سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب في الإمام يقبل هدايا المشركين
باب: امام کا کفار و مشرکین سے ہدیہ قبول کرنا۔
حدیث نمبر: 3055
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْهَوْزَنِيُّ، قَالَ: لَقِيتُ بِلَالًا مُؤَذِّنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَلَبَ، فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي كَيْفَ كَانَتْ نَفَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَا كَانَ لَهُ شَيْءٌ كُنْتُ أَنَا الَّذِي أَلِي ذَلِكَ مِنْهُ مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى أَنْ تُوُفِّيَ وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ الإِنْسَانُ مُسْلِمًا فَرَآهُ عَارِيًا يَأْمُرُنِي فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَقْرِضُ فَأَشْتَرِي لَهُ الْبُرْدَةَ فَأَكْسُوهُ وَأُطْعِمُهُ حَتَّى اعْتَرَضَنِي رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: يَا بِلَالُ إِنَّ عِنْدِي سَعَةً فَلَا تَسْتَقْرِضْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مِنِّي فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ قُمْتُ لِأُؤَذِّنَ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا الْمُشْرِكُ قَدْ أَقْبَلَ فِي عِصَابَةٍ مِنَ التُّجَّارِ، فَلَمَّا أَنْ رَآنِي قَالَ: يَا حَبَشِيُّ قُلْتُ يَا لَبَّاهُ فَتَجَهَّمَنِي، وَقَالَ لِي قَوْلًا غَلِيظًا، وَقَالَ لِي: أَتَدْرِي كَمْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الشَّهْرِ؟ قَالَ: قُلْتُ قَرِيبٌ قَالَ: إِنَّمَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَرْبَعٌ فَآخُذُكَ بِالَّذِي عَلَيْكَ فَأَرُدُّكَ تَرْعَى الْغَنَمَ كَمَا كُنْتَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَأَخَذَ فِي نَفْسِي مَا يَأْخُذُ فِي أَنْفُسِ النَّاسِ حَتَّى إِذَا صَلَّيْتُ الْعَتَمَةَ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَأَذِنَ لِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي إِنَّ الْمُشْرِكَ الَّذِي كُنْتُ أَتَدَيَّنُ مِنْهُ قَالَ لِي: كَذَا وَكَذَا وَلَيْسَ عِنْدَكَ مَا تَقْضِي عَنِّي وَلَا عِنْدِي وَهُوَ فَاضِحِي فَأْذَنْ لِي أَنْ آبَقَ إِلَى بَعْضِ هَؤُلَاءِ الأَحْيَاءِ الَّذِينَ قَدْ أَسْلَمُوا حَتَّى يَرْزُقَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقْضِي عَنِّي، فَخَرَجْتُ حَتَّى إِذَا أَتَيْتُ مَنْزِلِي فَجَعَلْتُ سَيْفِي وَجِرَابِي وَنَعْلِي وَمِجَنِّي عِنْدَ رَأْسِي حَتَّى إِذَا انْشَقَّ عَمُودُ الصُّبْحِ الأَوَّلِ أَرَدْتُ أَنْ أَنْطَلِقَ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يَسْعَى يَدْعُو: يَا بِلَالُ أَجِبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُهُ فَإِذَا أَرْبَعُ رَكَائِبَ مُنَاخَاتٌ عَلَيْهِنَّ أَحْمَالُهُنَّ فَاسْتَأْذَنْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ فَقَدْ جَاءَكَ اللَّهُ بِقَضَائِكَ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ تَرَ الرَّكَائِبَ الْمُنَاخَاتِ الأَرْبَعَ، فَقُلْتُ: بَلَى فَقَالَ: إِنَّ لَكَ رِقَابَهُنَّ وَمَا عَلَيْهِنَّ فَإِنَّ عَلَيْهِنَّ كِسْوَةً وَطَعَامًا أَهْدَاهُنَّ إِلَيَّ عَظِيمُ فَدَكَ فَاقْبِضْهُنَّ وَاقْضِ دَيْنَكَ، فَفَعَلْتُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا فَعَلَ مَا قِبَلَكَ؟ قُلْتُ: قَدْ قَضَى اللَّهُ كُلَّ شَيْءٍ كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ، قَالَ: أَفَضَلَ شَيْءٍ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: انْظُرْ أَنْ تُرِيحَنِي مِنْهُ فَإِنِّي لَسْتُ بِدَاخِلٍ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِي حَتَّى تُرِيحَنِي مِنْهُ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَةَ دَعَانِي فَقَالَ: مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: هُوَ مَعِي لَمْ يَأْتِنَا أَحَدٌ، فَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَقَصَّ الْحَدِيثَ حَتَّى إِذَا صَلَّى الْعَتَمَةَ يَعْنِي مِنَ الْغَدِ دَعَانِي، قَالَ: مَا فَعَلَ الَّذِي قِبَلَكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ أَرَاحَكَ اللَّهُ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَبَّرَ وَحَمِدَ اللَّهَ شَفَقًا مِنْ أَنْ يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ وَعِنْدَهُ ذَلِكَ"، ثُمَّ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى إِذَا جَاءَ أَزْوَاجَهُ، فَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ امْرَأَةٍ حَتَّى أَتَى مَبِيتَهُ فَهَذَا الَّذِي سَأَلْتَنِي عَنْهُ.
عبداللہ ہوزنی کہتے ہیں کہ میں نے مؤذن رسول بلال رضی اللہ عنہ سے حلب ۱؎ میں ملاقات کی، اور کہا: بلال! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خرچ کیسے چلتا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ نہ ہوتا، بعثت سے لے کر موت تک جب بھی آپ کو کوئی ضرورت پیش آتی میں ہی اس کا انتظام کرتا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپ اس کو ننگا دیکھتے تو مجھے حکم کرتے، میں جاتا اور قرض لے کر اس کے لیے چادر خریدتا، اسے پہننے کے لیے دے دیتا اور اسے کھانا کھلاتا، یہاں تک کہ مشرکین میں سے ایک شخص مجھے ملا اور کہنے لگا: بلال! میرے پاس وسعت ہے (تنگی نہیں ہے) آپ کسی اور سے قرض نہ لیں، مجھ سے لے لیا کریں، میں ایسا ہی کرنے لگا یعنی (اس سے لینے لگا) پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں نے وضو کیا اور اذان دینے کے لیے کھڑا ہوا کہ اچانک وہی مشرک سوداگروں کی ایک جماعت لیے ہوئے آ پہنچا جب اس نے مجھے دیکھا تو بولا: اے حبشی! میں نے کہا: «يا لباه» ۲؎ حاضر ہوں، تو وہ ترش روئی سے پیش آیا اور سخت سست کہنے لگا اور بولا: تو جانتا ہے مہینہ پورا ہونے میں کتنے دن باقی رہ گئے ہیں؟ میں نے کہا: قریب ہے، اس نے کہا: مہینہ پورا ہونے میں صرف چار دن باقی ہیں ۳؎ میں اپنا قرض تجھ سے لے کر چھوڑوں گا اور تجھے ایسا ہی کر دوں گا جیسے تو پہلے بکریاں چرایا کرتا تھا، مجھے اس کی باتوں کا ایسے ہی سخت رنج و ملال ہوا جیسے ایسے موقع پر لوگوں کو ہوا کرتا ہے، جب میں عشاء پڑھ چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لے جا چکے تھے (میں بھی وہاں گیا) اور شرف یابی کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی، میں نے (حاضر ہو کر) عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، وہ مشرک جس سے میں قرض لیا کرتا تھا اس نے مجھے ایسا ایسا کہا ہے اور نہ آپ کے پاس مال ہے جس سے میرے قرض کی ادائیگی ہو جائے اور نہ ہی میرے پاس ہے (اگر ادا نہ کیا) تو وہ مجھے اور بھی ذلیل و رسوا کرے گا، تو آپ مجھے اجازت دے دیجئیے کہ میں بھاگ کر ان قوموں میں سے کسی قوم کے پاس جو مسلمان ہو چکے ہیں اس وقت تک کے لیے چلا جاؤں جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو اتنا مال عطا نہ کر دے جس سے میرا قرض ادا ہو جائے، یہ کہہ کر میں نکل آیا اور اپنے گھر چلا آیا، اور اپنی تلوار، موزہ جوتا اور ڈھال سرہانے رکھ کر سو گیا، صبح ہی صبح پو پھٹتے ہی یہاں سے چلے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک شخص بھاگا بھاگا پکارتا ہوا آیا کہ اے بلال (تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد کر رہے ہیں) چل کر آپ کی بات سن لو، تو میں چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ چار لدے ہوئے جانور بیٹھے ہیں، آپ سے اجازت طلب کی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”بلال! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری ضرورت پوری کر دی، کیا تم نے چاروں بیٹھی ہوئی سواریاں نہیں دیکھیں؟“، میں نے کہا: ہاں دیکھ لی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ وہ جانور بھی لے لو اور جو ان پر لدا ہوا ہے وہ بھی ان پر کپڑا اور کھانے کا سامان ہے، فدک کے رئیس نے مجھے ہدیہ میں بھیجا ہے، ان سب کو اپنی تحویل میں لے لو، اور ان سے اپنا قرض ادا کر دو“، تو میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں مسجد میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہیں، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جو مال تمہیں ملا اس کا کیا ہوا؟“، میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے سارے قرضے ادا کر دیئے اب کوئی قرضہ باقی نہ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ مال بچا بھی ہے؟“، میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ جو بچا ہے اسے اللہ کی راہ میں صرف کر کے مجھے آرام دو کیونکہ جب تک یہ مال صرف نہ ہو جائے گا میں اپنی ازواج (مطہرات) میں سے کسی کے پاس نہ جاؤں گا“، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: ”کیا ہوا وہ مال جو تمہارے پاس بچ رہا تھا؟“ میں نے کہا: وہ میرے پاس موجود ہے، کوئی ہمارے پاس آیا ہی نہیں کہ میں اسے دے دوں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رات مسجد ہی میں گزاری۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی (اس میں ہے) یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ چکے یعنی دوسرے دن تو آپ نے مجھے بلایا اور پوچھا: ”وہ مال کیا ہوا جو تمہارے پاس بچ رہا تھا؟“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کو اس سے بے نیاز و بےفکر کر دیا (یعنی وہ میں نے ایک ضرورت مند کو دے دیا) یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس کی حمد و ثنا بیان کی اس ڈر سے کہ کہیں آپ کو موت نہ آ جاتی اور یہ مال آپ کے پاس باقی رہتا، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلا، آپ اپنی بیویوں کے پاس آئے اور ایک ایک کو سلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے جہاں رات گزارنی تھی، (اے عبداللہ ہوزنی!) یہ ہے تمہارے سوال کا جواب۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3055]
جناب عبداللہ ہوزنی کہتے ہیں کہ میں نے حلب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور پوچھا: ”مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخراجات کے بارے میں بتائیں کہ ان کی کیا کیفیت تھی؟“ انہوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کچھ ہوتا وہ میرے سپرد ہوتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر وفات تک میں ہی اس کا متصرف رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جب کوئی مسلمان آدمی آپ کے پاس آتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھتے کہ اس کے پاس کپڑا نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ارشاد فرماتے، میں جاتا، کہیں سے قرض لیتا اور اسے چادر لے کر اوڑھا دیتا اور کھانا کھلاتا، حتیٰ کہ مجھے مشرکوں میں سے ایک آدمی ملا، اس نے کہا: بلال! میرے پاس وسعت ہے، پس جب قرض لینا ہو تو مجھ ہی سے لے لیا کرو، چنانچہ میں نے ایسے ہی کیا، سو ایک دن میں نے وضو کیا کہ نماز کے لیے اذان کہوں، دیکھا کہ وہ مشرک اپنے کئی تاجر ساتھیوں کے ساتھ آ رہا ہے، جونہی اس نے مجھے دیکھا تو بولا: اے حبشی! میں نے کہا: میں حاضر ہوں، اور وہ مجھے بڑے برے چہرے کے ساتھ ملا اور بڑی سخت باتیں کیں، اس نے کہا: معلوم بھی ہے کہ مہینے میں کتنے دن باقی ہیں؟ میں نے کہا: قریب ہی ہے، اس نے کہا: صرف چار دن باقی ہیں، پھر میں تمہیں اپنے مال کے بدلے پکڑ لے جاؤں گا اور بکریاں چرانے پر لگا دوں گا جیسے کہ تو پہلے چرایا کرتا تھا، مجھے اس سے بہت غم ہوا جیسے کہ انسانوں کو ہوتا ہے، حتیٰ کہ جب میں نے عشاء کی نماز پڑھ لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں میں تشریف لے گئے، تو میں نے ملاقات کے لیے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان! وہ مشرک جس سے میں قرض لیا کرتا تھا اس نے مجھے اس اس طرح کہا ہے، اور ادائیگی کے لیے نہ آپ کے پاس کچھ ہے اور نہ میرے پاس، اور وہ مجھے رسوا کرنے پر آمادہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں کہ کسی مسلمان قبیلے والوں کے ہاں بھاگ جاؤں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو کچھ عنایت فرما دے جس سے میرا قرضہ ادا ہو جائے، چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سے نکل کر اپنے گھر آیا، میں نے اپنی تلوار، تھیلا، جوتا اور ڈھال اپنے سر کے پاس رکھ لیے، حتیٰ کہ جب پہلی فجر (کاذب) طلوع ہوئی تو میں نے نکل جانے کا ارادہ کیا، پس اچانک ایک آدمی بھاگتا ہوا میرے پاس آیا، اس نے کہا: بلال! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں پہنچو، میں چلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا، میں نے دیکھا کہ چار اونٹنیاں بیٹھی ہیں اور ان پر بوجھ لدے ہوئے ہیں، میں نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جا! اللہ تعالیٰ نے تیرے قرضے کی ادائیگی کا سامان بھیج دیا ہے۔“ پھر فرمایا: ”کیا تو نے چار اونٹنیاں بیٹھی دیکھی ہیں؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اونٹنیاں اور جو ان پر ہے وہ سب تیرا ہے، ان پر کپڑے ہیں اور کھانے کا سامان بھی ہے، یہ مجھے فدک کے سردار نے ہدیہ بھیجا ہے، انہیں لے لے اور اپنا قرضہ ادا کر۔“ (سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) چنانچہ میں نے ایسے ہی کیا، اور حدیث بیان کی، پھر میں مسجد کی جانب چل پڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسجد میں تشریف فرما تھے، میں نے سلام عرض کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اس مال کا کیا ہوا جو تجھے ملا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اللہ نے اپنے رسول پر جو قرضہ تھا سب ادا کروا دیا ہے اور کچھ باقی نہیں رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کوئی مال بچا بھی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیکھو! مجھے اس کی طرف سے راحت پہنچاؤ، میں اس وقت تک اپنے کسی اہل کے پاس نہیں جاؤں گا جب تک تم مجھے اس کی طرف راحت نہیں دے دیتے۔“ (تقسیم نہیں کر دیتے۔) پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی تو مجھے بلایا اور پوچھا: ”اس مال کا کیا ہوا جو تجھے حاصل ہوا ہے؟“ میں نے عرض کیا: وہ میرے ہی پاس ہے، ہمارے پاس کوئی (ضرورت مند) نہیں آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات مسجد میں گزاری، اور پوری حدیث بیان کی، حتیٰ کہ جب اگلے دن عشاء کی نماز پڑھ چکے تو مجھے بلایا اور پوچھا: ”اس مال کا کیا بنا جو تجھے ملا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کو اس سے راحت عطا کر دی ہے (ضرورت مند لے گئے ہیں)، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہا اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا کہ کہیں اس حالت میں موت نہ آ جائے جب کہ وہ مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہو، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کے پاس گئے اور ہر ایک کو «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو“ کہا، حتیٰ کہ اس گھر میں تشریف لے گئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات گزارنی تھی، تو یہ تھی وہ حالت جس کا تو نے مجھ سے سوال کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2040) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: شام کے ایک شہر کا نام ہے۔
۲؎: یہ کلمہ عربی میں جی، یا حاضر ہوں کی جگہ بولا جاتا ہے۔
۳؎: قرض واپسی کی مدت میں ابھی چار دن باقی تھے اس لئے اسے لڑنے جھگڑنے اور بولنے کا حق نہیں تھا، ادائیگی کا وقت گزر جانے کے بعد اسے بولنے اور جھگڑنے کا حق تھا۔ مگر تھا تو کافر مسلمانوں کا دشمن، قرض کا بہانہ کر کے لڑ پڑا۔
۲؎: یہ کلمہ عربی میں جی، یا حاضر ہوں کی جگہ بولا جاتا ہے۔
۳؎: قرض واپسی کی مدت میں ابھی چار دن باقی تھے اس لئے اسے لڑنے جھگڑنے اور بولنے کا حق نہیں تھا، ادائیگی کا وقت گزر جانے کے بعد اسے بولنے اور جھگڑنے کا حق تھا۔ مگر تھا تو کافر مسلمانوں کا دشمن، قرض کا بہانہ کر کے لڑ پڑا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3056
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، بِمَعْنَى إِسْنَادِ أَبِي تَوْبَةَ وَحَدِيثِهِ، قَالَ: عِنْدَ قَوْلِهِ مَا يَقْضِي عَنِّي فَسَكَتَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَمَزْتُهَا.
اس سند سے بھی ابوتوبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ جب میں نے کہا کہ نہ آپ کے پاس اتنا مال ہے اور نہ میرے پاس کہ قرضہ ادا ہو جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو مجھے بڑی گرانی ہوئی (کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات پر توجہ نہیں دی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3056]
محمود بن خالد نے مروان بن محمد سے، انہوں نے معاویہ بن سلام سے روایت کیا اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا، اور جہاں یہ آیا ہے کہ «يَقْضِي عَنِّي» ”میں بھاگ جاتا ہوں اور مسلمان قبائل کے پاس چلا جاتا ہوں، حتیٰ کہ اللہ اپنے رسول کو کچھ عنایت فرما دے جس سے میرا قرضہ ادا ہو جائے۔“ (اس روایت میں ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے خاموش ہو رہے اور مجھے اس سے بڑی گرانی ہوئی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2040) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (3055)
انظر الحديث السابق (3055)