🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب الدليل على زيادة الإيمان ونقصانه
باب: ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4690
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بإِذَا زَنَى الرَّجُلُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ كَانَ عَلَيْهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذَا انْقَطَعَ رَجَعَ إِلَيْهِ الْإِيمَانُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس کے اوپر لٹکا رہتا ہے، پھر جب زنا سے الگ ہوتا ہے تو دوبارہ ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4690]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جب زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور اس کے اوپر چھتری کی مانند ہو جاتا ہے، پس جب وہ اپنی بدکاری سے نکل آتا ہے تو ایمان اس کی طرف واپس آ جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13079) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (60)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
ثقة مكثر
👤←👥نافع بن يزيد الكلاعي، أبو يزيد
Newنافع بن يزيد الكلاعي ← يزيد بن الهاد الليثي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي مريم الجمحي، أبو محمد
Newسعيد بن أبي مريم الجمحي ← نافع بن يزيد الكلاعي
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن سويد البلوي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن سويد البلوي ← سعيد بن أبي مريم الجمحي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4690
إذا زنى الرجل خرج منه الإيمان كان عليه كالظلة فإذا انقطع رجع إليه الإيمان
مشكوة المصابيح
60
إذا زنى العبد خرج منه الإيمان فكان فوق راسه كالظلة فإذا خرج من ذلك العمل عاد إليه الايمان
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4690 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4690
فوائد ومسائل:
ان احادیث میں مذکورہ افعال بد کی شناعت اور برائی اور ان کے مرتکب کی بد بختی کا بیان ہے جو کسی بھی ایماندارکےشایان شان نہیں۔
بالفرض ایسا آدمی اگر اسی حالت میں مر جائے تو غور کریں وہ کس حال میں مرا۔
فرقہ خوارج نے اس کےمعنی سمجھے ہیں۔
ایسا آدمی ایمان سے خارج اور حتمی طور پر کافر ہو جاتا ہے، مگر ان احادیث میں اس انتہا پسند انہ موقف اور غلو کی تردید ہوتی ہے۔
اہل السنتہ والجماعۃ کے نزدیک یہ اعمال کفر یہ ہیں، مگر قطی طور پر ملت سے اخراج کا سبب نہیں جانتے جس وقت کوئی ایسے اعمال میں مبتلا نہیں ہوتا اس وقت وہ کافر نہیں ہوتا، بلکہ اگر وہ توبہ کرلے تو ایمان کی کمی یا عارضی طور پر ایمان کی نفی کیفیت سے نکل آتا ہے، جسے کہ (کفر دون کفر) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
یعنی بڑے کفر سے چھوٹا کفر۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4690]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث مشكوة المصابيح 60
ایمان کی بنیاد
«. . . ‏‏‏‏وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا زَنَى الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْهُ الْإِيمَانُ فَكَانَ فَوْقَ رَأْسِهِ كَالظُّلَّةِ فَإِذا خرج من ذَلِك الْعَمَل عَاد إِلَيْهِ الايمان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد . . .»
. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل کر اس کے سر پر سایہ کی طرح قائم رہتا ہے جب وہ اس برے کام سے فارغ ہو جاتا ہے تو اس کا ایمان پھر لوٹ آتا ہے۔ اس حدیث کو ابوداؤد و ترمذی نے روایت کیا ہے۔ . . . [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْإِيمَانِ/0: 60]
تحقیق الحدیث:
اس کی سند صحیح ہے۔
اسے ابوداود [4690] اور ترمذی بعد ح [2625] معلقاً بغیر سند روایت کیا ہے۔
اسے ابن مندہ [الايمان: 519] اور حاکم [1؍22 ح56] نے «سعيد بن ابي سعيد المقبري عن ابي هريره رضي الله عنه» کی سند سے روایت کیا ہے۔
اسے حاکم اور ذہبی دونوں نے صحیح بخاری و صحیح مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے۔

فقہ الحدیث:
➊ ایمان کے مختلف درجے ہیں۔
➋ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے مسلمان کافر نہیں ہوتا۔
➌ یہ حدیث خوارج پر رد ہے۔
[اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 60]

Sunan Abi Dawud Hadith 4690 in Urdu