سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. باب فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ
باب: قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3235
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روکا تھا سو اب زیارت کرو کیونکہ ان کی زیارت میں موت کی یاددہانی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3235]
سیدنا (سلیمان) ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، چنانچہ اب ان کی زیارت کیا کرو۔ بلاشبہ ان کی زیارت میں (موت کی) یاد دہانی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3235]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، والأضاحي 5 (1977)، والأشربة 6 (1999)، سنن النسائی/الجنائز 100 (2034)، الأضاحي 36 (4441)، الأشربة 40 (5654، 5655، 5656، 5557)، (تحفة الأشراف: 2001)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/350، 355، 356، 357، 361) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (977)
حدیث نمبر: 3234
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيَسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ، فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي تَعَالَى عَلَى أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَاسْتَأْذَنْتُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا، فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ بِالْمَوْتِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو (بھی) رلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کی مغفرت طلب کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے ان کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت چاہی تو مجھے اس کی اجازت دے دی گئی، تو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3234]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر آئے تو رو پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ساتھی بھی رو دیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب تعالیٰ سے اجازت چاہی کہ اس کے لیے بخشش کی دعا کروں مگر مجھے اجازت نہیں دی گئی، پھر میں نے اجازت چاہی کہ اس کی قبر کی زیارت کر لوں تو مجھے اجازت دے دی گئی، چنانچہ تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، بلاشبہ اس سے موت یاد آتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 36 (976)، سنن النسائی/الجنائز 101 (2036)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 48 (1572)، (تحفة الأشراف: 13439)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/441) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (976)
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعْرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، وَأَنَا آمُرُكُمْ بِهِنَّ: نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِهَا فِي أَسْفَارِكُمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے ۱؎ اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، لیکن اب اسے بھی (جب تک چاہو) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3698]
جناب سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں تین باتوں سے روکا تھا، اب میں تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہوں؛ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، اب ان کی زیارت کو جایا کرو، بے شک ان کی زیارت میں عبرت اور نصیحت ہے، میں نے تمہیں چمڑوں کے برتنوں کے علاوہ کئی برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، تو سب قسم کے برتنوں میں پی سکتے ہو لیکن کوئی نشہ آور چیز مت پیو، میں نے تمہیں کہا تھا کہ قربانی کا گوشت تین دن کے بعد استعمال کرنا منع ہے تو اب اسے کھا سکتے ہو اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، الأضاحي 5 (1977)، الأشربة 6 (1999)، سنن النسائی/الجنائز 100 (2034)، الأضاحي 36 (4434)، الأشربة 40 (5654، 5655)، (تحفة الأشراف: 2001)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأشربة 6 (1869)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 14 (3405)، مسند احمد (5/350، 355، 356، 357، 361) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ابتدائے اسلام میں لوگ بت پرستی چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس خوف سے قبر کی زیارت سے منع فرما دیا کہ کہیں دوبارہ یہ شرک میں گرفتار نہ ہو جائیں لیکن جب عقیدہ توحید لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گیا اور شرک اور توحید کا فرق واضح طور پر دل و دماغ میں رچ بس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ انہیں زیارت قبور کی اجازت دی بلکہ اس کا فائدہ بھی بیان کر دیا کہ اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے اور یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے اور یہ فائدہ اس لئے بھی بتایا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اہل قبور سے حاجت روائی چاہنے لگیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (977)