سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب ما جاء في المحاربة
باب: اللہ و رسول سے محاربہ (جنگ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4369
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبِدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ،قَالَ أَحْمَدُ هُوَ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ" أَنَّ نَاسًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَاقُوهَا وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، قَالَ: وَنَزَلَتْ فِيهِمْ آيَةُ الْمُحَارَبَةِ، وَهُمُ الَّذِينَ أَخْبَرَ عَنْهُمْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْحَجَّاجَ حِينَ سَأَلَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کو لوٹ کر انہیں ہنکا لے گئے، اسلام سے مرتد ہو گئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن چرواہے کو قتل کر دیا، تو آپ نے ان کے تعاقب میں کچھ لوگوں کو بھیجا، وہ پکڑے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے، اور ان کی آنکھوں پر گرم سلائیاں پھیر دیں، انہیں لوگوں کے متعلق آیت محاربہ نازل ہوئی، اور انہیں لوگوں کے متعلق انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حجاج کو خبر دی تھی جس وقت اس نے آپ سے پوچھا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4369]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر ڈاکہ ڈالا اور انہیں ہانک لے گئے، اسلام سے مرتد ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کیا جو صاحبِ ایمان تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تعاقب کروایا اور انہیں پکڑ لیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیریں، کہا کہ ان ہی لوگوں کے معاملے میں آیتِ محاربہ ﴿إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ﴾ [سورة المائدة: 33] اتری اور یہی وہ لوگ تھے جن کے بارے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے حجاج بن یوسف کو بتایا تھا جب کہ اس نے ان سے یہ پوچھا تھا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المحاربة 7 (4046)، (تحفة الأشراف: 7275، 18898) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (4046)
أخرجه النسائي (4046)
حدیث نمبر: 4364
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ قَوْمًا مِنْ عُكْلٍ أَوْ قَالَ مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ" فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِقَاحٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا، فَانْطَلَقُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَمَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ حَتَّى جِيءَ بِهِمْ فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُطِعَتْ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسُمِرَ أَعْيُنُهُمْ وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلَا يُسْقَوْنَ"، قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: فَهَؤُلَاءِ قَوْمٌ سَرَقُوا وَقَتَلُوا وَكَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ وَحَارَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عکل، یا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو مدینہ کی آب و ہوا انہیں راس نہ آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دودھ والی چند اونٹنیاں دلوائیں، اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے پیشاب اور دودھ پئیں، وہ (اونٹنیاں لے کر) چلے گئے جب وہ صحت یاب ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا، اور اونٹ ہانک لے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح ہی صبح اس کی خبر مل گئی، چنانچہ آپ نے ان کے تعاقب میں لوگوں کو روانہ کیا، تو ابھی دن بھی اوپر نہیں چڑھنے پایا تھا کہ انہیں پکڑ کر لے آیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دئیے گئے، ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں، اور وہ گرم سیاہ پتھریلی زمین میں ڈال دیئے گئے، وہ پانی مانگتے تھے لیکن انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا، ابوقلابہ کہتے ہیں: ان لوگوں نے چوری کی تھی، قتل کیا تھا، ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تھے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4364]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل یا قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی (اور وہ بیمار ہو گئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو چند اونٹنیاں عنایت فرمائیں اور حکم دیا کہ ”وہ ان کا پیشاب اور دودھ پئیں۔“ چنانچہ وہ (باہر چراگاہ میں) چلے گئے۔ جب تندرست ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا اور جانور ہنکا لے گئے۔ دن کے پہلے پہر ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خبر مل گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے تعاقب میں اپنے آدمی بھیجے۔ جب دن خوب چڑھ آیا تو انہیں لے آیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق حکم دیا تو ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالے گئے۔ ان کی آنکھوں میں گرم لوہے کی سلاخیں پھیری گئیں اور پتھریلی زمین پر پھینک دیے گئے۔ وہ پانی مانگتے تھے مگر نہ دیا گیا۔ ابوقلابہ نے کہا: ”ان لوگوں نے چوری کی، قتل کیے، ایمان لانے کے بعد کفر کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔“ (یعنی ان کے ساتھ اس سخت ترین معاملے کی وجہ ان کے یہی قصور تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4364]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 66 (223)، الجہاد 152 (3018)، صحیح مسلم/القسامة 2 (1671)، الطب 6 (2042)، سنن النسائی/الطہارة 191 (306)، المحاربة 7 (4029)، (تحفة الأشراف: 945)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 55 (72)، الأطعمة 38 (1845)، مسند احمد (3 / 07 1، 177، 198، 205، 287) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (233) صحيح مسلم (1671)
حدیث نمبر: 4365
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ فِيهِ: فَأَمَرَ بِمَسَامِيرَ فَأُحْمِيَتْ فَكَحَلَهُمْ وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَمَا حَسَمَهُمْ.
اس سند سے بھی ایوب سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلائیوں کو گرم کرنے کا حکم دیا تو وہ گرم کی گئیں، پھر انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں پھیر دیں، ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ ڈالے، اور ان کو یکبارگی ہی نہیں مار ڈالا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4365]
جناب ایوب رضی اللہ عنہ نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلاخوں کا حکم دیا، انہیں گرم کیا گیا اور پھر ان کی آنکھوں میں پھیر دیا اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے اور انہیں داغ نہ دیا (کہ خون ہی بند ہو جائے اور انہیں یکدم قتل نہ کیا گیا)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 945) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4364)
انظر الحديث السابق (4364)