سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. باب في كراهية القعود على القبر
باب: قبر پر بیٹھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3229
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ، وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر نہ بیٹھو، اور نہ ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3229]
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے سیدنا ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ کو سنا، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبروں پر مت بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کر کے نماز پڑھو۔“” [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 33 (972)، سنن الترمذی/الجنائز 57 (1050)، سنن النسائی/القبلة 11 (761)، (تحفة الأشراف: 11169)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/135) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (972)
حدیث نمبر: 3225
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُقْعَدَ عَلَى الْقَبْرِ، وَأَنْ يُقَصَّصَ، وَيُبْنَى عَلَيْهِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر پر بیٹھنے ۱؎، اسے پختہ بنانے، اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرماتے سنا ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3225]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے تھے کہ قبر پر بیٹھا جائے یا اسے چونا گچ کیا جائے اور اس پر کوئی تعمیر کی جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 32 (970)، سنن الترمذی/الجنائز 58 (1052)، سنن النسائی/الجنائز 96 (2029)، (تحفة الأشراف: 2274، 2796)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز 43 (1562)، مسند احمد (3/295، 332، 399) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: قبر پر بیٹھنے سے مراد حاجت کے لئے بیٹھنا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مطلق بیٹھنا مراد ہے کیونکہ اس میں صاحب قبر کا استخفاف ہے۔
۲؎: قبر پر بیٹھنے سے صاحب قبر کی توہین ہوتی ہے اور قبر کو مزین کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے اگر ایک طرف فضول خرچی ہے تو دوسری جانب اس سے لوگوں کا شرک میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، کیونکہ قبروں پر بنائے گئے قبے اور مشاہد شرک کے مظاہر و علامات میں سے ہیں۔
۲؎: قبر پر بیٹھنے سے صاحب قبر کی توہین ہوتی ہے اور قبر کو مزین کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے اگر ایک طرف فضول خرچی ہے تو دوسری جانب اس سے لوگوں کا شرک میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، کیونکہ قبروں پر بنائے گئے قبے اور مشاہد شرک کے مظاہر و علامات میں سے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (970)
حدیث نمبر: 3227
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ یہود کو غارت کرے انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3227]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 54 (437)، صحیح مسلم/المساجد 3 (530)، سنن النسائی/الجنائز 106 (2049)، (تحفة الأشراف: 13233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/246، 260، 284، 285، 366، 396) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (437) صحيح مسلم (530)
حدیث نمبر: 3228
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتَحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کا آگ کے شعلہ پر بیٹھنا، اور اس سے کپڑے کو جلا کر آگ کا اس کے جسم کی کھال تک پہنچ جانا اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ قبر پر بیٹھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3228]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی دہکتے کوئلے پر بیٹھ جائے، وہ اس کے کپڑے جلا دے اور پھر اس کا اثر اس کے جسم تک پہنچ جائے، یہ اس کے لیے بہتر ہے اس سے کہ کسی قبر پر بیٹھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12638)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز 33 (971)، سنن النسائی/الجنائز 105 (2046)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 45 (1566)، مسند احمد (2/311، 389، 444، 528) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (971)