🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب في المجنون يسرق أو يصيب حدا
باب: دیوانہ اور پاگل چوری کرے یا حد کا ارتکاب کرے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4401
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَعْنَى عُثْمَانَ قَالَ: أَوَ مَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ حَتَّى يَفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، قَالَ: صَدَقْتَ قَالَ فَخَلَّى عَنْهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اسے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزارا گیا، آگے اسی طرح جیسے عثمان بن ابی شیبہ کی روایت کا مفہوم ہے، اس میں ہے: کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے: مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہو جائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے تو عمر رضی اللہ عنہ بولے: تم نے سچ کہا، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4401]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ اس عورت کو لے کر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور عثمان (عثمان بن ابی شیبہ) کی روایت (4399) کے ہم معنی بیان کیا، انہوں نے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: مجنون جس کی عقل مغلوب ہو حتیٰ کہ افاقہ پا جائے، اور سویا ہوا حتیٰ کہ جاگ جائے، اور بچہ حتیٰ کہ بالغ ہو جائے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے بجا کہا اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4401]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4399)، (تحفة الأشراف: 10196) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان بن مھران الأعمش مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 156

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4399
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أُتِيَ عُمَرُ بِمَجْنُونَةٍ قَدْ زَنَتْ فَاسْتَشَارَ فِيهَا أُنَاسًا فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ، مُرَّ بِهَا عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قَالُوا: مَجْنُونَةُ بَنِي فُلَانٍ زَنَتْ فَأَمَرَ بِهَا عُمَرُ أَنْ تُرْجَمَ، قَالَ: فَقَالَ ارْجِعُوا بِهَا ثُمَّ أَتَاهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَمَا بَالُ هَذِهِ؟ تُرْجَمُ، قَالَ: لَا شَيْءَ قَالَ: فَأَرْسِلْهَا قَالَ: فَأَرْسَلَهَا قَالَ: فَجَعَلَ يُكَبِّرُ"
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، آپ نے اس کے سلسلہ میں کچھ لوگوں سے مشورہ کیا، پھر آپ نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دے دیا، تو اسے لے کر لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے لوگوں سے پوچھا: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک پاگل عورت ہے جس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، عمر نے اسے رجم کئے جانے کا حکم دیا ہے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے واپس لے چلو، پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ قلم تین شخصوں سے اٹھا لیا گیا ہے: دیوانہ سے یہاں تک کہ اسے عقل آ جائے، سوئے ہوئے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے، اور بچہ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، کہا: کیوں نہیں؟ ضرور معلوم ہے، تو بولے: پھر یہ کیوں رجم کی جا رہی ہے؟ بولے: کوئی بات نہیں، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر اسے چھوڑیئے، تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اور لگے اللہ اکبر کہنے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4399]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک پاگل عورت لائی گئی جس نے زنا کیا تھا۔ تو انہوں نے اس کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا اور پھر حکم دیا کہ اسے سنگسار کر دیا جائے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس عورت کے پاس سے گزرے، انہوں نے پوچھا: اس کا کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ بنو فلاں کی پاگل عورت ہے اور اس نے زنا کیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا ہے کہ اسے سنگسار کر دیا جائے۔ تو انہوں نے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: اسے واپس لے جاؤ اور خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں چلے آئے اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا آپ نہیں جانتے کہ تین طرح کے آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: پاگل مجنون حتیٰ کہ صحت مند ہو جائے، سوئے ہوئے سے حتیٰ کہ جاگ جائے اور بچے سے حتیٰ کہ عقلمند (بالغ) ہو جائے۔ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ کہا: تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس مجنون عورت کو رجم کیا جانے لگا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (اب تو) اس پر کچھ نہیں ہو گا۔ کہا کہ: پھر اسے چھوڑ دیں۔ چنانچہ انہوں نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ اور راوی نے کہا کہ پھر وہ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ» اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے کہنے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4399]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10196)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الحدود 1 (عقیب 1423)، مسند احمد (1/155، 158) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کہ اللہ نے انہیں اس غلطی سے بچا لیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش مدلس وعنعن والموقوف عند ابن الجعد (مسند علي بن الجعد : 741) عن علي رضي اللّٰه عنه قال لعمر رضي اللّٰه عنه : ’’ أما بلغك أن القلم قد و ضع عن ثلاثة : عن المجنون حتي يفيق و عن الصبي حتي يعقل و عن النائم حتي يستيقظ ‘‘ وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں