سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب الدليل على زيادة الإيمان ونقصانه
باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 4689
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زانی زنا کے وقت مومن نہیں رہتا، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا (یعنی ایمان اس سے جدا ہو جاتا ہے پھر بعد میں واپس آ جاتا ہے) توبہ کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا ہوا ہے“ (یعنی اگر توبہ کر لے تو توبہ قبول ہو جائے گی اللہ بخشنے والا ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4689]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدکار زانی جس وقت زنا کر رہا ہو، ایماندار نہیں ہوتا، چور جس وقت چوری کر رہا ہو، ایمان والا نہیں ہوتا اور شرابی جب شراب پی رہا ہو، مومن نہیں ہوتا، اس کے بعد توبہ اس کے سامنے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 30 (2475)، الأشربة 1 (5578)، الحدود 1 (6772)، صحیح مسلم/الإیمان 23 (57)، سنن الترمذی/الإیمان 11 (2625)، سنن النسائی/قطع السارق 1 (4874)، الأشربة 42 (5662، 5663)، (تحفة الأشراف: 14863، 12489)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأشربة 11 (2152)، الأضاحی 23 (2037) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6810) صحيح مسلم (57)
حدیث نمبر: 4690
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بإِذَا زَنَى الرَّجُلُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ كَانَ عَلَيْهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذَا انْقَطَعَ رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس کے اوپر لٹکا رہتا ہے، پھر جب زنا سے الگ ہوتا ہے تو دوبارہ ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4690]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جب زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور اس کے اوپر چھتری کی مانند ہو جاتا ہے، پس جب وہ اپنی بدکاری سے نکل آتا ہے تو ایمان اس کی طرف واپس آ جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13079) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (60)
مشكوة المصابيح (60)