🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب الأمر والنهى
باب: امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4340
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، وَقَطَعَ هَنَّادٌ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ وَفَّاهُ ابْنُ الْعَلَاءِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کوئی منکر دیکھے، اور اپنے ہاتھ سے اسے روک سکتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے، اگر وہ ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4340]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اور وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دینے اور اس کی اصلاح کی طاقت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ ہاتھ سے اس کی اصلاح کرے۔ ہناد نے یہ حدیث یہیں تک بیان کی، جبکہ ابن علاء نے بقیہ کو یوں پورا کیا: اگر یہ ہمت نہ ہو تو زبان سے روکے، اگر زبان سے روکنے کی ہمت نہ ہو تو پھر اپنے دل سے برا جانے اور یہ ایمان کی سب سے کمزور کیفیت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم:(1140)، (تحفة الأشراف: 4085) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (49)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1140
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ. ح وَعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ خَالَفْتَ السُّنَّةَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ فِيهِ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَقَالَ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى، مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مُنْكَرًا فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان عید کے روز منبر لے کر گئے اور نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! آپ نے خلاف سنت کام کیا ہے، ایک تو آپ عید کے روز منبر لے کر گئے حالانکہ اس دن منبر نہیں لے جایا جاتا تھا، دوسرے آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں بن فلاں ہے اس پر انہوں نے کہا: اس شخص نے اپنا حق ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو تم میں سے کوئی منکر دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مٹا سکے تو اپنے ہاتھ سے مٹائے اور اگر ہاتھ سے نہ ہو سکے تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا ادنی درجہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 1140]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مروان نے عید کے روز منبر نکلوایا اور نماز سے پہلے خطبہ دینا شروع کیا۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے مروان! تم نے سنت کی مخالفت کی ہے، عید کے روز منبر نکلوایا ہے جب کہ اس دن یہ نہ نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبے سے ابتدا کی ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ فلاں بن فلاں ہے۔ انہوں نے کہا: اس نے اپنا فریضہ ادا کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: (تم میں سے) جو کوئی برائی دیکھے اور اسے اپنے ہاتھ سے دور کر سکتا ہو تو ہاتھ سے دور کرے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے یہ کام کرے، اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 1140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن الترمذی/الفتن 11 (2172)، سنن النسائی/الإیمان 17 (5011، 5012)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 155 (1275)، (تحفة الأشراف: 4085)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/10، 20، 49، 52، 53، 54، 92)، وأعادہ المصنف فی الملاحم (4340) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (49)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں