🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب القسامة
باب: قسامہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4520
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ:" أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْكُبْرَ الْكُبْرَ، أَوْ قَالَ: لِيَبْدَإِ الْأَكْبَرُ، فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ، قَالُوا: أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ كَيْفَ نَحْلِفُ؟ قَالَ: فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ، قَالَ سَهْلٌ: دَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا"، قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَمَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ فِيهِ أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ بِشْرٌ دَمًا، وقَالَ عَبْدَةُ: عَنْ يَحْيَى، كَمَا قَالَ حَمَّادٌ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى، فَبَدَأَ بِقَوْلِهِ: تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا يَحْلِفُونَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الِاسْتِحْقَاقَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا وَهْمٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں (چلتے چلتے) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے، پھر عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو (اور انہیں گفتگو کا موقع دو) یا یوں فرمایا: بڑے کو پہلے بولنے دو چنانچہ ان دونوں (حویصہ اور محیصہ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کر دیا جائے ان لوگوں نے کہا: یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں؟ آپ نے فرمایا: پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے وہ بولے: اللہ کے رسول! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسموں کا کیا اعتبار؟) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی، سہل کہتے ہیں: ایک دن میں ان کے شتر خانے میں گیا، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے: کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو؟ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے، تو انہوں نے ابتداء «تبرئكم يهود بخمسين يمينا يحلفون» سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4520]
سیدنا سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل خیبر کی جانب روانہ ہوئے اور کھجوروں کے باغات میں جدا جدا ہو گئے۔ پس عبداللہ بن سہل کو قتل کر دیا گیا۔ سو انہوں نے (وہاں کے) یہودیوں پر الزام لگایا۔ پھر اس (مقتول) کا بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور اس کے چچا زاد حویصہ اور محیصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ عبدالرحمٰن اپنے بھائی کے معاملے میں بات کرنے لگا جبکہ وہ ان سب سے چھوٹا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔ یا فرمایا: پہلے بڑا بات شروع کرے۔ پھر ان دونوں نے اپنے بھائی کے بارے میں بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے پچاس آدمی ان کے کسی کے خلاف پچاس قسمیں کھائیں تو اس ملزم کی رسی تمہارے حوالے کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا: یہ ایسا معاملہ ہے جو ہم نے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تو ہم قسمیں کیسے کھائیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی پچاس قسمیں دے کر تم سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کافر لوگ ہیں۔ (ان کی قسموں کا کیا اعتبار؟) الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا فرمائی۔ سہل کہتے ہیں: میں ایک دن ان کے باڑے میں چلا گیا تو ان اونٹنیوں میں سے ایک نے مجھے لات دے ماری۔ حماد بن زید نے یہی یا اس کے قریب قریب بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے نقل کیا اور کہا: کیا تم لوگ پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ اپنے عزیز کے خون کے حقدار بن سکو؟ یا قاتل کے حقدار بن سکو؟ بشر نے خون کے حقدار بننے کا ذکر نہیں کیا۔ اور عبدہ نے بواسطہ یحییٰ وہی کہا ہے جیسے کہ حماد نے کہا۔ اور ابن عیینہ کی روایت جو یحییٰ سے ہے اس میں اس نے ابتدائی طور پر یوں کہا ہے: یہودی پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے۔ اور حقدار بننے کا ذکر نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ ابن عیینہ کا وہم ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلح 7 (2702)، الجزیة 12 (3173)، الأدب 89 (6143)، الدیات 22 (6898)، الأحکام 38 (7192)، صحیح مسلم/القسامة 1 (1669)، سنن الترمذی/الدیات 23 (1442)، سنن النسائی/القسامة 2 (4714)، سنن ابن ماجہ/الدیات 28 (2677)، (تحفة الأشراف: 4644، 15536)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القسامة 1 (1)، مسند احمد (4/2، 3)، سنن الدارمی/الدیات 2 (2398) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قسامہ یہ ہے کہ جب مقتول کی نعش کسی بستی یا محلہ میں ملے اور اس کا قاتل معلوم نہ ہو تو مقتول کے ورثہ کا جس پر گمان ہو اس پر پچاس قسمیں کھائیں کہ اس نے قتل کیا ہے اگر مقتول کے ورثہ قسم کھانے سے انکار کریں تو اہل محلہ میں سے جنہیں وہ اختیار کریں ان سے قسم لی جائے گی، اگر قسم کھا لیں تو ان پر کچھ مواخذہ نہیں، اور قسم نہ کھانے کی صورت میں وہ دیت دیں، اور اگر نہ مقتول کے ولی قسم کھائیں، اور نہ ہی بستی یا محلہ والے تو سرکاری خزانہ سے اس مقتول کی دیت ادا کی جائے گی، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6143) صحيح مسلم (1669)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1638
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ" يَعْنِي دِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي قُتِلَ بِخَيْبَرَ.
بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 1638]
سیدنا سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقہ کے اونٹوں سے دیت ادا کی تھی۔ یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 1638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الدیات 22 (6898)، صحیح مسلم/القسامة 1 (1669)، سنن النسائی/القسامة 2 (4714)، سنن ابن ماجہ/الدیات 28 (2677)، (تحفة الأشراف:4644، 15536، 15592) (صحیح) ویأتی ہذا الحدیث مفصلاً برقم (4520)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: شاید یہ غارمین (قرضداروں) کا حصہ ہو گا کیوں کہ دیت میں زکاۃ صرف نہیں ہو سکتی، ویسے اس سے معلوم ہوا کہ ایک شخص کو اس کی ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ دیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
متفق عليه رواه البخاري (6898) ومسلم (1669) وانظر الحديث الآتي (4523)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4521
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، هُوَ وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ:" أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ، فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبِّرْ كَبِّرْ، يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟ قَالُوا: لَا، قَالَ: فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ، قَالُوا: لَيْسُوا مُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، قَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ".
سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما کسی پریشانی کی وجہ سے جس سے وہ دو چار ہوئے خیبر کی طرف نکلے پھر کسی نے آ کر محیصہ کو خبر دی کہ عبداللہ بن سہل مار ڈالے گئے اور انہیں کسی کنویں یا چشمے میں ڈال دیا گیا، وہ (محیصہ) یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے: قسم اللہ کی! تم نے ہی انہیں قتل کیا ہے، وہ بولے: اللہ کی قسم ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل تینوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آئے، محیصہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کیونکہ وہی خیبر میں ساتھ تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کو بڑائی دو آپ کی مراد عمر میں بڑائی سے تھی چنانچہ حویصہ نے گفتگو کی، پھر محیصہ نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو یہ لوگ تمہارے آدمی کی دیت دیں، یا لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں پھر آپ نے اس سلسلے میں انہیں خط لکھا تو انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے، تو آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن سے پوچھا: کیا تم قسم کھاؤ گے کہ اپنے بھائی کے خون کا مستحق بن سکو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس پر آپ نے فرمایا: تو پھر یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے اس پر وہ کہنے لگے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی، اور سو اونٹ بھیج دیے گئے یہاں تک کہ وہ ان کے مکان میں داخل کر دیے گئے، سہل کہتے ہیں: انہیں میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4521]
سیدنا سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم کے بڑوں نے خبر دی کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ کو مالی مشکلات کا سامنا تھا تو وہ دونوں (محنت مزدوری کی تلاش میں) خیبر کی طرف نکل گئے۔ پھر محیصہ کو خبر دی گئی کہ عبداللہ بن سہل کو قتل کر کے ایک کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ تو وہ یہودیوں کے پاس گیا اور کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں ہی نے اس کو قتل کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! ہم نے اس کو قتل نہیں کیا۔ پھر وہ چلا آیا اور اپنی قوم کے پاس پہنچا اور ان کو سب بتایا۔ تو وہ اور اس کا بڑا بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) حاضر ہوئے۔ تو محیصہ بات کرنے لگا اور یہی تھا جو خیبر میں گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کا خیال کر۔ یعنی جو عمر میں بڑا ہے۔ پھر حویصہ نے بات کی۔ پھر محیصہ نے کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ تمہارے آدمی کی یا تو دیت دیں گے ورنہ جنگ کے تیار رہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تفصیل لکھ بھیجی۔ انہوں نے جواباً لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن سے فرمایا: کیا تم لوگ قسمیں کھاؤ گے کہ اپنے آدمی کے خون کے حقدار بن سکو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہارے مقابلے میں یہودی قسمیں کھائیں گے۔ ان لوگوں نے کہا: وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ (یعنی ان کی قسموں کا کیونکر اعتبار کریں؟) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا فرمائی اور سو اونٹنیاں ان کی طرف بھیج دیں حتیٰ کہ ان کے احاطے میں داخل کر دی گئیں۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات دے ماری تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 15536، 4644، 15592) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4520)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4523
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا، فَقَالُوا: مَا قَتَلْنَاهُ وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، فَانْطَلَقْنَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُمْ:" تَأْتُونِي بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ هَذَا، قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ، قَالُوا: لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ، فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ، فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ".
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا: تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے، وہ کہنے لگے: ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چنانچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے پاس گواہ نہیں ہے، اس پر آپ نے فرمایا: پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے وہ کہنے لگے: ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہو جائے چنانچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4523]
سیدنا سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ خیبر گئے اور وہاں جا کر علیحدہ علیحدہ ہو گئے۔ پھر انہوں نے اپنے میں سے ایک کو پایا کہ اسے قتل کر دیا گیا تھا، تو انہوں نے وہاں کے لوگوں سے کہا جہاں قتل ہوا تھا کہ تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ ہمیں اس کے قاتل کی خبر ہے۔ چنانچہ ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس کے قاتل کے متعلق گواہ پیش کرو۔ انہوں نے کہا: ہمارے پاس کوئی گواہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب وہ تمہارے جواب میں قسمیں کھائیں گے؟ انہوں نے کہا: ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ اس مقتول کا خون ضائع جائے تو صدقہ کے اونٹوں میں سے اس کی دیت سو اونٹنیاں ادا فرما دیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (4520)، (تحفة الأشراف: 4644، 15536، 15592) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6898) صحيح مسلم (1669)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4524
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ مَقْتُولًا بِخَيْبَرَ، فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنَّمَا هُمْ يَهُودُ وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، قَالَ: فَاخْتَارُوا مِنْهُمْ خَمْسِينَ فَاسْتَحْلَفُوهُمْ، فَأَبَوْا، فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل کر دیا گیا، تو اس کے وارثین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے مقتول ہو جانے کی گواہی دیں؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہاں پر تو مسلمانوں میں سے کوئی نہیں تھا، وہ تو سب کے سب یہودی ہیں اور وہ اس سے بڑے جرم کی بھی جرات کر لیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں پچاس افراد منتخب کر کے ان سے قسم لے لو لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے، تو آپ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4524]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انصاریوں کا ایک آدمی خیبر میں قتل ہو گیا، تو اس کے وارث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گئے اور اس مقتول کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے اس ساتھی کے قتل کے متعلق گواہی دیں؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہاں مسلمانوں میں سے کوئی بھی نہ تھا، اور وہ لوگ یہودی ہیں، وہ اس سے بھی بڑی باتوں کی جرأت کر سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں سے پچاس آدمیوں کو منتخب کر لو اور ان سے قسمیں لے لو۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3564) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3532)
وللحديث شواھد كثيرة جدًا منھا الحديث السابق (4523)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4525
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، قَالَ: إِنَّ سَهْلًا وَاللَّهِ أَوْهَمَ الْحَدِيثَ،" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى يَهُودَ أَنَّهُ قَدْ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَتِيلٌ فَدُوهُ، فَكَتَبُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا قَتَلْنَاهُ وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةِ نَاقَةٍ".
عبدالرحمٰن بن بجید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم، سہل کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ہم اللہ کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے، وہ کہتے ہیں: اس پر اس کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹ (خود) ادا کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4525]
سیدنا عبدالرحمٰن بن بجید رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! بیشک سہل کو اس حدیث (کے بیان کرنے) میں وہم ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو یہ لکھا تھا کہ بلاشبہ تم میں مقتول پایا گیا ہے، لہٰذا اس کی دیت ادا کرو۔ تو انہوں نے لکھا اور (اپنی تحریر میں) اللہ کے نام کی پچاس قسمیں کھائیں کہ ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ ہمیں قاتل کا کوئی علم ہے۔ انہوں نے کہا: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت ایک سو اونٹنیاں اپنی طرف سے ادا فرما دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (4520)، (تحفة الأشراف: 9686) (منکر)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں