🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

124. باب التَّيَمُّمِ
باب: تیمم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 317
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَأُنَاسًا مَعَهُ فِي طَلَبِ قِلَادَةٍ أَضَلَّتْهَا عَائِشَةُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأُنْزِلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ"، زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ، فَقَالَ لَهَا أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: يَرْحَمُكِ اللَّهُ، مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ وَلَكِ فِيهِ فَرَجًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو وہ ہار ڈھونڈنے کے لیے بھیجا جو میں نے کھو دیا تھا، وہاں نماز کا وقت ہو گیا تو لوگوں نے بغیر وضو نماز پڑھ لی، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت اتاری گئی۔ ابن نفیل نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! آپ کو جب بھی کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اور آپ کے لیے اس میں ضرور کشادگی پیدا کر دی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 317]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور کچھ لوگوں کو وہ ہار ڈھونڈنے بھیجا جو مجھ سے گم ہو گیا تھا، (اس اثنا میں) نماز کا وقت ہو گیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئے اور اپنی بات بتائی، تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ ابن نفیل نے اس قدر مزید بیان کیا کہ سیدنا اسید رضی اللہ عنہ نے ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے کہا: «يَرْحَمُكِ اللَّهُ» اللہ آپ پر رحم فرمائے۔ آپ کو جب بھی کوئی پریشانی لاحق ہوئی جو آپ کو ناگوار ہوئی مگر اللہ نے اسے مسلمانوں کے لیے مفید بنا دیا اور آپ کے لیے بھی اس میں سے کوئی راہ نکال دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/اللباس 58 (5882)، التفسیر 3 (4583)،(تحفة الأشراف: 1760،17205)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التیمم 2 (334)، صحیح مسلم/التیمم 28 (367)، سنن النسائی/الطھارة 194 (311)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 90 (658)، موطا امام مالک/الطھارة 23(89)، مسند احمد (6/57، 179)، سنن الدارمی/الطھارة 65 (773) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (336) صحيح مسلم (367)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 318
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، حَدَّثَهُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،" أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُمْ تَمَسَّحُوا وَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّعِيدِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ ثُمَّ مَسَحُوا وُجُوهَهُمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ كُلِّهَا إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ مِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ".
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ لوگوں نے فجر کی نماز کے لیے پاک مٹی سے تیمم کیا، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو انہوں نے مٹی پر اپنا ہاتھ مارا اور منہ پر ایک دفعہ پھیر لیا، پھر دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارا اور اپنے پورے ہاتھوں پر پھیر لیا یعنی اپنی ہتھیلیوں سے لے کر کندھوں اور بغلوں تک ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 318]
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز فجر کے لیے تیمم کیا تو (اس کی صورت یہ رہی کہ) انہوں نے اپنے ہاتھ مٹی پر مارے اور اپنے چہروں پر پھیرے، پھر دوسری بار مارے اور اپنے پورے بازوؤں پر پھیرے کندھوں تک اور اندر کی طرف سے بغلوں تک۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الطھارة 90 (565)، 92 (571)، (تحفة الأشراف: 10363)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 110 (144)، سنن النسائی/الطھارة 196 (313)، 199 (317)، 200 (318)، 201 (319)، 202 (320)، مسند احمد (4/263، 264) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تیمم کا طریقہ آگے حدیث نمبر (۳۲۰) میں آ رہا ہے، جس میں ہاتھ کو صرف ایک بار مٹی پر مار کر منہ اور ہتھیلی پر مسح کرنے کا بیان ہے اس حدیث کے سلسلہ میں علامہ محمد اسحاق دہلوی فرماتے ہیں کہ ابتداء میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہما نے اپنی سمجھ اور قیاس سے ایسا کیا، لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کا طریقہ بتایا تو وہ اس کو سیکھ گئے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ امام شافعی نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مونڈھے تک تیمم کیا، اور آپ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے لئے چہرہ اور دونوں ہتھیلی تک مسح کا حکم دیا، تو گویا زیر نظر واقعہ میں مذکور تیمم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نہیں تھا (ملاحظہ ہو: عون المعبود ۱؍۳۵۰ و ۳۵۱)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (536)
انظر الحديث الآتي (320)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 319
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: قَامَ الْمُسْلِمُونَ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ التُّرَابَ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَنَاكِبَ وَالْآبَاطَ، قَالَ ابْنُ اللَّيْثِ: إِلَى مَا فَوْقَ الْمِرْفَقَيْنِ.
اس سند سے ابن وہب سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ مسلمان کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا اور مٹی بالکل نہیں لی، پھر راوی نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے «المناكب والآباط» (کندھوں اور بغلوں) کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 319]
سلیمان بن داود مہری اور عبدالملک بن شعیب رحمہما اللہ نے ابن وہب رحمہ اللہ کے واسطہ سے مذکورہ حدیث کے مثل بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مسلمان اٹھے اور اپنے ہاتھ مٹی پر مارے لیکن مٹی سے کچھ نہ پکڑا۔ انہوں نے مذکورہ حدیث کے قریب قریب ذکر کیا اور اس میں کندھوں اور بغلوں کا ذکر نہیں کیا۔ ابن لیث رحمہ اللہ نے کہا: کہنیوں سے اوپر تک (مسح کیا)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10363)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطھارة 197 (314)، مسند احمد (4/263، 264) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث الآتي (320)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِأَوَّلَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ، فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا ذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةَ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَمِنْ بِطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ"، زَادَ ابْنُ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فِي حَدِيثِهِ: وَلَا يَعْتَبِرُ بِهَذَا النَّاسُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ فِيهِ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَذَكَرَ ضَرْبَتَيْنِ، كَمَا ذَكَرَ يُونُسُ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ضَرْبَتَيْنِ، وقَالَ مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَشَكَّ فِيهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ مَرَّةً: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَرَّةً قَالَ: عَنْ أَبِيهِ، وَمَرَّةً قَالَ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، اضْطَرَبَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِيهِ وَفِي سَمَاعِهِ مِنْ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الضَّرْبَتَيْنِ، إِلَّا مَنْ سَمَّيْتُ.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولات الجیش ۱؎ میں رات گزارنے کے لیے ٹھہرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کا ہار جو ظفار کے مونگوں سے بنا تھا ٹوٹ کر گر گیا، چنانچہ ہار کی تلاش کے سبب لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ صبح روشن ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی موجود نہیں تھا، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہو گئے اور کہا: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے، حالانکہ ان کے پاس پانی نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل فرمائی، مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اپنے ہاتھ زمین پر مار کر اسے اس طرح اٹھا لیا کہ مٹی بالکل نہیں لگی، پھر اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مونڈھوں تک اور ہتھیلیوں سے بغلوں تک مسح کیا۔ ابن یحییٰ نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں کہا: لوگوں کے نزدیک اس فعل کا اعتبار نہیں ہے ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسی طرح ابن اسحاق نے روایت کی ہے اس میں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے دو ضربہ ۳؎ کا ذکر کیا ہے جس طرح یونس نے ذکر کیا ہے، نیز معمر نے بھی زہری سے دو ضربہ کی روایت کی ہے۔ مالک نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے اپنے والد عبداللہ سے، عبداللہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اسی طرح ابواویس نے زہری سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اس میں شک کیا ہے: کبھی انہوں نے «عن عبيد الله عن أبيه» کہا، اور کبھی «عن عبيد الله عن ابن عباس» یعنی کبھی «عن أبيه» اور کبھی «عن ابن عباس» ذکر کیا۔ ابن عیینہ اس میں ۴؎ اور زہری سے اپنے سماع میں ۵؎ مضطرب ہیں نیز زہری کے رواۃ میں سے کسی نے دو ضربہ کا ذکر نہیں کیا ہے سوائے ان لوگوں کے جن کا میں نے نام لیا ہے ۶؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 320]
جناب عبیداللہ بن عبداللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام اولات الجیش میں آخر رات میں پڑاؤ ڈالا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ تو ان کا ہار جو کہ ظفار کے گھونگوں کا تھا، ٹوٹ کر گر گیا۔ اس ہار کی تلاش نے لوگوں کو (آگے چلنے سے) روک لیا، حتیٰ کہ صبح روشن ہو گئی اور ان کے پاس پانی بھی نہ تھا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور کہا: تو نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور ان کے پاس پانی بھی نہیں ہے۔ تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر پاک مٹی سے طہارت کرنے کی رخصت نازل فرمائی۔ چنانچہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھے اور اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور اٹھا لیے، ہاتھوں میں کوئی مٹی نہ اٹھائی اور پھر انہیں اپنے چہروں اور بازؤوں پر کندھوں تک اور اندر کی طرف سے بغلوں تک پھیر لیا، ابن یحییٰ نے اپنی روایت میں مزید کہا کہ ابن شہاب نے اپنی حدیث میں کہا کہ مگر لوگ اس حدیث کا اعتبار نہیں کرتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابن اسحٰق نے ایسے ہی روایت کیا ہے، اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اور دو دفعہ ہاتھ مارنا بیان کیا، جیسے کہ یونس نے ذکر کیا ہے۔ اور اس روایت کو معمر نے زہری سے روایت کیا تو اس میں بھی دو دفعہ مارنا ہے۔ امام مالک کی سند یوں ہے: «عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمَّارٍ» اور ایسے ہی ابواویس نے زہری سے روایت کیا۔ اور ابن عیینہ کو اس سند میں شک ہوا تو ایک بار یوں بیان کی: «عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ» یا «عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» اور ایک بار «عَنْ أَبِيهِ» کہا اور ایک بار «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» کہا۔ ابن عیینہ کو اس میں زہری سے سماع میں اضطراب ہوا ہے مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی اس حدیث میں دو دفعہ ہاتھ مارنے کا ذکر نہیں کیا، سوائے ان کے جن کا میں نے نام لیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطہارة 197 (315)، (تحفة الأشراف: 10357)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/263) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے، اسے ذات الجیش بھی کہا جاتا ہے۔ وضاحت: کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے پہلے اپنی رائے وقیاس سے انہوں نے ایساکیا تھا۔
۲؎: ابن حجر کے قول کے مطابق صفت تیمم کے سلسلہ میں ابوجہیم اور عمار رضی اللہ عنہما کی حدیث کو چھوڑ کر باقی ساری روایات یا تو ضعیف ہیں یا ان کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے، یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں «التيمم للوجه والكفين» کے ساتھ باب باندھا ہے (ملاحظہ ہو: فتح الباری)۔
۳؎ علامہ البانی دو ضربہ والی روایات کو واہی اور معلول کہتے ہیں، اس لئے دو ضربہ کی ضرورت ہی نہیں صرف ایک ضربہ کافی ہے (ارواء الغلیل)۔
۴؎: یعنی کبھی تو انہوں نے «عن أبيه» کہا اور کبھی اسے ساقط کرکے اس کی جگہ «عن ابن عباس» کہا۔
۵؎: کبھی انہوں نے اسے زہری سے بلاواسطہ روایت کیا ہے اور کبھی اپنے اور زہری کے درمیان عمرو بن دینار کا واسطہ بڑھا دیا۔
۶؎: وہ نام یہ ہیں: یونس، ابن اسحاق اور معمر، زہری کے رواۃ میں صرف انہیں تینوں نے ضربتین کے لفظ کا ذکر کیا ہے، رہے زہری سے روایت کرنے والے باقی لوگ جیسے صالح بن کیسان، لیث بن سعد، عمرو بن دینار، مالک، ابن ابی ذئب وغیرہم تو ان میں سے کسی نے ضربتین کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ؟ فَقَالَ: لَا، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ شَهْرًا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهَذِهِ الْآيَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ: فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا سورة المائدة آية 6؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَتَيَمَّمُوا بِالصَّعِيدِ. فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هَذَا لِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَلَمْ تَسْمَعْ قَوْلَ عَمَّار لِعُمَرَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدَ الْمَاءَ فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَمَا تَتَمَرَّغُ الدَّابَّةُ ثُمَّ، أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هَكَذَا:" فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ فَنَفَضَهَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ وَبِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ عَلَى الْكَفَّيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ"، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ.
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! (یہ عبداللہ بن مسعود کی کنیت ہے) اس مسئلے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے اور ایک مہینے تک پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کرتا رہے؟ عبداللہ بن مسعود نے کہا: تیمم نہ کرے، اگرچہ ایک مہینہ تک پانی نہ ملے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ سورۃ المائدہ کی اس آیت: «فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اگر تیمم کی رخصت دی جائے تو قریب ہے کہ جب پانی ٹھنڈا ہو تو لوگ مٹی سے تیمم کرنے لگیں۔ اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے اسی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی بات (جو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہی) نہیں سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا تو میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہیں ملا تو میں مٹی (زمین) پر لوٹا جیسے جانور لوٹتا ہے، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تو بس اس طرح کر لینا کافی تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اسے جھاڑا، پھر اپنے بائیں سے اپنی دائیں ہتھیلی پر اور دائیں سے بائیں ہتھیلی پر مارا، پھر اپنے چہرے کا مسح کیا، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ کی اس بات سے مطمئن نہیں ہوئے؟!۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 321]
شقیق کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! فرمائیے اگر کوئی آدمی جنبی ہو جائے اور ایک مہینے تک پانی نہ ملے تو کیا وہ تیمم نہیں کرے گا؟ (عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا): نہیں، اگرچہ وہ ایک مہینے تک پانی نہ پائے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ سورۃ المائدہ کی اس آیت ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ [سورة المائدة: 6] اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو۔ کے بارے میں کیا کہیں گے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر انہیں اس کی رخصت دے دی جائے تو عین ممکن ہے کہ جب بھی پانی ٹھنڈا ہوا تو یہ مٹی سے تیمم کرنے لگیں گے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اچھا تو آپ اسی وجہ سے اسے مکروہ جانتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں! ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی وہ بات نہیں سنی جو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہی تھی؟ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا اور میں جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا جیسے کہ جانور لوٹ پوٹ ہوتا ہے، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اپنی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تو بس یہی کافی تھا کہ اس طرح کر لیتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اسے جھاڑا، پھر اپنے چہرے کا مسح کیا۔ تو عبداللہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے ان سے کہا: تو کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کی بات پر قناعت نہیں کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التیمم 7 (345، 346)، 8 (347)، صحیح مسلم/الحیض 28 (368)، سنن الترمذی/الطہارة 110 (144 مختصراً)، سنن النسائی/الطھارة 203 (321)، (تحفة الأشراف: 10360)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/264) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (345، 346) صحيح مسلم (368)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَكَانِ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَكُنْ أُصَلِّي حَتَّى أَجِدَ الْمَاءَ، قَالَ: فَقَالَ عَمَّارٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَصَابَتْنَا جَنَابَةٌ، فَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَقُولَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى نِصْفِ الذِّرَاعِ"، فَقَالَ عُمَرُ: يَا عَمَّارُ، اتَّقِ اللَّهَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ شِئْتَ وَاللَّهِ لَمْ أَذْكُرْهُ أَبَدًا. فَقَالَ، عُمَرُ: كَلَّا وَاللَّهِ لَنُوَلِّيَنَّكَ مِنْ ذَلِكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: بسا اوقات ہم کسی جگہ ماہ دو ماہ ٹھہرے رہتے ہیں (جہاں پانی موجود نہیں ہوتا اور ہم جنبی ہو جاتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جہاں تک میرا معاملہ ہے تو جب تک مجھے پانی نہ ملے میں نماز نہیں پڑھ سکتا، وہ کہتے ہیں: اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ اونٹوں میں تھے (اونٹ چراتے تھے) اور ہمیں جنابت لاحق ہو گئی، بہرحال میں تو مٹی (زمین) پر لوٹا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بس اس طرح کر لینا کافی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنے دونوں ہاتھوں پر نصف ذراع تک پھیر لیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو ۱؎، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو قسم اللہ کی میں اسے کبھی ذکر نہ کروں، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، قسم اللہ کی ہم تمہاری بات کا تمہیں اختیار دیتے ہیں، یعنی معاملہ تم پر چھوڑتے ہیں تم اسے بیان کرنا چاہو تو کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 322]
جناب عبدالرحمٰن بن ابزی کہتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: ہم بعض اوقات مہینہ دو مہینہ ایسے مقامات پر ہوتے ہیں (جہاں وافر پانی نہیں ہوتا) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو ایسی صورت میں نماز نہیں پڑھوں گا، حتیٰ کہ پانی پا لوں۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ اونٹ چرانے گئے تھے اور ہم جنبی ہو گئے تھے تو میں (مٹی میں) لوٹ پوٹ ہو گیا تھا، پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ قصہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: تمہیں یہی کافی تھا کہ ایسے کر لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان دونوں میں پھونک ماری اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرا اور ہاتھوں پر بھی آدھی کلائی تک۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمار! اللہ سے ڈرو (ایسی بات کیوں کہتے ہو)۔ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ کہیں تو قسم اللہ کی اس واقعہ کا کبھی ذکر نہیں کروں گا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہرگز نہیں، قسم اللہ کی! اس میں ہم تمہیں ہی تمہاری بات کا ذمہ دار بناتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف:: 10362) (صحیح)» ‏‏‏‏ (مگر «‏‏‏‏إلى نصف الذراعين» ‏‏‏‏ کا لفظ صحیح نہیں ہے، یہ شاذ ہے اور صحیحین میں ہے بھی نہیں)
وضاحت: ۱؎: اس بے اطمینانی کی وجہ یہ تھی کہ عمر رضی اللہ عنہ خود اس قضیہ میں عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے لیکن انہیں اس طرح کا کوئی واقعہ سرے سے یاد ہی نہیں آ رہا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا قوله إلى نصف الذراع فإنه شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديثين الآتين (323، 324) وأخرجه البيھقي (1/210) من حديث أبي داود به وسنده قوي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ ابْنِ أَبْزَى، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: يَا عَمَّارُ، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ هَكَذَا، ثُمّ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ الْأَرْضَ ثُمَّ ضَرَبَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ثُمَّ مَسَحَ وَجْهَهُ وَالذِّرَاعَيْنِ إِلَى نِصْفِ السَّاعِدَيْنِ وَلَمْ يَبْلُغْ الْمِرْفَقَيْنِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ.
ابن ابزی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے اس حدیث میں یہ روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمار! تمہیں اس طرح کر لینا کافی تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر ایک بار مارا پھر ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر دونوں کلائیوں کے نصف تک پھیرا اور کہنیوں تک نہیں پہنچے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے وکیع نے اعمش سے، انہوں نے سلمہ بن کہیل سے اور سلمہ نے عبدالرحمٰن بن ابزی سے روایت کیا ہے، نیز اسے جریر نے اعمش سے، اعمش نے سلمہ بن کہیل سے، سلمہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور سعید نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 323]
جناب سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ، ابن ابزٰی رضی اللہ عنہ سے اور وہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اس حدیث میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمار! تمہیں تو بس اس طرح کافی تھا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ایک کو دوسرے پر مارا اور پھر اپنے چہرے اور آدھی کلائیوں تک پھیر لیے، کہنیوں تک نہیں لے گئے اور ہاتھ زمین پر ایک ہی بار مارے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو وکیع نے اعمش سے، انہوں نے سلمہ بن کہیل سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابزٰی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ اور جریر نے اعمش سے، انہوں نے سلمہ سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزٰی رحمہ اللہ سے، یعنی انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 323]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10362) (صحیح) (’’الذراعين...‘‘کاجملہ صحیح نہیں ہے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون ذكر الذراعين والمرفقين
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن (تقدم: 14)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّار، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، فَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ، وَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ، شَكَّ سَلَمَةُ، وَقَالَ: لَا أَدْرِي فِيهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ يَعْنِي أَوْ إِلَى الْكَفَّيْنِ.
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن ابزی سے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے واسطہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے`: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں بس اتنا کر لینا کافی تھا، اور پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک مار کر اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لیا، سلمہ کو شک ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ اس میں «إلى المرفقين» ہے یا «إلى الكفين‏.» (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہنیوں تک پھیرا، یا پہونچوں تک)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 324]
جناب ابن عبدالرحمٰن بن ابزی اپنے والد سے، وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ: تمہیں یہی کافی تھا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اس میں پھونک ماری اور اس سے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔ سلمہ کو شک ہوا ہے، انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ اس روایت میں کہنیوں تک ہے یا ہتھیلیوں تک۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 3138، 10362) (صحیح)» ‏‏‏‏ (شک والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 326)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون الشك والمحفوظ وكفيه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (338) صحيح مسلم (368)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 325
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي الْأَعْوَرَ، حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: ثُمَّ نَفَخَ فِيهَا وَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، أَوْ إِلَى الذِّرَاعَيْنِ، قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ سَلَمَةُ، يَقُولُ: الْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهَ وَالذِّرَاعَيْنِ، فَقَالَ لَهُ مَنْصُورٌ: ذَاتَ يَوْمٍ انْظُرْ مَا تَقُولَ، فَإِنَّهُ لَا يَذْكُرُ الذِّرَاعَيْنِ غَيْرُكَ.
حجاج اعور کہتے ہیں کہ شعبہ نے اسی سند سے یہی حدیث بیان کی ہے، اس میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں پھونک ماری اور اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر کہنیوں یا ذراعین ۱؎ تک پھیرا۔ شعبہ کا بیان ہے کہ سلمہ کہتے تھے: دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور ذراعین پر پھیرا، تو ایک دن منصور نے ان سے کہا: جو کہہ رہے ہو خوب دیکھ بھال کر کہو، کیونکہ تمہارے علاوہ ذراعین کو اور کوئی ذکر نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 325]
جناب شعبہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی اور کہا: پھر اس میں پھونک ماری اور اس سے اپنے چہرے اور ہاتھوں کا کہنیوں تک یا کلائیوں تک مسح کیا۔ شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: سلمہ رحمہ اللہ دونوں ہاتھ، چہرہ اور دونوں کلائیاں بیان کیا کرتے تھے۔ تو ایک دن منصور رحمہ اللہ نے ان سے کہا: جو آپ کہتے ہیں اس میں غور کر لیجئے، کلائیوں کا ذکر آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں کرتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 325]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10362) (صحیح)» ‏‏‏‏ ( «‏‏‏‏المرفقين والذراعين» ‏‏‏‏ والا جملہ صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر: 326)
وضاحت: ۱؎: ذراع کا اطلاق بیچ کی انگلی کے سرے سے لے کر کہنی تک کے حصہ پر ہوتا ہے، یعنی مرفق اور ذراع دونوں کہنی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون المرفقين والذراعين
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ عَمَّارٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: فَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ إِلَى الْأَرْضِ فَتَمْسَحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمَّارًا يَخْطُبُ بِمِثْلِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَنْفُخْ، وَذَكَرَ حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ: ضَرَبَ بِكَفَّيْهِ إِلَى الْأَرْضِ وَنَفَخَ.
اس طریق سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بواسطہ عمار رضی اللہ عنہ اس حدیث میں مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مار کر انہیں اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں پر پھیر لینا تمہارے لیے کافی تھا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے حصین سے، حصین نے ابو مالک سے روایت کیا ہے، اس میں ہے: میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو اسی طرح خطبہ میں بیان کرتے ہوئے سنا ہے مگر اس میں انہوں نے کہا: پھونک نہیں ماری، اور حسین بن محمد نے شعبہ سے اور انہوں نے حکم سے روایت کی ہے، اس میں انہوں نے کہا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو مارا اور اس میں پھونک ماری۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 326]
ابن عبدالرحمن بن ابزی اپنے والد سے اور وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، اس حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں یہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے اور اپنے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کر لیتے۔ اور حدیث بیان کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس کو شعبہ نے حصین سے، انہوں نے ابو مالک سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو خطبے میں ایسے بیان کرتے سنا، مگر انہوں نے کہا پھونک نہیں ماری۔ اور حسین بن محمد نے شعبہ سے، انہوں نے حکم سے روایت کیا تو کہا: اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور پھونک ماری۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 326]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10362) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديثين السابقين

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں