سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب في الرجحان في الوزن والوزن بالأجر
باب: تول میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تولنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3337
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، الْمَعْنَى قَرِيبٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَفْوَانَ بْنِ عُمَيْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: يَزِنُ بِالْأَجْرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ قَيْسٌ، كَمَا قَالَ سُفْيَانُ، وَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ.
ابوصفوان بن عمیرۃ (یعنی سوید) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ آیا، پھر انہوں نے یہی حدیث بیان کی لیکن اجرت لے کر وزن کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے قیس نے بھی سفیان کی طرح بیان کیا ہے اور لائق اعتماد بات تو سفیان کی بات ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3337]
سیدنا ابوصفوان بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کرنے سے پہلے میں مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ مذکورہ بالا حدیث بیان کی، مگر اس میں ”مزدوری پر مال تولنے“ کا بیان نہیں ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس کو قیس نے (بھی) اسی طرح بیان کیا ہے جیسے کہ سفیان نے اور سفیان کا قول راجح ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4810) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3338
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ: خَالَفَكَ سُفْيَانَ، قَالَ: دَمَغْتَنِي، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، قَالَ: كُلُّ مَنْ خَالَفَ سُفْيَانَ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ.
ابورزمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شعبہ سے کہا: سفیان نے روایت میں آپ کی مخالفت کی ہے، آپ نے کہا: تم نے تو میرا دماغ چاٹ لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین کی یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی سفیان کی مخالفت کی تو لائق اعتماد بات سفیان کی بات ہو گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3338]
ابن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سنا کہ ایک شخص نے شعبہ رحمہ اللہ سے کہا کہ سفیان رحمہ اللہ نے آپ کی مخالفت کی ہے، تو انہوں نے کہا: ”تو نے مجھے بہت پریشان کیا ہے، حالانکہ مجھے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کی یہ بات پہنچی ہے کہ جو بھی سفیان کی مخالفت کرے، تو بات سفیان کی راجح ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی صحابی کا نام سوید بن قیس (جیسا کہ سفیان نے کہا ہے) زیادہ قابل اعتماد ہے بنسبت ابو صفوان بن عمیرۃ کے، لیکن اصحاب التراجم کا فیصلہ ہے کہ دونوں نام ایک ہی آدمی کے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3339
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ أَحْفَظَ مِنِّي.
شعبہ کہتے ہیں سفیان کا حافظہ مجھ سے زیادہ قوی تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3339]
شعبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ”سفیان مجھ سے زیادہ حافظ تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18808) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح