🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب فِي الأَوْعِيَةِ
باب: شراب میں استعمال ہونے والے برتنوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3690
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ".
ابن عمر اور ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمبی، سبز رنگ کے برتن، تارکول ملے ہوئے برتن اور لکڑی کے برتن ۱؎ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3690]
سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن (تونبہ)، سبز رنگ کا برتن جس میں روغن مل لیا جاتا تھا، روغنِ زفت لگے برتن اور چوبی برتن سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 6 (1997)، سنن النسائی/الأشربة 36 (5646)، (تحفة الأشراف: 5623)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/352) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث میں وارد الفاظ: دباء، حنتم، مزفت اور نقیر مختلف برتنوں کے نام ہیں جس میں زمانہ جاہلیت میں شراب بنائی اور رکھی جاتی تھی جب شراب حرام ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا تھا، بعد میں یہ ممانعت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی روایت «كنت نهيتكم عن الأوعية فاشربوا في كل وعاء» سے منسوخ ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1997)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3691
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَعْلَى يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَخَرَجْتُ فَزِعًا مِنْ قَوْلِهِ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ؟، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟، قُلْتُ: قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، قَالَ: صَدَقَ، حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ، قُلْتُ: وَمَا الْجَرُّ؟، قَالَ: كُلُّ شَيْءٍ يُصْنَعُ مِنْ مَدَرٍ".
سعید بن جبیر کہتے ہیں میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» (مٹی کا گھڑا) میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے تو میں ان کی یہ بات سن کر گھبرایا ہوا نکلا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر کہا: کیا آپ نے سنا نہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کیا کہتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا: وہ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جر» کے نبیذ کو حرام قرار دیا ہے، میں نے کہا: «جر» کیا ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز ہے جو مٹی سے بنائی جاتی ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3691]
جناب سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کی نبیذ حرام فرمائی ہے۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ان کی بات سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کی نبیذ حرام فرمائی ہے، گھبرا کر نکل آیا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس پہنچا۔ میں نے پوچھا: کیا آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی بات سنی ہے؟ انہوں نے کہا: وہ کیا ہے؟ میں نے کہا: وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کی نبیذ حرام فرمائی ہے۔ انہوں نے کہا: سچ کہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑے کی نبیذ حرام کی ہے۔ میں نے پوچھا کہ گھڑے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: ہر وہ برتن جو مٹی سے بنا ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 6 (1997)، سنن النسائی/الأشربة 28 (5622)، (تحفة الأشراف: 5649)، وقد أخرجہ: حم1/348، 2/48، 104، 112، 115، 153) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1997)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3692
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: وَقَالَ مُسَدَّدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهَذَا حَدِيثُ سُلَيْمَانَ، قَالَ:" قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِشَيْءٍ نَأْخُذُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا، قَالَ:" آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَشَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَعَقَدَ بِيَدِهِ وَاحِدَةً، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: الْإِيمَانُ بِاللَّهِ؟ ثُمَّ فَسَّرَهَا لَهُمْ" شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، وَأَنْ تُؤَدُّوا الْخُمُسَ مِمَّا غَنِمْتُمْ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ: الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْمُقَيَّرِ"، وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ: النَّقِيرُ: مَكَانَ الْمُقَيَّرِ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: وَالنَّقِيرُ وَالْمُقَيَّرُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمُزَفَّتِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو جَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ الضُّبَعِيُّ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا وفد آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ بنو ربیعہ کا ایک قبیلہ ہیں، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں، ہم آپ تک حرمت والے مہینوں ۱؎ ہی میں پہنچ سکتے ہیں، اس لیے آپ ہمیں کچھ ایسی چیزوں کا حکم دے دیجئیے کہ جن پر ہم خود عمل کرتے رہیں اور ان لوگوں کو بھی ان پر عمل کے لیے کہیں جو اس وفد کے ساتھ نہیں آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں، اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں (جن کا حکم دیتا ہوں وہ یہ ہیں) اللہ پر ایمان لانا اور اس بات کی گواہی دینی کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے ایک کی گرہ بنائی، مسدد کہتے ہیں: آپ نے اللہ پر ایمان لانا، فرمایا، پھر اس کی تفسیر کی کہ اس کا مطلب) اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت سے پانچواں حصہ دینا ہے، اور میں تمہیں دباء، حنتم، مزفت اور مقیر سے منع کرتا ہوں۔ ابن عبید نے لفظ مقیر کے بجائے نقیر اور مسدد نے نقیر اور مقیر کہا، اور مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3692]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم قبیلہ ربیعہ کے لوگ ہیں۔ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کفار حائل ہیں۔ ہم آپ کے پاس صرف حرمت کے مہینوں میں آ سکتے ہیں۔ لہٰذا آپ ہمیں ایسی بات فرما دیجیے جسے ہم پکڑ لیں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار سے منع کرتا ہوں۔ اللہ پر ایمان اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ» کی شہادت اور آپ نے اپنے ہاتھ سے ایک عدد کی گرہ بنائی (ایک کا اشارہ کیا)۔ مسدد نے صرف ایمان باللہ کا ذکر کیا۔ پھر آپ نے انہیں اس کی وضاحت فرمائی کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا اور جو غنیمت تمہیں حاصل ہو اس میں سے پانچواں حصہ ادا کرنا۔ اور میں تمہیں کدو کے برتن (تونبے)، سبز برتن جس پر کسی طرح کا روغن ملا گیا ہو، روغن زفت لگے برتن اور روغن قیر لگے برتن سے منع کرتا ہوں۔ ابن عبید نے «مُقَيَّر» کی بجائے «نَقِير» (لکڑی کو کھوکھلا کر کے بنایا ہوا برتن) کا لفظ کہا۔ جبکہ مسدد نے «نَقِير» اور «مُقَيَّر» کہا، انہوں نے مزفت کا ذکر نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ سند میں مذکور ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ضبعی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان40 (53)، العلم 25 (187)، المواقیت 2 (523)، الزکاة 1 (1398)، المناقب 5 (3510)، المغازي 69 (4369)، الأدب 98 (6176)، خبر الواحد 5 (7266)، التوحید 56 (7556)، صحیح مسلم/ الإیمان 6 (17)، الأشربة 6 (1995)، سنن الترمذی/السیر 39 (1599)، الإیمان 5 (2611)، سنن النسائی/الإیمان 25 (5034)، الأشربة 5 (5551)، (تحفة الأشراف: 6524)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/128، 274، 291، 304، 334، 340،352، 361)، سنن الدارمی/الأشربة 14 (5662)، ویأتی بعضہ فی السنة (4677) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حرمت والے مہینوں سے مراد ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (523) صحيح مسلم (17 بعد ح1995)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3693
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ نُوحِ بْنِ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ:" أَنْهَاكُمْ عَنْ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْمُزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ، وَلَكِنْ اشْرَبْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: میں تمہیں لکڑی کے برتن، تار کول ملے ہوئے برتن، سبز لاکھی گھڑے، تمبی اور کٹے ہوئے چمڑے کے برتن سے منع کرتا ہوں لیکن تم اپنے چمڑے کے برتن سے پیا کرو اور اس کا منہ باندھ کر رکھو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3693]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس کے لوگوں سے فرمایا: میں تمہیں لکڑی کے کھدے ہوئے برتن، روغن زفت لگے برتن، سبز رنگ کے روغن ملے ہوئے برتن اور کدو کے برتن (تونبے) سے منع کرتا ہوں اور بڑی مشک سے بھی جس کو اوپر سے کاٹا گیا ہو اور پیندے کی طرف سے سوراخ نہ ہوں منع کرتا ہوں، لیکن اپنے مشکیزے سے پیا کرو اور پھر اس کا منہ باندھ دیا کرو۔ (یعنی اس میں نبیذ بنایا کرو)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 6 (1992)، سنن النسائی/الأشربة 38 (5649)، (تحفة الأشراف: 15093، 14470)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/491، 414) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1993)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3694
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قِصَّةِ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالُوا: فِيمَ نَشْرَبُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِأَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي يُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وفد عبدالقیس کے واقعے کے سلسلے میں روایت ہے کہ وفد کے لوگوں نے پوچھا: ہم کس چیز میں پیئں اللہ کے نبی؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان مشکیزوں کو لازم پکڑو جن کے منہ باندھ کر رکھے جاتے ہوں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3694]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وفد عبدالقیس کے قصے میں مروی ہے کہ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! ہم کن برتنوں میں پیا کریں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چمڑے کے مشکیزے استعمال کرو جن کے مونہوں پر تاگا لپیٹ کر انہیں بند کیا جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر رقم: (3692)، (تحفة الأشراف: 5663)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/361) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي في الكبري (6833)
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3695
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ زَيدِ بْنِ عَلِيّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ كَانَ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ يَحْسَبُ عَوْفٌ، أَنَّ اسْمَهُ قَيْسُ بْنُ النُّعْمَانِ، فَقَالَ:" لَا تَشْرَبُوا فِي نَقِيرٍ وَلَا مُزَفَّتٍ وَلَا دُبَّاءٍ وَلَا حَنْتَمٍ، وَاشْرَبُوا فِي الْجِلْدِ الْمُوكَإِ عَلَيْهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ فَاكْسِرُوهُ بِالْمَاءِ، فَإِنْ أَعْيَاكُمْ فَأَهْرِيقُوهُ".
ابوالقموص زید بن علی سے روایت ہے، کہتے ہیں مجھ سے عبدالقیس کے اس وفد میں سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا ایک شخص نے بیان کیا (عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان تھا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نقیر، مزفت، دباء، اور حنتم میں مت پیو، بلکہ مشکیزوں سے پیو جس پر ڈاٹ لگا ہو، اور اگر نبیذ میں تیزی آ جائے تو پانی ڈال کر اس کی تیزی توڑ دو اگر اس کے باوجود بھی تیزی نہ جائے تو اسے بہا دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3695]
ابوالقموص زید بن علی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وفدِ عبدالقیس کے ایک آدمی سے نقل کیا جو اس وفد میں شریک تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ (راویِ حدیث) عوف کا خیال ہے کہ اس کا نام قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑی کے برتن، روغن زفت والے برتن، کدو کے برتن (تونبے) یا سبز روغن ملے برتن میں مت پیو، بلکہ چمڑے کے مشکیزے میں پیو جس کا منہ باندھا جاتا ہے، اگر نبیذ میں شدت آ جائے (ترش ہو جائے) تو اس کی شدت کو پانی ڈال کر ختم کر لو، اگر وہ ختم نہ ہو تو اسے بہا دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11104)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/206) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ حَبْتَرٍ النَّهْشَلِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ نَشْرَبُ؟، قَالَ: لَا تَشْرَبُوا فِي الدُّبَّاءِ، وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ، وَلَا فِي النَّقِيرِ، وَانْتَبِذُوا فِي الْأَسْقِيَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنِ اشْتَدَّ فِي الْأَسْقِيَةِ؟، قَالَ: فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْمَاءَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُمْ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ: أَهْرِيقُوهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيَّ أَوْ حُرِّمَ الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ، قَالَ: وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ"، قَالَ سُفْيَانُ: فَسَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ عَنْ الْكُوبَةِ، قَالَ: الطَّبْلُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں وفد عبدالقیس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کس برتن میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دباء، مزفت اور نقیر میں مت پیو، اور تم نبیذ مشکیزوں میں بنایا کرو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اگر مشکیزے میں تیزی آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں پانی ڈال دیا کرو وفد کے لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! (اگر پھر بھی تیزی نہ جائے تو) آپ نے ان سے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: اسے بہا دو ۱؎ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب، جوا، اور ڈھولک کو حرام قرار دیا ہے یا یوں کہا: شراب، جوا، اور ڈھول ۲؎ حرام قرار دے دی گئی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے علی بن بذیمہ سے کوبہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ڈھول ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3696]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وفدِ عبدالقیس کے لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس میں پیئیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کدو کے برتن (تونبے)، تارکول لگے برتن اور لکڑی کے برتن میں مت پیو، اپنے مشکیزوں میں نبیذ بنایا کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مشکیزوں میں ہوتے ہوئے بھی اس میں شدت آ جائے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں مزید پانی ڈال لیا کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی بار فرمایا: اسے بہا ڈالو۔ پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حرام فرمایا ہے یا کہا: حرام کی گئی ہے: «الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْكُوبَةُ» شراب، جوا اور کوبہ۔ اور فرمایا: ہر نشہ دینے والی چیز حرام ہے۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن بذیمہ رحمہ اللہ سے «الْكُوبَةُ» کی وضاحت پوچھی تو انہوں نے کہا: اس سے مراد ڈھول ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم:(3690)، (تحفة الأشراف: 6333)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/274، 289، 350) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبیذ کا استعمال صرف اس وقت تک درست ہے جب تک کہ اس میں تیزی سے جھاگ نہ اٹھنے لگے، اگر اس میں تیزی کے ساتھ جھاگ اٹھنے لگے تو اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔
۲؎: حدیث میں «کوبۃ» کا لفظ ہے جس کے معنی: شطرنج، نرد، ڈگڈگی، بربط اور دوا وغیرہ پیسنے کے بٹہ کے آتے ہیں، یہاں پر علی بن بذیمۃ کی تفسیر کے مطابق «کوبۃ» کا ترجمہ ڈھول سے کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4503)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3697
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ سُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضَي اللهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْجِعَةِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تونبی، سبز رنگ کے برتن، لکڑی کے برتن اور جو کی شراب سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3697]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کدو کے برتن (تونبے)، روغن لگے ہوئے سبز برتن، لکڑی کے برتن اور جَو کی شراب سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الزینة 43 (5180)، (تحفة الأشراف: 10260)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/119، 138) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (5173، مالك بن عمير اختلف في صحبته وروي له الضياء المقدسي في الأحاديث المختارة فھو حسن الحديث، ورواه عن صعصعة بن صوحان فالسند متصل)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مُعْرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، وَأَنَا آمُرُكُمْ بِهِنَّ: نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ أَنْ تَشْرَبُوا إِلَّا فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَاسْتَمْتِعُوا بِهَا فِي أَسْفَارِكُمْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین چیزوں سے روک دیا تھا، اب میں تمہیں ان کا حکم دیتا ہوں: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے ۱؎ اور میں نے تمہیں چمڑے کے علاوہ برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، لیکن اب تم ہر برتن میں پیو، البتہ کوئی نشہ آور چیز نہ پیو، اور میں نے تمہیں تین روز کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا، لیکن اب اسے بھی (جب تک چاہو) کھاؤ اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3698]
جناب سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین باتوں سے روکا تھا، اب میں تمہیں ان کے بارے میں حکم دیتا ہوں؛ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، اب ان کی زیارت کو جایا کرو، بے شک ان کی زیارت میں عبرت اور نصیحت ہے، میں نے تمہیں چمڑوں کے برتنوں کے علاوہ کئی برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا، تو سب قسم کے برتنوں میں پی سکتے ہو لیکن کوئی نشہ آور چیز مت پیو، میں نے تمہیں کہا تھا کہ قربانی کا گوشت تین دن کے بعد استعمال کرنا منع ہے تو اب اسے کھا سکتے ہو اور اپنے سفروں میں اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 36 (977)، الأضاحي 5 (1977)، الأشربة 6 (1999)، سنن النسائی/الجنائز 100 (2034)، الأضاحي 36 (4434)، الأشربة 40 (5654، 5655)، (تحفة الأشراف: 2001)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأشربة 6 (1869)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 14 (3405)، مسند احمد (5/350، 355، 356، 357، 361) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابتدائے اسلام میں لوگ بت پرستی چھوڑ کر نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس خوف سے قبر کی زیارت سے منع فرما دیا کہ کہیں دوبارہ یہ شرک میں گرفتار نہ ہو جائیں لیکن جب عقیدہ توحید لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو گیا اور شرک اور توحید کا فرق واضح طور پر دل و دماغ میں رچ بس گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ انہیں زیارت قبور کی اجازت دی بلکہ اس کا فائدہ بھی بیان کر دیا کہ اس سے عبرت حاصل ہوتی ہے اور یہ آخرت کو یاد دلاتی ہے اور یہ فائدہ اس لئے بھی بتایا کہ ایسا نہ ہو کہ لوگ اہل قبور سے حاجت روائی چاہنے لگیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (977)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3699
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ، قَالَ: قَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِنَّهُ لَا بُدَّ لَنَا، قَالَ: فَلَا إذًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تو انصار کے لوگوں نے آپ سے عرض کیا: وہ تو ہمارے لیے بہت ضروری ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب ممانعت نہیں رہی (تمہیں ان کی اجازت ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3699]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں سے منع فرمایا تو انصار نے کہا: ہمیں ان برتنوں کے استعمال سے کوئی چارہ نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کوئی حرج نہیں۔ (استعمال کر سکتے ہو)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأشربة 8 (5592)، سنن الترمذی/الأ شربة 6 (1870)، سنن النسائی/الأشربة 40 (5659)، (تحفة الأشراف: 2240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5592)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں