🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب ما جاء في حكم أرض خيبر
باب: خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3008
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ، سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى النِّصْفِ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ"، وَكَانَ التَّمْرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمُسَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِهِ مِنَ الْخُمُسِ مِائَةَ وَسْقٍ تَمْرًا وَعِشْرِينَ وَسْقًا شَعِيرًا، فَلَمَّا أَرَادَ عُمَرُ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُنَّ: مَنْ أَحَبَّ مِنْكُنَّ أَنْ أَقْسِمَ لَهَا نَخْلًا بِخَرْصِهَا مِائَةَ وَسْقٍ فَيَكُونَ لَهَا أَصْلُهَا وَأَرْضُهَا وَمَاؤُهَا وَمِنَ الزَّرْعِ مَزْرَعَةَ خَرْصٍ عِشْرِينَ وَسْقًا، فَعَلْنَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ نَعْزِلَ الَّذِي لَهَا فِي الْخُمُسِ كَمَا هُوَ فَعَلْنَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ: آپ ہمیں اس شرط پر یہیں رہنے دیں کہ ہم محنت کریں گے اور جو پیداوار ہو گی اس کا نصف ہم لیں گے اور نصف آپ کو دیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ہم تمہیں اس شرط پر رکھ رہے ہیں کہ جب تک چاہیں گے رکھیں گے،، چنانچہ وہ اسی شرط پر رہے، خیبر کی کھجور کے نصف کے کئی حصے کئے جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے پانچواں حصہ لیتے، اور اپنی ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو (سال بھر میں) دیتے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے یہود کو نکال دینے کا ارادہ کر لیا تو امہات المؤمنین کو کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے کہ میں اس کو اتنے درخت دے دوں جن میں سے سو وسق کھجور نکلیں مع جڑ کھجور اور پانی کے اور اسی طرح کھیتی میں سے اس قدر زمین دے دوں جس میں بیس وسق جو پیدا ہو، تو میں دے دوں اور جو پسند کرے کہ میں خمس میں سے اس کا حصہ نکالا کروں جیسا کہ ہے تو میں ویسا ہی نکالا کروں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3008]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہو گیا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمیں یہیں رہنے دیا جائے، ہم محنت کریں گے اور جو آمدنی ہو گی اس سے آدھی آپ کو ادا کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیتا ہوں کہ جب تک ہم چاہیں گے۔ چنانچہ وہ اسی کے مطابق وہاں رہے۔ اور خیبر سے حاصل ہونے والی آدھی کھجور کئی حصوں پر تقسیم کی جاتی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچواں حصہ لیا کرتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو عنایت فرمایا کرتے تھے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو نکالنے کا ارادہ کیا تو ازواجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے میں اسے اتنے درخت دیے دیتا ہوں جس سے سو وسق کھجور حاصل ہو اور وہ درخت، زمین اور پانی اسی کا ہو گا اور ایسے ہی اس قدر زمین دیے دیتا ہوں جس سے بیس وسق جو حاصل ہوں، اور جو پسند کرے ہم خمس میں سے اس کا حصہ حسبِ سابق ادا کرتے رہیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقاة 1 (1551)، (تحفة الأشراف: 7472)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث 8 (2328)، سنن الترمذی/الأحکام 41 (1383)، سنن ابن ماجہ/الرھون 14 (2467)، مسند احمد (2/17، 22، 37) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1551)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3006
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَحْسَبُهُ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ فَغَلَبَ عَلَى النَّخْلِ وَالأَرْضِ وَأَلْجَأَهُمْ إِلَى قَصْرِهِمْ فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْرَاءَ وَالْبَيْضَاءَ وَالْحَلْقَةَ وَلَهُمْ مَا حَمَلَتْ رِكَابُهُمْ عَلَى أَنْ لَا يَكْتُمُوا وَلَا يُغَيِّبُوا شَيْئًا، فَإِنْ فَعَلُوا فَلَا ذِمَّةَ لَهُمْ وَلَا عَهْدَ فَغَيَّبُوا مَسْكًا لِحُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ وَقَدْ كَانَ قُتِلَ قَبْلَ خَيْبَرَ كَانَ احْتَمَلَهُ مَعَهُ يَوْمَ بَنِي النَّضِيرِ حِينَ أُجْلِيَتْ النَّضِيرُ فِيهِ حُلِيُّهُمْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِسَعْيَةَ أَيْنَ مَسْكُ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ؟ قَالَ: أَذْهَبَتْهُ الْحُرُوبُ وَالنَّفَقَاتُ؟"، فَوَجَدُوا الْمَسْكَ فَقَتَلَ ابْنَ أَبِي الْحُقَيْقِ وَسَبَى نِسَاءَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ وَأَرَادَ أَنْ يُجْلِيَهُمْ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ دَعْنَا نَعْمَلْ فِي هَذِهِ الأَرْضِ وَلَنَا الشَّطْرُ مَا بَدَا لَكَ وَلَكُمُ الشَّطْرُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے جنگ کی، ان کی زمین، اور ان کے کھجور کے باغات قابض ہو گئے اور انہیں اپنے قلعہ میں محصور ہو جانے پر مجبور کر دیا، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر صلح کر لی کہ سونا چاندی اور ہتھیار جو کچھ بھی ہیں وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہوں گے اور ان کے لیے صرف وہی کچھ (مال و اسباب) ہے جنہیں ان کے اونٹ اپنے ساتھ اٹھا کر لے جا سکیں، انہیں اس کا حق و اختیار نہ ہو گا کہ وہ کوئی چیز چھپائیں یا غائب کریں، اگر انہوں نے ایسا کیا تو مسلمانوں پر ان کی حفاظت اور معاہدے کی پاس داری کی کوئی ذمہ داری نہ رہے گی تو انہوں نے حیی بن اخطب کے چمڑے کی ایک تھیلی غائب کر دی، حیی بن اخطب خیبر سے پہلے قتل کیا گیا تھا، اور وہ جس دن بنو نضیر جلا وطن کئے گئے تھے اسے اپنے ساتھ اٹھا لایا تھا اس میں ان کے زیورات تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعیہ (یہودی) سے پوچھا: حیی بن اخطب کی تھیلی کہاں ہے؟، اس نے کہا: لڑائیوں میں کام آ گئی اور مصارف میں خرچ ہو گئی پھر صحابہ کو وہ تھیلی مل گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی حقیق کو قتل کر دیا، ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا، اور ان کی اولاد کو غلام بنا لیا، ان کو جلا وطن کر دینے کا ارادہ کر لیا، تو وہ کہنے لگے: محمد! ہمیں یہیں رہنے دیجئیے، ہم اس زمین میں کام کریں گے (جوتیں بوئیں گے) اور جو پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا آپ کو دیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس پیداوار سے) اپنی ہر ہر بیوی کو (سال بھر میں) (۸۰، ۸۰) وسق کھجور کے اور (۲۰، ۲۰) وسق جو کے دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3006]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے جنگ کی، ان کی کھجوریں اور زمینیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں آ گئیں اور انہیں اپنے قلعے میں محصور ہو جانے پر مجبور کر دیا گیا، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصالحت کر لی کہ تمام زرد و سفید (سونا چاندی) اور اسلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو گا اور دیگر اسباب جو ان کے اونٹ اٹھا سکیں اٹھا لے جائیں گے اور کوئی چیز چھپائیں گے نہیں اور نہ غائب کریں گے، اگر ایسا کیا تو ان کے لیے کوئی ذمہ اور عہد نہ رہے گا۔ مگر انہوں نے چمڑے کا ایک بورا غائب کر دیا جو حیی بن اخطب کا تھا اور وہ خود خیبر سے پہلے قتل ہو گیا تھا، وہ یہ بورا بنو نضیر کے مدینہ سے جلا وطن کیے جانے کے موقع پر اٹھا کر لایا تھا، اس بورے میں ان لوگوں کے زیورات تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعیہ (یہودی) سے کہا: حیی بن اخطب کا بورا کہاں ہے؟ اس نے کہا: وہ جنگوں میں اور دوسرے اخراجات میں خرچ ہو گیا ہے۔ مگر صحابہ نے اسے ڈھونڈ نکالا، تب ابن ابی الحقیق کو قتل کیا گیا، ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور انہیں وہاں سے جلا وطن کرنے کا ارادہ کر لیا، تو انہوں نے کہا: اے محمد! ہمیں یہاں رہنے دیں ہم اس زمین میں محنت کریں گے اور جب تک آپ (ہمیں رکھنا) چاہیں گے اس کی آمدنی کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا آپ کو دیں گے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس پیداوار میں سے) اپنی بیویوں میں سے ہر ایک کو اسی (80) وسق کھجور اور بیس (20) وسق جو دیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7877) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حماد بن سلمة شك في اتصاله
وحديث البخاري (273) صحيح ولم يذكرالمتن واللّٰه أعلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 109

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3018
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ عَنْوَةً بَعْدَ الْقِتَالِ، وَنَزَلَ مَنْ نَزَلَ مِنْ أَهْلِهَا عَلَى الْجَلَاءِ بَعْدَ الْقِتَالِ.
ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو طاقت کے ذریعہ لڑ کر فتح کیا اور خیبر کے جو لوگ قلعہ سے نکل کر جلا وطن ہوئے وہ بھی جنگ کے بعد ہی جلا وطنی کی شرط پر قلعہ سے باہر نکلے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3018]
ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو قتال کر کے بزور قوت فتح کیا تھا۔ اور قتال کے بعد اس کے کچھ لوگوں نے یہ علاقہ چھوڑ دینے کی شرط پر اپنی قلعہ بندی کو ختم کیا (اور صلح کر لی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19402) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں انقطاع ہے، زہری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان واسطے کا پتہ نہیں ہے مگر بات یہی صحیح ہے کہ خبیر بزور طاقت (جنگ سے) فتح کیا گیا تھا جیساکہ صحیح اور متصل مرفوع روایات میں وارد ہے)
وضاحت: ۱؎: پھر انہوں نے منت سماجت کی اور کہنے لگے کہ ہمیں یہاں رہنے دو، ہم زراعت (کھیتی باڑی) کریں گے، اور نصف پیداوار آپ کو دیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں رکھ لیا، اس شرط کے ساتھ کہ جب ہم چاہیں گے، نکال دیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق أنس الشطر الأول والشطر الآخر تقدم في حديث ابن عمر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل،سعيد بن المسيب وابن شهاب الزهري من التابعين
والحديث السابق (الأصل : 3005) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 110

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3408
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کو زمین کے کام پر اس شرط پہ لگایا کہ کھجور یا غلہ کی جو بھی پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا تمہیں دیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3408]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر سے معاملہ طے فرمایا تھا کہ جو پھل یا کھیتی آئے گی اس میں سے آدھا انہیں ملے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3408]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحرث 8 (2329)، صحیح مسلم/المساقاة 1 (1551)، سنن الترمذی/الأحکام 41 (1383)، سنن ابن ماجہ/الرھون 14 (2467)، (تحفة الأشراف: 8138)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/17، 22، 37)، سنن الدارمی/البیوع 71 (2656) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مساقاۃ یہ ہے کہ باغ کا مالک اپنے باغ کو کسی ایسے شخص کے حوالہ کر دے جو اس کی پوری نگہداشت کرے پھر اس سے حاصل ہونے والے پھل میں دونوں برابر کے شریک ہوں، مساقاۃ مزارعت ہی کی ایک شکل ہے فرق یہ ہے کہ مساقاۃ کا تعلق درختوں سے ہے جب کہ مزارعت کا تعلق کھیتی سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2329) صحيح مسلم (1551)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3409
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ غَنَجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ، وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْتَمِلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ، وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ ثَمَرَتِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کے کھجور کے درخت اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ ان میں اپنی پونجی لگا کر کام کریں گے اور جو پیداوار ہو گی، اس کا نصف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3409]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی کھجوریں اور وہاں کی زمینیں اہل خیبر کو اس شرط پر دے دی تھیں کہ وہ ان میں اپنے خرچ پر محنت کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا آدھا پھل ملے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3409]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 8424) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1551)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3410
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، وَ اشْتَرَطَ أَنَّ لَهُ الْأَرْضَ وَكُلَّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ"، قَالَ: أَهْلُ خَيْبَرَ، نَحْنُ أَعْلَمُ بِالْأَرْضِ مِنْكُمْ فَأَعْطِنَاهَا عَلَى أَنَّ لَكُمْ نِصْفَ الثَّمَرَةِ وَلَنَا نِصْفٌ، فَزَعَمَ أَنَّهُ أَعْطَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ حِينَ يُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ، فَحَزَرَ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ وَهُوَ الَّذِي يُسَمِّيهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْخَرْصَ، فَقَالَ: فِي ذِهْ كَذَا وَكَذَا، قَالُوا: أَكْثَرْتَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، فَقَالَ: فَأَنَا أَلِي حَزْرَ النَّخْلِ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ، قَالُوا: هَذَا الْحَقُّ وَبِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ قَدْ رَضِينَا أَنْ نَأْخُذَهُ بِالَّذِي قُلْتَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا، اور یہ شرط لگا دی (واضح کر دیا) کہ اب زمین ان کی ہے اور جو بھی سونا چاندی نکلے وہ بھی ان کا ہے، تب خیبر والے کہنے لگے: ہم زمین کے کام کاج کو آپ لوگوں سے زیادہ جانتے ہیں تو آپ ہمیں زمین اس شرط پہ دے دیجئیے کہ نصف پیداوار آپ کو دیں گے اور نصف ہم لیں گے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر انہیں زمین دے دی، پھر جب کھجور کے توڑنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس بھیجا، انہوں نے جا کر کھجور کا اندازہ لگایا (اسی کو اہل مدینہ «خرص» (آنکنا) کہتے ہیں) تو انہوں نے کہا: اس باغ میں اتنی کھجوریں نکلیں گی اور اس باغ میں اتنی (ان کا نصف ہمیں دے دو) وہ کہنے لگے: اے ابن رواحہ! تم نے تو ہم پر (بوجھ ڈالنے کے لیے) زیادہ تخمینہ لگا دیا ہے، تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا (اگر یہ زیادہ ہے) تو ہم اسے توڑ لیں گے اور جو میں نے کہا ہے اس کا آدھا تمہیں دے دیں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا یہی صحیح بات ہے، اور اسی انصاف اور سچائی کی بنا پر ہی زمین و آسمان اپنی جگہ پر قائم اور ٹھہرے ہوئے ہیں، ہم راضی ہیں تمہارے آنکنے کے مطابق ہی ہم لے لیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3410]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کر لیا اور شرط کی کہ مسلمان اس کی زمین اور اس کے سونے چاندی کے مالک ہیں۔ تو خیبر والوں نے کہا کہ ہم آپ کی نسبت زمین کے زیادہ ماہر ہیں۔ آپ یہ ہمیں دے دیں اور شرط یہ رہی کہ آدھا ہم آپ کو دیں گے اور آدھا خود رکھیں گے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر زمین انہیں دے دی، پھر جب پھل چننے کا موسم آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا جو کھجوروں کے پھل کا اندازہ لگا کر آئے اور اس عمل کو اہل مدینہ «الْخَرْصُ» اندازہ لگانا کہتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ فلاں باغ میں اس قدر ہے اور فلاں میں اس قدر۔ تو انہوں نے کہا: اے ابن رواحہ! تو نے ہم پر زیادہ لگا دیا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ان پھلوں کا جو اندازہ لگایا ہے، اس کا میں ذمہ دار ہوں، میں اس کا نصف تمہیں دیتا ہوں۔ یہودیوں نے کہا: یہی وہ حق (اور عدل) ہے جس سے آسمان و زمین قائم ہیں جو آپ نے کہا ہم اس کے لینے پر راضی ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الزکاة 18 (1820)، (تحفة الأشراف: 6494) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه ابن ماجه (1820 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3414
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ:" أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ خَيْبَرَ، فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا كَانُوا، وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ نے اپنے رسول کو خیبر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو ان کی جگہوں پر رہنے دیا جیسے وہ پہلے تھے اور خیبر کی زمین کو (آدھے آدھے کے اصول پر) انہیں بٹائی پر دے دیا اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو (تخمینہ لگا کر تقسیم کے لیے) بھیجا تو انہوں نے جا کر اندازہ کیا (اور اسی اندازے کا نصف ان سے لے لیا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3414]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب اللہ عز وجل نے خیبر اپنے رسول کو بطور فے عنایت فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس کی زمینوں پر ویسے ہی رہنے دیا جیسے کہ وہ پہلے تھے اور ان کے اور اپنے درمیان متعین حصے طے کر لیے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا جنہوں نے ان پر پھلوں کا اندازہ لگایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2648)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/367) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الزبير مدلس وعنعن في ھذا اللفظ والحديث الآتي (الأصل : 3415) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 122

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں