سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب [ الدخول في الحمام ]
باب: حمام میں جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4009
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ دُخُولِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَيَازِرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمامات (غسل خانوں) میں داخل ہونے سے منع فرمایا، پھر آپ نے مردوں کو تہبند باندھ کر جانے کی رخصت دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4009]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حمامات (اجتماعی اور عوامی غسل خانوں) میں جانے سے منع فرمایا“، مگر بعد میں مردوں کو اجازت دے دی کہ ”چادر باندھ کر جا سکتے ہیں“ (دوسروں کے سامنے عریاں نہ ہوں)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 43 (2802)، سنن ابن ماجہ/الأدب 38 (3749)، (تحفة الأشراف: 17798)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/132، 139، 179) (ضعیف)» (سند میں ابوعذرہ مجہول راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4474)
أخرجه الترمذي (2802 وسنده حسن) وابن ماجه (3749 وسنده حسن) وقال الترمذي: ’’وإسناده ليس بذك القائم‘‘ ، و أبو عذرة: حسن الحديث، و السند قائم و الحمد للّٰه
مشكوة المصابيح (4474)
أخرجه الترمذي (2802 وسنده حسن) وابن ماجه (3749 وسنده حسن) وقال الترمذي: ’’وإسناده ليس بذك القائم‘‘ ، و أبو عذرة: حسن الحديث، و السند قائم و الحمد للّٰه
حدیث نمبر: 4011
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّهَا سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْعَجَمِ وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا الْحَمَّامَاتُ فَلَا يَدْخُلَنَّهَا الرِّجَالُ إِلَّا بِالْأُزُرِ وَامْنَعُوهَا النِّسَاءَ إِلَّا مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب عجم کی سر زمین تمہارے لیے فتح کر دی جائے گی اور اس میں تمہیں ایسے گھر ملیں گے جنہیں حمام کہا جائے گا تو اس میں مرد بغیر تہ بند کے داخل نہ ہوں اور عورتوں کو ان میں جانے سے روکو سوائے بیمار یا زچہ کے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4011]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے لیے عجم کے علاقے فتح ہوں گے اور تم وہاں ایسے گھروندے پاؤ گے جنہیں «الْحَمَّامَاتُ» ”حمامات“ کہا جاتا ہو گا۔ تو مرد ان میں ہرگز نہ جائیں الا یہ کہ چادریں باندھ کر (باپردہ ہو کر جائیں) اور عورتوں کو ان سے منع کرنا سوائے اس کے کہ کوئی بیمار ہو یا نفاس میں ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4011]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأدب 38 (3748)، (تحفة الأشراف: 8877) (ضعیف)» (عبدالرحمن بن زیاد بن انعم إفریقی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3748)
الإفريقي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3748)
الإفريقي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 143