سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب في آكل الربا وموكله
باب: سود کھانے اور کھلانے والے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 3333
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَشَاهِدَهُ، وَكَاتِبَهُ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سود کے لیے گواہ بننے والے اور اس کے کاتب (لکھنے والے) پر لعنت فرمائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3333]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”سود کھانے، کھلانے، اس کے گواہ اور لکھنے والے (سب) پر لعنت فرمائی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقات 19 (1597)، سنن الترمذی/البیوع 2 (1206)، سنن ابن ماجہ/التجارات 58 (2277)، (تحفة الأشراف: 9356)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطلاق 13 (3445)، مسند احمد (1/392، 394، 402، 453) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (1206 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (2277 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (1206 وسنده حسن) ورواه ابن ماجه (2277 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4168
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اس عورت پر جو دوسری عورت کے بال میں بال کو جوڑے، اور اس عورت پر اپنے بالوں میں اور بال جڑوائے، اور اس عورت پر دوسری عورت کا بدن گودے، اور نیل بھرے، اور اس عورت پر جو اپنا بدن گودوائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 4168]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ”اس عورت پر جو کسی کے بالوں میں بال جوڑے اور اس عورت پر جو یہ کام کروائے، اور اس عورت پر جو جسم گودے اور اس پر جو اپنا جسم گدوائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 4168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 83 (5937)، 85 (5940)، 87 (5947)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2124)، سنن الترمذی/اللباس 25 (1759)، الأدب 33 (2783)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 17 (5253)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1987)، (تحفة الأشراف: 8137)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/21) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بالوں میں اور بال ملا کر لمبے کرنا اور اپنا بدن گودوانا اور اس میں نیل بھرنا حرام ہے، اور جس کے بال جوڑے جائیں اور جو عورت بال جوڑے اور جو عورت اپنا بدن گودوائے اور نیل بھروائے اور جو عورت گودے اور نیل بھرے ان پر لعنت پڑتی ہے، اس لیے عورتوں کو ایسے کام کرنے اور کرانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5947) صحيح مسلم (2124)
حدیث نمبر: 4170
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ مِنْ غَيْرِ دَاءٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَتَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِي تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالنَّامِصَةُ الَّتِي تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تُرِقَّهُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالْوَاشِمَةُ الَّتِي تَجْعَلُ الْخِيلَانَ فِي وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ملعون قرار دی گئی ہے بال جوڑنے والی، اور جڑوانے والی، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے لگانے والی اور گودنے لگوانے والی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «واصلة» اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے، اور «مستوصلة» اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے، اور «نامصة» وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے، اور «متنمصة» وہ ہے جو ایسا کروائے، اور «واشمة» وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال (تل) بنائے، اور «مستوشمة» وہ ہے جو ایسا کروائے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 4170]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ”لعنت کی گئی ہے اس عورت پر جو بال جوڑے اور جڑوائے، جو چہرے کے بال اکھیڑے اور اکھڑوائے اور جو جسم گودے یا گدوائے بغیر کسی بیماری کے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ” «الْوَاصِلَةُ» سے مراد وہ عورت ہے جو دوسری عورتوں کے بال جوڑتی ہو اور «الْمُسْتَوْصِلَةُ» وہ ہے جو یہ کام کروائے، «النَّامِصَةُ» وہ ہے جو ابروؤں کے بالوں کو نوچتی اور انہیں باریک بناتی ہو اور «الْمُتَنَمِّصَةُ» وہ ہے جو یہ کام کروائے، «الْوَاشِمَةُ» وہ ہے جو چہرے کی جلد پر سرمے یا سیاہی سے تل وغیرہ بناتی ہو اور «الْمُسْتَوْشِمَةُ» وہ ہے جو یہ کام کرواتی ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 4170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6378) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن وھب عنعن
و لبعض الحديث شواھد صحيحة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن وھب عنعن
و لبعض الحديث شواھد صحيحة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148