🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب في سرد الحديث
باب: جلدی جلدی حدیثیں بیان کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3655
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" أَلَا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ مِثْلَ سَرْدِكُمْ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر تعجب نہیں کہ وہ آئے اور میرے حجرے کے ایک جانب بیٹھے اور مجھے سنانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے لگے، میں نفل نماز پڑھ رہی تھی، تو وہ قبل اس کے کہ میں اپنی نماز سے فارغ ہوتی اٹھے (اور چلے گئے) اور اگر میں انہیں پاتی تو ان سے کہتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح جلدی جلدی باتیں نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3655]
سیدنا عروہ بن زبیر سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا تمہیں ابوہریرہ پر تعجب نہیں آتا کہ وہ آئے اور میرے حجرے کے پاس بیٹھ کر مجھے سنانے کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرنے لگے، جبکہ میں نوافل پڑھ رہی تھی، اور پھر میرے نماز مکمل کرنے سے پہلے ہی اٹھ کر چل دیے۔ اگر میں انہیں پاتی تو میں انہیں بتاتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرح تیز تیز باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الناقب 23 (3568تعلیقًا)، م فضائل الصحابة 35 (2493)، (تحفة الأشراف: 16698)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ المناقب 9 (2643)، مسند احمد (6/ 118، 157) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2493)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3654
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: جَلَسَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تُصَلِّي، فَجَعَلَ يَقُولُ:" اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ مَرَّتَيْنِ، فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا، قَالَتْ: أَلَا تَعْجَبُ إِلَى هَذَا وَحَدِيثِهِ؟ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُحَدِّثُ الْحَدِيثَ لَوْ شَاءَ الْعَادُّ أَنْ يُحْصِيَهُ أَحْصَاهُ".
عروہ کہتے ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے بغل میں بیٹھے تھے اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں تو وہ کہنے لگے: سن اے حجرے والی! دو بار یہ جملہ کہا، جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو کہنے لگیں: کیا تمہیں اس پر اور اس کی حدیث پر تعجب نہیں کہ وہ کیسے جلدی جلدی بیان کر رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کلام کرتے تو اگر شمار کرنے والا اسے شمار کرنا چاہتا تو شمار کر لیتا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاف صاف اور بالکل واضح انداز میں بات کرتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3654]
سیدنا عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پہلو میں بیٹھے جبکہ وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے حجرے والی! سنیے۔ دو بار کہا۔ جب انہوں نے اپنی نماز پوری کر لی تو کہا: کیا تمہیں اس شخص پر اور اس کی باتوں پر تعجب نہیں آتا، تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بات کرتے تو اگر کوئی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ) شمار کرنا چاہتا تو شمار کر سکتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 3654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المناقب 23 (3567)، (تحفة الأشراف: 16445)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الزہد 71 (2493) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3567) صحيح مسلم (2493)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4838
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا فِي الْمَسْجِدِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ:"كَانَ فِي كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْتِيلٌ أَوْ تَرْسِيلٌ".
مسعر کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں ایک بزرگ کو کہتے سنا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو میں ترتیل یا ترسیل ہوتی تھی یعنی آپ ٹھہر ٹھہر کر صاف صاف گفتگو کرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 4838]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو میں انتہائی ٹھہراؤ ہوتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 4838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3172) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الشيخ الراوي عن جابر رضي اللّٰه عنه : مجهول (عون المعبود 4 /409)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 168

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4839
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَحِمَهَا اللَّهُ، قَالَتْ:" كَانَ كَلَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَامًا فَصْلًا يَفْهَمُهُ كُلُّ مَنْ سَمِعَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ہر لفظ الگ الگ اور واضح ہوتا تھا، جو بھی اسے سنتا سمجھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 4839]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو اس قدر واضح ہوا کرتی تھی کہ ہر سننے والا اسے سمجھ لیتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب العلم /حدیث: 4839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/المناقب 9 (3639)، (تحفة الأشراف: 16406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/138، 257) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
تقدم طرفه الصحيح (3654)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں