سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب الدعاء للمريض بالشفاء عند العيادة
باب: عیادت کے موقع پر مریض کے لیے شفاء کی دعا کرنا۔
حدیث نمبر: 3104
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا، قَالَ: اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ، فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَبَطْنِي، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا میں مکے میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر رکھا پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا پھر دعا کی: «اللهم اشف سعدا وأتمم له هجرته» ”اے اللہ! سعد کو شفاء دے اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3104]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دختر سعد ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ میں مکہ میں بیمار ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی کے لیے میرے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میری پیشانی پر رکھا، پھر میرے سینے اور پیٹ پر پھیرا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ» ”اے اللہ! سعد کو شفاء عنایت فرما اور اس کی ہجرت مکمل فرما دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ المرضی 13 (5659)، سنن النسائی/ الوصایا 3 (3656)، (تحفة الأشراف: 3953)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/171) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مکہ سے مدینہ پہنچا دے ایسا نہ ہو کہ مکہ ہی میں انتقال ہوجائے اور ہجرت ناقص رہ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5659)
حدیث نمبر: 3096
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ، وَلَا بِرْذَوْنٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی خچر اور گھوڑے پر سوار ہوئے میری عیادت کو تشریف لاتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3096]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لاتے، بغیر اس کے کہ کسی خچر پر سوار ہوں یا گھوڑے پر۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المرضی 16 (5664)، سنن الترمذی/ المناقب 53 (3851)، (تحفة الأشراف: 3021)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفرائض 2 (1616) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بلکہ پا پیادہ تشریف لاتے تھے، کیونکہ اس میں زیادہ ثواب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5664)
حدیث نمبر: 3102
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:" عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِعَيْنِي".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھ کے درد میں میری عیادت کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3102]
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ میری آنکھ میں درد تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16978)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/375) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1551)
أبو إسحاق السبيعي صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (532 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1551)
أبو إسحاق السبيعي صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (532 وسنده صحيح)