🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في الخلفاء
باب: خلفاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4632
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: مُحَمَّدٌ كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ ظُلَّةً يَنْطِفُ مِنْهَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ، فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَأَرَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَعَلَا بِهِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي وَأُمِّي لَتَدَعَنِّي فَلَأُعَبِّرَنَّهَا، فَقَالَ: اعْبُرْهَا، قَالَ: أَمَّا الظُّلَّةُ: فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا مَا يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ: فَهُوَ الْقُرْآنُ لِينُهُ وَحَلَاوَتُهُ، وَأَمَّا الْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ: فَهُوَ الْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْهُ، وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ: فَهُوَ الْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ؟ فَقَالَ: أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقْسِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور شخص نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر اسے جوڑا گیا، تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تعبیر بیان کرو وہ بولے: بادل کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے، اور ٹپکنے والے گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت (شیرینی) اور نرمی مراد ہے، کم اور زیادہ لینے والوں سے مراد قرآن کو کم یا زیادہ حاصل کرنے والے لوگ ہیں، آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ ہیں، آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں، اللہ آپ کو اٹھا لے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا، پھر ایک اور شخص پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا، پھر اسے ایک اور شخص پکڑے گا، تو وہ ٹوٹ جائے گی تو اسے جوڑا جائے گا، پھر وہ بھی اٹھ جائے گا، اللہ کے رسول! آپ مجھے بتائیے کہ میں نے صحیح کہا یا غلط، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ صحیح کہا اور کچھ غلط کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ دلاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4632]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ ایک بادل سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے۔ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنی ہتھیلیاں پھیلائے ہوئے تھے، تو کچھ نے ان سے خوب خوب لیا اور کچھ نے کم لیا۔ اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اے اللہ کے رسول! آپ کو دیکھا کہ آپ نے اس کو پکڑا ہے اور اوپر چڑھ گئے ہیں۔ پھر ایک دوسرے آدمی نے اسے پکڑا وہ بھی اوپر چڑھ گیا۔ پھر ایک اور آدمی نے اسے پکڑا اور اوپر چڑھ گیا۔ پھر ایک اور آدمی نے اسے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی۔ پھر جوڑ دی گئی تو وہ اوپر چڑھ گیا۔ پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی تعبیر عرض کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی تعبیر بیان کرو۔ تو انہوں نے کہا: وہ بادل، اسلام کا سایہ ہے اور اس سے ٹپکنے والا گھی اور شہد، قرآن کی ملائمت اور شیرینی ہے۔ زیادہ یا کم لینے والے، تو وہ وہی ہیں جو قرآن سے اپنا حصہ زیادہ لے رہے ہیں یا کم۔ اور آسمان سے لٹکنے والی رسی، وہی حق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ نے اسے پکڑا ہے تو اللہ آپ کو بلند فرمائے گا۔ پھر آپ کے بعد ایک آدمی پکڑے گا اور اس کے ذریعے سے اوپر چڑھ جائے گا۔ اس کے بعد دوسرا آدمی پکڑے گا تو وہ بھی اوپر چڑھ جائے گا۔ پھر تیسرا آدمی پکڑے گا تو وہ ٹوٹ جائے گی، پھر اسے اس کی خاطر جوڑ دیا جائے گا۔ تو پھر وہ اوپر چڑھ جائے گا۔ اے اللہ کے رسول! مجھے ضرور بتائیں کہ میں نے درست کہا ہے یا غلط؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کچھ درست کہا ہے اور کچھ میں غلطی کی ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دے کر کہتا ہوں مجھے ضرور بتائیں کہ میں نے کیا غلطی کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم مت دو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3268)، (تحفة الأشراف: 13575) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7046) صحيح مسلم (2269)
انظر الحديث السابق (3268)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3268
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ يَحْيَى: كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ، فَذَكَرَ رُؤْيَا، فَعَبَّرَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقْسِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کچھ تعبیر درست بیان کی ہے اور کچھ میں تم غلطی کر گئے ہو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے آپ پر اے اللہ کے رسول! میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں ضرور بتائیں میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم مت دلاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 3268]
جناب ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: بے شک میں نے آج رات خواب دیکھا ہے، اور پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا۔ اور پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعبیر کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کچھ میں درست کہا ہے اور کچھ میں خطا کی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو قسم دیتا ہوں، میرا باپ آپ پر فدا ہو! آپ مجھے ضرور بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم مت دو۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 3268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الرؤیا 9 (2293)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 10 (3918)، (تحفة الأشراف: 2293، 1375)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر 47 (7046)، صحیح مسلم/الرؤیا 3 (2269)، سنن الدارمی/الرؤیا 13 (2202) ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (4632) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7000) صحيح مسلم (2269)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں