🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب ما جاء في الفرق
باب: بال میں مانگ نکالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4188
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَعْنِي يَسْدِلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ فَسَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اہل کتاب اپنے بالوں کا «سدل» کرتے یعنی انہیں لٹکا ہوا چھوڑ دیتے تھے، اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن باتوں میں کوئی حکم نہ ملتا اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے اسی لیے آپ اپنی پیشانی کے بالوں کو لٹکا چھوڑ دیتے تھے پھر بعد میں آپ مانگ نکالنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4188]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل کتاب اپنے بالوں کو ایسے ہی سیدھا (پیچھے کی طرف) چھوڑ دیا کرتے تھے جبکہ مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جن امور میں کوئی حکم نہ دیا گیا ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں اہل کتاب کی موافقت کرنا پسند فرماتے تھے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال سیدھے رکھنے شروع کیے مگر بعد میں مانگ نکالنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4188]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المناقب 23 (3558)، ومناقب الأنصار 52 (3944)، واللباس 70 (5917)، صحیح مسلم/الفضائل 24 (2336)، سنن الترمذی/الشمائل 3 (29)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 7 (5240)، سنن ابن ماجہ/اللباس 36 (3632)، (تحفة الأشراف: 5836)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/246، 261، 287، 320) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5917) صحيح مسلم (2336)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4189
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كُنْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَفْرُقَ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَعْتُ الْفَرْقَ مِنْ يَافُوخِهِ وَأُرْسِلُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں مانگ نکالنی چاہتی تو سر کے بیچ سے نکالتی، اور پیشانی کے بالوں کو دونوں آنکھوں کے بیچ کی سیدھ سے آدھا ایک طرف اور آدھا دوسری طرف لٹکا دیا کرتی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4189]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں مانگ نکالنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بیچوں بیچ سے نکالتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی کے بالوں کو آپ کی آنکھوں کے سامنے لٹکاتی (یعنی پھر انہیں آدھو آدھ کر دیتی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16388)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90، 275) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4447)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں