقب 9 (3705)، النفقات 6 (5361)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 19 (2727)، (تحفة الأشراف: 10210)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 24 (3408)، مسند احمد (1/146)، سنن الدارمی/الاستئذان 52 (2727) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5361) صحيح مسلم (2727)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں