🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
124. باب التيمم
باب: تیمم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي الْأَعْوَرَ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، أَوْ إِلَى الذِّرَاعَيْنِ، قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ سَلَمَةُ، يَقُولُ: الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ: ذَاتَ يَوْمٍ انْظُرْ مَا تَقُولَ، فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ.
حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ۱؎ تک پھیرا۔ شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے: دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور ذراعین پر پھیرا، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا: جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 325]
جناب شعبہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی اور کہا: پھر اس میں پھونک ماری اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا کہنیوں تک یا کلائیوں تک مسح کیا۔ شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: سلمہ رحمہ اللہ دونوں ہاتھ، چہرہ اور دونوں کلائیاں بیان کیا کرتے تھے۔ تو ایک دن منصور رحمہ اللہ نے ان سے کہا: جو آپ کہتے ہیں اس میں غور کر لیجئے، کلائیوں کا ذکر آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10362) (صحیح)» ‏‏‏‏ ( «‏‏‏‏المرفقين والذراعين» ‏‏‏‏ والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 326)
وضاحت: ۱؎: ذراع کا اطلاق بیچ کی انگلی کے سرے سے لے کر کہنی تک کے حصہ پر ہوتا ہے، یعنی مرفق اور ذراع دونوں کہنی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون المرفقين والذراعين
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ ابْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: يَا عَمَّارُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا، ثُمّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ثُمَّ ضَرَبَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى نِصْفِ السَّاعِدَيْنِ وَلَمْ يَبْلُغْ الْمِرْفَقَيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ.
ابن ابزی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے اس حدیث میں یہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمار! تمہیں اس طرح کر لینا کافی تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر ایک بار مارا پھر ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر دونوں کلائیوں کے نصف تک پھیرا اور کہنیوں تک نہیں پہنچے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وکیع نے اعمش سے، انہوں نے سلمہ بن کہیل سے اور سلمہ نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت کیا ہے، نیز اسے جریر نے اعمش سے، اعمش نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور سعید نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 323]
جناب سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ، ابن ابزٰی رضی اللہ عنہ سے اور وہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اس حدیث میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمار! تمہیں تو بس اس طرح کافی تھا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ایک کو دوسرے پر مارا اور پھر اپنے چہرے اور آدھی کلائیوں تک پھیر لیے، کہنیوں تک نہیں لے گئے اور ہاتھ زمین پر ایک ہی بار مارے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو وکیع نے اعمش سے، انہوں نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابزٰی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ اور جریر نے اعمش سے، انہوں نے سلمہ سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزٰی رحمہ اللہ سے، یعنی انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10362) (صحیح) (’’الذراعين...‘‘کاجملہ صحیح نہیں ہے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون ذكر الذراعين والمرفقين
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن (تقدم: 14)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّار، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ يَعْنِي أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ.
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابزی سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے`: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بس اتنا کر لینا کافی تھا، اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک مار کر اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لیا، سلمہ کو شک ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ اس میں «إلى المرفقين» ہے یا «إلى الكفين‏.» (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنیوں تک پھیرا، یا پہونچوں تک)۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 324]
جناب ابن عبدالرحمٰن بن ابزی اپنے والد سے، وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ: تمہیں یہی کافی تھا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک ماری اور اس سے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔ سلمہ کو شک ہوا ہے، انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ اس روایت میں کہنیوں تک ہے یا ہتھیلیوں تک۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 3138، 10362) (صحیح)» ‏‏‏‏ (شک والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 326)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الشك والمحفوظ وكفيه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (338) صحيح مسلم (368)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ عَمَّارٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ إِلَى الْأَرْضِ فَتَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا يَخْطُبُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَنْفُخْ، وَذَكَرَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ وَنَفَخَ.
اس طریق سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بواسطہ عمار رضی اللہ عنہ اس حدیث میں مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر انہیں اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لینا تمہارے لیے کافی تھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے حصین سے، حصین نے ابو مالک سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو اسی طرح خطبہ میں بیان کرتے ہوئے سنا ہے مگر اس میں انہوں نے کہا: پھونک نہیں ماری، اور حسین بن محمد نے شعبہ سے اور انہوں نے حکم سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو مارا اور اس میں پھونک ماری۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 326]
ابن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد سے اور وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اس حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں یہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کر لیتے۔ اور حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس کو شعبہ نے حصین سے، انہوں نے ابو مالک سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو خطبے میں ایسے بیان کرتے سنا، مگر انہوں نے کہا پھونک نہیں ماری۔ اور حسین بن محمد نے شعبہ سے، انہوں نے حکم سے روایت کیا تو کہا: اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور پھونک ماری۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10362) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديثين السابقين

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں