سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب الحكم فيمن سب النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم۔
حدیث نمبر: 4362
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّى مَاتَتْ فَأَبْطَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَمَهَا".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، تو ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ دیا، یہاں تک کہ وہ مر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون باطل ٹھہرا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4362]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا الفاظ بولتی تھی۔ تو ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ دیا حتیٰ کہ وہ مر گئی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون ضائع قرار دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4362]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10150) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مغيرة عنعن و جرير ھو ابن عبدالحميد الضبي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
إسناده ضعيف
مغيرة عنعن و جرير ھو ابن عبدالحميد الضبي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
حدیث نمبر: 4361
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتَّلِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ،" أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيهِ فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتُمُهُ، فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ، فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا فَعَلَ مَا فَعَلَ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ إِلَّا قَامَ فَقَامَ الْأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا صَاحِبُهَا كَانَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ وَلِي مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ وَكَانَتْ بِي رَفِيقَةً فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيكَ فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ایک نابینا شخص کے پاس ایک ام ولد تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، وہ نابینا اسے روکتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، وہ اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی طرح باز نہیں آتی تھی حسب معمول ایک رات اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو شروع کی، اور آپ کو گالیاں دینے لگی، تو اس (اندھے) نے ایک چھری لی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا کر اسے ہلاک کر دیا، اس کے دونوں پاؤں کے درمیان اس کے پیٹ سے ایک بچہ گرا جس نے اس جگہ کو جہاں وہ تھی خون سے لت پت کر دیا، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حادثہ کا ذکر کیا گیا، آپ نے لوگوں کو اکٹھا کیا، اور فرمایا: ”جس نے یہ کیا ہے میں اس سے اللہ کا اور اپنے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہو جائے“ تو وہ اندھا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھاندتے اور ہانپتے کانپتے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، اور عرض کرنے لگا: اللہ کے رسول میں اس کا مولی ہوں، وہ آپ کو گالیاں دیتی اور آپ کی ہجو کیا کرتی تھی، میں اسے منع کرتا تھا لیکن وہ نہیں رکتی تھی، میں اسے جھڑکتا تھا لیکن وہ کسی صورت سے باز نہیں آتی تھی، میرے اس سے موتیوں کے مانند دو بچے ہیں، وہ مجھے بڑی محبوب تھی تو جب کل رات آئی حسب معمول وہ آپ کو گالیاں دینے لگی، اور ہجو کرنی شروع کی، میں نے ایک چھری اٹھائی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا، وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مار ہی ڈالا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! سنو تم گواہ رہنا کہ اس کا خون لغو ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4361]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا تھا، اس کی ایک «أُمُّ وَلَدٍ» (ایسی لونڈی جس سے اس کی اولاد ہو) تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکتی اور برا بھلا کہتی تھی۔ وہ اسے منع کرتا تھا مگر مانتی نہ تھی، وہ اسے ڈانٹتا تھا مگر سمجھتی نہ تھی۔ ایک رات وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بدگوئی کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے لگی تو اس نابینا نے ایک برچھا لیا، اسے اس لونڈی کے پیٹ پر رکھ کر اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا اور اس طرح اسے قتل کر ڈالا۔ اس لونڈی کے پاؤں میں ایک چھوٹا بچہ آ گیا اور اس نے اس جگہ کو خون سے لت پت کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قتل کا ذکر کیا گیا اور لوگ اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس آدمی کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، جس نے یہ کارروائی کی ہے اور میرا اس پر حق ہے کہ کھڑا ہو جائے۔“ تو وہ نابینا کھڑا ہو گیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، اس کے قدم لرز رہے تھے حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ بیٹھا اور بولا: ”اے اللہ کے رسول! میں اس کا قاتل ہوں۔ یہ آپ کو گالیاں بکتی اور برا بھلا کہتی تھی۔ میں اس کو منع کرتا تھا مگر باز نہ آتی تھی۔ میں اسے ڈانٹتا تھا، مگر سمجھتی نہ تھی۔ میرے اس سے دو بچے بھی ہیں جیسے کہ موتی ہوں اور وہ میرا بڑا اچھا ساتھ دینے والی تھی۔ گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی اور برا بھلا کہنے لگی تو میں نے چھرا لیا، اسے اس کے پیٹ پر رکھا اور اس پر اپنا بوجھ ڈال دیا حتیٰ کہ اس کو قتل کر ڈالا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! گواہ ہو جاؤ اس لونڈی کا خون ضائع ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4361]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المحاربة 13 (4075)، (تحفة الأشراف: 6155) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (4075 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (4075 وسنده صحيح)